مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے دھوکہ نہیں دیا: بلاول بھٹو زرداری

  • ہفتہ 13 / مارچ / 2021
  • 4180

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز ہونے والے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز کی جانب سے اپوزیشن کے امیدواروں کو ووٹ نہ دینے کے تاثر کو مسترد کردیا ہے۔

میڈیا سے غیررسمی گفتگو کے دوران چیئرمین پیپلزپارٹی سے جب پوچھا گیا کہ اس طرح کی اطلاعات ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹرز نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے امیدواروں کو ووٹ نہیں دیا تو اس پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ 'سب نے وفا کی'۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پتا ہے، ہم سب کو پتا ہے کہ پی ڈی ایم نے متحد ہونے کی وجہ سے سینیٹ کی نشستیں جیتیں۔ ہم اسی لیے اتنے ووٹ حاصل کرسکے کہ سب نے وفا کی، سب نے ساتھ دیا۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ گزشتہ سینیٹ انتخابات میں جو داغ لگا تھا اپوزیشن کے سینیٹرز نے وہ داغ حالیہ انتخابات میں اپنے کردار سے دھو دیا۔  واضح رہے کہ 12 مارچ کو ایوان بالا میں عددی اکثریت کے باوجود اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدواروں کو چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے ایوان بالا کے 98 اراکین نے ووٹ دیے تھے۔ حکومتی اتحاد کے چیئرمین سینیٹ کے امیدوار صادق سنجرانی کو 48 ووٹ ملے تھے جبکہ ان کے مد مقابل یوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ ملے تھے اور ان کو ملنے والے 7 ووٹوں کو مسترد کردیا گیا۔ ایک ووٹ دونوں اُمیدواروں کے لیے نشان زدہ ہونے پر مسترد ہوا تھا۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی نشست کے لیے حکومتی امیدوار مرزا محمد آفریدی کو 54 ووٹ ملے تھے جبکہ اپوزیشن کے عبدالغفور حیدری کو 44 ووٹ ملے تھے اور کوئی بھی ووٹ مستر نہیں ہوا تھا۔

اپوزیشن کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا تھا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مریم نواز اور  پی ڈی ایم قیادت سے مشاورت کے بعد عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارا موقف ہے کہ ہم چیئرمین سینیٹ کا انتخاب جیت چکے ہیں اور یہ الیکشن عوام کی آنکھوں کے سامنے چوری کیا گیا۔ ہمیں امید ہے کہ عدالت سے انصاف ملے گا اور ہائی کورٹ ہمارے حق میں فیصلہ دے گی۔ عدالت سے انصاف پر مبنی فیصلہ آیا تو وہ پی ڈی ایم اور یوسف رضا گیلانی کے حق میں ہوگا۔