پنجاب کی سیاسی جنگ

قومی سیاست میں سیاسی برتری کے لیے ہمیشہ سے پنجاب میں بالادستی کی اہمیت رہی ہے۔ ایک بنیادی نکتہ ہمیشہ موجودرہا ہے کہ جو بھی جماعت پنجاب میں سیاسی بالادستی حاصل کرے گی وہی قومی سیاست کے معاملات میں فوقیت حاصل کرلے گا۔

اسی لیے سیاسی بڑی سیاسی جماعتوں کی ساری سیاسی جنگ ہمیں پنجاب کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔موجودہ  صورتحال میں ایک دفعہ پھر پنجاب کی سیاست میں کافی گرم جوشی  دیکھنے کو مل رہی ہے۔ پی ڈی ایم جو حکومت مخالف اتحاد ہے اس نے اپنی نئی سیاسی حکمت عملی میں پنجاب کو بنیاد بنا کر پنجاب کی حکومت  تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی ڈی ایم کے اہم رہنما آصف علی زرداری کے بقول ہمیں مرکزی حکومت کے خاتمہ سے قبل پنجاب کی حکومت کا خاتمہ کرنا ہوگا او راسی بنیاد پر عمران خان کی حکومت سیاسی طور پر کمزور بھی ہوگی او ران کی  رخصتی بھی ممکن ہوسکے گی۔

پنجاب میں تبدیلی کے حوالے سے پچھلے تین برس میں کئی سیاسی اور صحافتی تجزیہ نگاروں نے وزیر اعلی عثمان بزدار کی تبدیلی کی تواتر سے خبریں پیش کیں  مگر وزیر اعلی عثمان بزدار بددستور اقتدار پر موجود ہیں۔ ایک بار پھر سیاسی پنڈت بڑی شدت سے خبریں دے رہے ہیں کہ خود وزیر اعظم نے وزیر اعلی عثمان بزدار کی تبدیلی کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔ پی ڈی ایم کی حکمت عملی میں بھی  عثمان بزدار کی حکومت کا خاتمہ ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ڈی ایم کے پاس تین آپشن موجود ہیں۔  مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق کی مدد سے پی ٹی آئی کے مقابلے میں اپنی حکومت بنانے کی کوشش۔دوئم، اس کھیل میں پی ٹی آئی کے اندر سے ایک باغی یا فاورڈ بلاک سامنے لایا جائے جو پی ڈی ایم کی کھل کر حمایت کرے۔سوئم  وزیر اعلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد  کامیاب کروائی جائے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وزیر اعلی عثمان بزدار پر پارٹی کے اندر بھی تحفظات رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کا ایک گروپ  چاہتا ہے کہ ان کی جگہ ایک مضبوط وزیراعلی لایا جائے۔ لیکن وزیر اعظم عمران خان کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال  میں پہلے سے موجود مختلف گروپ بندیوں یا وزارت اعلی کے امیدواروں کی موجودگی میں وزیر اعلی کی تبدیلی  ان کے لیے اور زیاد ہ سیاسی مشکلات پیدا کرے گی۔وزیر اعظم عمران خان بنیادی طور پر مرکز سے بیٹھ کر پنجاب میں حکومت کو چلانے کی کوشش کررہے ہیں اور ایک کمزور وزیر اعلی ہی ان کی ضرورت  ہے۔اگرچہ پنجاب جہاں پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ چیلنج اگر کسی جماعت سے ہے تو وہ مسلم لیگ ن ہی ہے۔ ایسے میں وہ ایک مضبوط وزیر اعلی کی مدد  سے مسلم لیگ ن کو سیاسی طور پر کمزور کرسکتے تھے مگر ان کی حکمت عملی اس کے برعکس ہے۔اس لیے فوری طور پروزیر اعلی کی تبدیلی مشکل نظر آتی ہے اور اگر ان کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو نئے وزیر اعلی کے نام پر نیا سیاسی پنڈورا کھل سکتا ہے جو پارٹی کے مفاد میں نہیں۔

پی ڈی ایم  پنجاب میں تبدیلی چاہتی ہے ان کے سامنے ایک نکتہ چوہدری برادران ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر چوہدری برادران پنجاب میں سیاسی تبدیلی کے لیے پی ڈی ایم  کا ساتھ دیتے ہیں تو اس کے عوض ان کو کیا ملے گا۔ کیا پی ڈی ایم اور بالخصوص مسلم لیگ ن چاہے گی کہ پنجاب میں چوہدری پرویز الہی جیسا مضبوط  وزیر اعلی بن جائے۔  مسلم لیگ ن کو ڈر ہے کہ پرویز الہی کو وزیر اعلی کے طور پر قبول کرنا ان کی اپنی جماعت کے لیے سیاسی خود کشی ہوگی۔ پرویز الہی وزیر اعلی بنتے ہیں تو ایسی صورت میں مسلم لیگ ق دوبارہ پنجاب میں اپنے قدم جماسکتی ہے۔اس کے برعکس اگر وزیر اعلی مسلم لیگ ن سے آنا ہے تو کیوں مسلم لیگ ق اس کھیل میں ان کا ساتھ دے گی۔مریم نواز کہہ چکی ہیں کہ پنجاب ان کا ہے اور مستقبل میں بھی ان ہی کا رہے گا۔ چوہدری برادران کو ماضی میں مسلم لیگ ن کے ساتھ سیاسی معاملات کا کافی تلخ تجربہ ہے اور وہ بھی مسلم لیگ ن پر بہت زیادہ آسانی میں اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔

 اس لیے جو لوگ بھی چوہدری برادران کی بنیاد  پر پنجاب کو سیاسی طور پر فتح کرنا چاہتے ہیں اس کا امکان کم ہے۔اسی طرح مسلم لیگ ن کبھی کسی ایسے فارمولاکی حمایت کرے گی کہ عثمان بزدار کو تبدیل کرکے پی ٹی آئی یہاں ایک مضبوط وزیر اعلی لائے۔کیونکہ مسلم لیگ ن کا تو سیاسی بیانیہ یہ ہی ہے کہ موجودہ کمزور او رنالایق وزیر اعلی کی موجودگی میں مسلم لیگ ن بدستور ایک بڑی سیاسی طاقت کے طور پر موجود ہے۔مسلم لیگ ن ایک ایسے کھیل کو ہی مدد دے سکتی ہے جس کے نتیجے میں دوبارہ پنجاب کا اقتدار ان کی جماعت کو ملے۔یہ خبریں بھی موجود ہیں کہ مسلم لیگ ن پی ٹی آئی کے بعض لوگوں کو اگلے انتخابات کی ٹکٹ کی یقین دہانی پر فاورڈ بلاک بھی بنانا چاہتی ہے تاکہ اس عمل سے پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر کمزور کیا جاسکے۔

 اس ساری سیاسی مہم جوئی میں چوہدری برادران کو کافی فائدہ ہوا اور پی ٹی آئی کو بھی احساس ہوا ہے کہ چوہدری برادران اہم ہیں او ران کی مدد  سے ہی مرکز او رپنجاب میں حکومت چلائی جاسکتی ہے۔ چوہدری برادران نے کمال ہوشیاری سے اپنے سیاسی کارڈ کھیلے ہیں اور دونوں فریقوں یعنی حکومت او رپی ڈی ایم کو اپنی اہمیت کا احساس دلایا ہے۔مسلم لیگ ن میں یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی بلاوجہ پنجاب کو فوقیت دے کر ان کی سیاست کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔کیونکہ چوہدری برادران او رآصف زرداری کے درمیان بھی بہت اچھا تعلق ہے اور دونوں پنجاب میں اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں۔ اسی طرح پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور شریف خاندان سمجھتا ہے کہ ہمیں اپنی ساری توجہ پی ٹی آئی کی مرکزی حکومت یا عمران خان پر لگانی چاہیے او رپنجاب کو بنیاد بنانے پر ان دونوں جماعتوں میں پیپلز پارٹی یا زرداری کارڈ پر تحفظات بھی موجود ہیں۔

اس وقت اگرچہ مسلم لیگ ن کا بڑا حریف پی ٹی آئی ہے اور وہ اسے ہر صورت میں پنجاب سے  نکالنا چاہتے ہیں۔کچھ لوگ مسلم لیگ ن میں یہ تجویز بھی رکھتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کو دوبارہ ایک کردیا جائے تاکہ وہ ایک بڑی طاقت کے طور پر پنجاب پر بالادست ہوں۔ لیکن اس صورت میں بھی چوہدری برادران کو مرکز یا پنجاب میں کیا ملے گاجو وہ اپنی جماعت کو مسلم لیگ ن میں ضم کردیں۔اس لیے یہ تجویز بھی عملی بنیادوں پر ممکن نظر نہیں آتی۔بظاہر یہ لگتا ہے کہ حالیہ مہم جوئی جو پی ڈی ایم کی پنجاب میں دیکھنے کو مل رہی ہے اس کا ایک بڑا مقصد وزیر اعظم عمران خان پر زیادہ سے زیادہ سیاسی دباؤ بڑھانا ہے یا آصف علی زرداری کمال ہوشیاری سے اس پنجاب کو بنیاد بنا کر مسلم لیگ ن او رجے یو آئی کوان معاملات میں الجھا کر مرکزی مزاحمت سے روکنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ فی الحال پیپلزپارٹی کسی بھی صورت میں مرکز میں عمران خان حکومت کے خاتمہ پر سنجیدہ نہیں  ہے۔ان کو پتہ ہے کہ ایسی صورت میں ان کو سندھ حکومت کی بھی قربانی دینی پڑے گی جو ان کو قبول نہیں۔اس لیے پنجاب کی موجودہ سیاسی مہم جوئی میں کچھ نئے ہونے کے امکانات محدود ہیں اور فوری طور پر بڑی تبدیلی ممکن نہیں۔