مسترد شدہ ووٹوں کا معاملہ: فیصلہ سپریم کورٹ میں ہوگا
- تحریر بی بی سی اردو
- ہفتہ 13 / مارچ / 2021
- 6570
جمعہ کو سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کے فیصلے پر ہونے والے تنازعہ پر مختلف آرا سامنے آرہی ہیں۔ بعض لوگ اسے غلط فیصلہ قرار دے رہے ہیں اور اپوزیشن یہ معاملہ سپریم کورٹ لے جانا چاہتی ہے۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ پارلیمانی معاملات عدالت مین چیلنج نہیں ہوسکتے۔
جمہوری نظام میں شفافیت اور قانون سازی کے حوالے سے قائم ادارے پلڈاٹ کی آسیہ ریاض نے اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پریزائڈنگ آفیسر مظفر حسین شاہ کا فیصلہ سمجھنا کافی مشکل ہے اور عمومی طور پر اسے نا انصافی سمجھا جارہا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پریذائڈنگ آفیسر کی ہدایات کی جس طرح انہوں نے ترجمانی کی، وہ سمجھنا بہت مشکل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 'میرے خیال میں انہوں نے صحیح فیصلہ نہیں دیا'۔
سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے سات ووٹوں کو مسترد کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی جانب سے ووٹ مسترد نہ کرنے کے حق میں پیش کیے گئے دلائل میں وزن تھا۔ دریں اثنا سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں اپنے دونوں امیدواروں کی جیت کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے سینیٹر فیصل جاوید کے ہمراہ پارلیمنٹ میں میڈیا بریفنگ کے دوران دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے آج اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کی پشت میں چھرا گھونپا ہے۔
جمعہ کو سینیٹ چیئرمین انتخاب میں شکست کے بعد حزب اختلاف کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے اپنے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے سات ووٹ مسترد کیے جانے پر عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ کیلیے ہونے والے انتخاب میں حکومتی امیدوار صادق سنجرانی کو 48 اور یوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ ملے جس کے بعد صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہو گئے تھے۔ پریزائیڈنگ افسر مظفر حسین شاہ نے گنتی کے موقع پر کہا کہ ووٹروں نے یوسف رضا گیلانی کے نام کے پر مہر لگائی جس کی وجہ سے یہ ووٹ مسترد ہوئے۔ ایک ووٹرنے دونوں امیدواروں کے نام پر مہر لگائی گئی تھی۔
انہوں نے انتخاب کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے ان کے حامیوں نے بدنیتی سے ووٹ خراب کیے۔ اگر وہ سمجھتے ہیں فیصلہ درست نہیں تو عدالتیں کھلی ہوئی ہیں۔ اس فیصلے پر آسیہ ریاض نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کے لیے بنائے گئے قواعد اس بارے میں بڑے واضح ہیں کہ چئرمین اور ڈپٹی چئیرمین کےانتخابات کیسے ہونے چاہیے لیکن ووٹ ڈالنے کے عمل کے بارے میں وہاں تفصیلات نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعہ کی صبح کیمرے سے متعلق تنازع کے بارے میں پریزائڈنگ آفیسر مظفر حسین شاہ نے تفصیلی رولنگ نہیں دی تھی۔ وہ بہت مایوس کن تھا۔
بی بی سی نے تجزیہ نگار اور سینئیر صحافی سرل المیڈا سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قوانین اور قواعد کی ترجمانی کرنے میں مسئلہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں قائم ماضی کی نظیر اور روایات پر عمل نہیں کیا جاتا۔ 'پاکستان میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے اور ماضی میں قوانین کی متعدد پراسرار نوعیت کی تشریح ہوئی ہے جس کے باعث ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہاں کچھ بھی ہونا ممکن ہے، چاہے وہ درست ہو یا غلط۔'
حزب اختلاف کے پاس موجود آپشنز پر بات کرتے ہوئے صحافی سرل المیڈا نے سوال اٹھایا کہ کیا حزب اختلاف خود اتنا جذبہ رکھتی ہے کہ وہ اس فیصلے پر عدالت جانے کی دھمکی کو پورا کرے۔ 'ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں انہیں بھرپور شکست ہوئی ہے اور ممکن ہے کہ پی ڈی ایم اب اپنے عوامی مظاہروں پر دوبارہ توجہ دے گی، بجائے کہ وہ اس ہار پر توجہ دیں جو کہ ان کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے۔'
سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے اسی حوالے سے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ اپوزیشن انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کے لیے سپریم کورٹ جا سکتی ہے۔ حزب اختلاف کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے پولنگ ایجنٹ فاروق ایچ نائیک کی جانب سے پریزائڈنگ افسر مظفر علی شاہ کو پیش کیے گئے دلائل میں وزن تھا۔ 'اس کا فیصلہ سپریم کورٹ میں ہوگا۔ لیکن نام کے اوپر ووٹ لگا دیا تو مسترد کرنا بنتا نہیں ہے۔'
اسی حوالے سے پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی کا موقف ہے کہ فاروق نائیک کے ساتھ انہوں نے انتخاب سے قبل سیکرٹری سینیٹ سے مہر لگانے کے بارے میں پوچھا تھا جس پر سیکرٹری سینیٹ نے بتایا کہ نام کےاوپرمہر لگانا ٹھیک ہے۔
اپوزیشن کے رہنماؤں نے انتخاب میں شکست کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر مشترکہ طور پر پریس کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے ان کے امیدوار کو اکثریت کے باوجود ہرایا گیا وہ قابل مذمت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امید ہے عدالت میں یوسف رضا گیلانی کامیاب ہوں گے۔ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھاکہ حکومت نے ہر حربہ استعمال کرکے الیکشن چوری کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال کا کہنا تھاکہ آج پی ڈی ایم کامیاب ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے امیدوار کو 49 ووٹ ملے لیکن یوسف رضا گیلانی کو سات ووٹ مسترد کرکے ہرایا گیا۔
احسن اقبال نے پریس کانفرنس کے دوران پاکستان میں ماضی کے عدالتی فیصلے بھی پڑھے اور کہا کہ 'سپریم کورٹ کے فیصلے ہیں کہ ووٹر کی نیت دیکھنی ہے۔ نام کے خانےمیں مہر لگانے کا مطلب ہےکہ ووٹرکی نیت درست ہے، جومہر امیدوار کےخانےمیں نام پر لگایاگیا وہ درست ہے۔' سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے متعدد ایسے فیصلے اور الیکشن کمیشن کی رولنگ ہے کہ خانے کے اندرڈالا گیا ووٹ درست ہے، چاہے وہ نام کے اوپرکیوں نہ ہو۔۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ مسترد کیے جانے والے ساتوں ووٹ میں امیدوار کے نام کےخانےمیں مہرلگائی گئی تھی اس لیے وہ اس کو چیلنج کریں گے اور انہیں عدالت سے توقع ہے کہ وہ اس کی درستگی کرے گی۔
چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں اپوزیشن امیدواروں کی شکست کے بعد چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ چیئرمین سینیٹ کا الیکشن چوری کیا گیا۔ حزب اختلاف کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بلاول بھٹو نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کا الیکشن عوام کی آنکھوں کے سامنے چوری کیا گیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ڈی ایم قیادت سے مشاورت کے بعد انہوں نے عدالت میں جانے کافیصلہ کیاہے۔ 'ثبوت موجود ہے کہ سیکرٹری سینیٹ ہمارے لوگوں کو بتارہے ہیں کہ آپ ڈبے کے اندر مہر لگا سکتے ہیں، میں نے بھی عام انتخابات میں اپنے نام کے اوپر مہر لگائی تھی۔' بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ ایک کھلا کیس ہے ہمیں امید ہے کہ عدالتوں سے ہمیں انصاف ملے گا۔
پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر انتخاب کے بعد کہا کہ 'قانون کہتا ہے نام کے اوپر لگائی گئی مہر ٹھیک ہے، ہم یہ ڈاکہ نہیں ہونے دیں گے۔' رہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف تحریک عدم اعتماد بھی لا سکتی ہے۔