صادق سنجرانی سینیٹ کے چیئرمین اور مرزا محمد آفریدی ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوگئے

  • جمعہ 12 / مارچ / 2021
  • 4190

پاکستانی سینیٹ کے چیئرمین کا انتخاب حکومتی اتحاد کے امیدوار صادق سنجرانی اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب مرزا محمد آفریدی نے جیت لیا ہے۔

صادق سنجرانی نے اپنے مدِ مقابل حزبِ اختلاف کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی جب کہ مرزا محمد آفریدی نے عبد الغفور حیدری کو شکست دی۔ چیئرمین کے انتخاب کے لیے پریذائیڈنگ افسر سید مظفر حسین شاہ کی زیرِ صدارت سینیٹ اجلاس کے دوران جمعے کو ووٹنگ کا عمل ہوا جس میں 98 ارکان نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

پریذائیڈنگ افسر نے اعلان کیا کہ صادق سنجرانی نے 48 اور یوسف رضا گیلانی نے 42 ووٹ حاصل کیے جب کہ آٹھ ووٹ مسترد ہوئے۔  پریذائیڈنگ افسر کے مطابق یوسف رضا گیلانی کو ڈالے گئے سات ووٹ مسترد ہوئے جنہیں بیلٹ پیپر پر موجود دائرے کے بجائے نام پر مہر لگانے پر مسترد کیا گیا جب کہ ایک ووٹ پر دونوں امیدواروں کے ناموں پر مہر لگائی گئی تھی۔

فاروق ایچ نائیک نے ووٹوں کو مسترد کیے جانے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ جس مہر کی بات کی جارہی ہے وہ خانے کے اندر ہی لگی ہے۔ تاہم پریذائیڈنگ افسر نے فاروق ایچ نائیک کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے صادق سنجرانی کی کامیابی کا اعلان کیا۔

بعد ازاں نو منتخب چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی صدارت میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ اس انتخاب میں حکومتی اتحاد کے امیدوار مرزا محمد آفریدی 54 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ جب کہ حزبِ اختلاف کے امیدوار مولانا عبد الغفور حیدری کو 44 ووٹ ملے۔

سینیٹ کے ارکان کی تعداد 100 ہے جن میں حکومتی اتحاد کے پاس 47 اور اپوزیشن اتحاد کے پاس 51 ووٹ تھے۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے ووٹ نہیں ڈالا جب کہ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اسحاق ڈار نے اب تک حلف نہیں اٹھایا اور وہ بیرونِ ملک  ہیں جس کی وجہ سے ان کا ووٹ نہیں تھا۔

پاکستان کے آئین کے مطابق چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب خفیہ بیلٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔ لیکن ایوان میں اس وقت دلچسپ صورتِ حال سامنے آئی جب اپوزیشن کے ارکان نے پولنگ بوتھ اور ہال میں خفیہ کیمروں کی موجودگی کا انکشاف کیا۔ سینیٹ کے نئے منتخب ہونے والے 48 ارکان کی حلف برداری سے قبل مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مصدق ملک اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اسمبلی ہال میں موجود پولنگ بوتھ میں لگے مبینہ کیمروں پر احتجاج کرتے ہوئے بوتھ کو توڑ دیا۔

حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ایک دوسرے پر سینیٹ ہال میں کیمرے لگانے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیرِ اطلاعات شبلی فراز نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولنگ بوتھ میں لگے کیمروں کی تحقیقات ہونی چاہیے۔  انہوں نے کہا کہ "ہم تہہ تک جائیں گے کہ یہ کیمرے کس نے لگائے اور اپوزیشن کو بے نقاب کریں گے۔"

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سینیٹ ہال میں کیمروں کے برآمد ہونے کے معاملے پر حکمراں جماعت اور اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مریم نواز نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ "آر ٹی ایس اور ڈسکہ دھند کے بعد سینیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے آخری جنگ ہار چکے ہیں۔ سپریم کورٹ سے منہ کی کھائی، آئینی ترمیم میں ناکام رہے، صدارتی آرڈیننس ردی کا ٹکڑا بن گیا تو خفیہ کیمروں والے مستری لے آئے۔ آئین میں خفیہ ووٹ کا ذکر ہے خفیہ کیمروں کا نہیں"

لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ملک کے انٹیلی جنس اداروں کو استعمال کر کے سینیٹ کا الیکشن چوری کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کوشش اس سے پہلے بھی کی گئی تھی۔ آج عوام پوچھ رہے ہیں کہ سینیٹ کے الیکشن میں کیمرے کس نے لگائے۔ پارلیمنٹ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فلم عوام کے سامنے رکھی جائے جس کے بعد عیاں ہو جائے گا کہ کیمرے کس نے لگائے۔

حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے پارلیمںٹ ہاؤس میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست کی ہے۔  لیگی رہنما احسن اقبال نے اپنے ایک ٹوئٹ میں درخواست کی کاپی شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے کیمروں کی گزشتہ 24 گھنٹوں کی فوٹیج کو محفوظ بنایا جائے تاکہ خفیہ کیمرے لگانے والے ملزمان کا پتا لگایا جا سکے۔

پریزائیڈنگ افسر سید مظفر شاہ نے پولنگ بوتھ سے کیمرے برآمد ہونے کے معاملے کی تحقیقات کے لیے چھ رکنی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ خفیہ کیمروں کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی ہاؤس کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کے تین تین سینیٹرز شامل ہوں گے۔