پی ڈی ایم کے 7 ارکان نے جان بوجھ کر ووٹ ضائع کیے: مظفر حسین شاہ کا دعویٰ

  • ہفتہ 13 / مارچ / 2021
  • 4640

چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے پریزائیڈنگ افسر سید مظفر حسین شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ڈی ایم کے 7 ارکان نے جان بوجھ کر ووٹ ضائع کیے ہیں۔

ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو میں سینیٹر سید مظفر حسین شاہ نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم کے 7 ارکان نے جان بوجھ کر ووٹ ضائع کیے ہیں اور تمام 7 بیلٹ پیپرز پر ایک ہی طرز پر اسٹیمپ لگے ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ' عبدالحفیظ شیخ کے علاوہ  سندھ میں صدرالدین شاہ راشدی کے ووٹ اسی بنیاد پر مسترد کیے گئے تھے۔ اپوزیشن کو تفصیل سن کر اپنا فیصلہ دیا۔ان کا کہنا ہے کہ  پارلیمان کی کارروائی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ 7 ووٹوں کی چوری اپوزیشن کے اپنے گھر میں ہوئی ہے۔ اب اپوزیشن خود تحقیقات کرے کہ وہ چوری کن ارکان نے کی ہے۔ میرے اوپر تنقید بلاوجہ ہے۔  مظفر حسین شاہ نے حکومتی اراکین میں سے پریزائیڈنگ افسر مقرر کرنے سے متعلق سوال پر کہا کہ ماضی میں صدر نے اسحٰق ڈار اور سردار یعقوب ناصر کو بھی پریزائیڈنگ افسر مقرر کیا تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ  کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کے نام کے اوپر مہر لگانے کی وجہ سے 7 ووٹ مسترد کرنے پر مظفر حسین شاہ کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

ایوان بالا میں عددی اکثریت کے باوجود اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار ہار گئے تھے۔  چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے ایوان بالا کے 98 اراکین نے ووٹ دیے تھے۔ حکومتی اتحاد کے چیئرمین سینیٹ کے امیدوار صادق سنجرانی کو 48 ووٹ ملے جبکہ ان کے مد مقابل یوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ ملے تھے۔ ان کو ملنے والے 7 ووٹوں کو مسترد کردیا گیا جبکہ ایک ووٹ دونوں اُمیدواروں کے لیے نشان زدہ ہونے پر مسترد ہوا تھا۔

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی نشست کے لیے حکومتی امیدوار مرزا محمد آفریدی کو 54 ووٹ ملے جبکہ اپوزیشن کے عبدالغفور حیدری کو 44 ووٹ ملے تھے۔ اور کوئی بھی ووٹ مستر نہیں ہوا تھا۔