تین طرح کے پاکستان
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 13 / مارچ / 2021
- 7650
بلوچستان میں سینیٹ الیکشن کا ٹکٹ ستّر کروڑ روپے میں حاصل کرنے کا الزام، سندھ کے پی ٹی آئی کے رہنما کا الزام کہ سینیٹ کی ٹکٹ 35 کروڑ روپے میں دی گئی۔ الیکشن سے قبل ارکان اسمبلی کو کروڑوں روپے کے ترقیاتی کاموں کی یقین دِہانی، بقول وزیر اعظم سینیٹ الیکشن کے لئے ووٹ خریدنے کی منڈی لگی ہوئی ہے۔
یہ اور ایسے ہی ملتے الزامات گزشتہ کئی ہفتوں میں بار بار سنے۔ کچھ مختلف انداز کے الزامات چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کے انتخاب کے سلسلے میں دونوں جانب سے سامنے آئے کہ ہمارے ممبران کو دھمکی آمیز کالز کی گئیں، اِس کے یا اُس کے لئے ووٹ ڈالنے کا کہا گیا۔ یہ ہے ایک طرح کا پاکستان جس کا گزشتہ کئی عشروں سے ہم نظارہ کر رہے ہیں۔ اس سے قبل ضمنی انتخابات کا معرکہ بھی اسی شدّ و مد سے برپا ہوا۔ سیاست میں روپے پیسے کی اندھا دھند ریل پیل اب کسی کے لئے بھی اچنبھے کی بات نہیں رہی، ہاں مگر اب دھیرے دھیرے طاقت ، عدم برداشت اور تشدد بھی روا ہوتا جا رہا ہے۔ ڈسکہ الیکشن کے نتیجے میں جو میدان ڈسکہ میں سجا سو سجا اس کے بعد میڈیا میں تا دیر فریقین نے ایک دوسرے کو رگڑا۔ مجال ہے کسی ایک فریق نے اپنی معمولی کوتاہی بھی قبول کرنے کا تردد کیا ہو۔ بلکہ حسب معمول اس کے بعد الیکشن کمیشن پر تنقید اور اعلیٰ عدالتوں میں اپنی اپنی درخواستوں کی شنوائی سے معرکہ آرائی کا تسلسل برقرار رکھا۔
اس طرح کے پاکستان کے کرتا دھرتا خوش حال ہیں، محفوظ ہیں کہ بیشتر اپنے ساتھ سیکیورٹی کا پورا لاؤ لشکر لے کر چلتے ہیں۔ اس پاکستان کے باسیوں کے مسائل ہی کچھ اور ہیں۔ اب کیا ہوگا؟ اقتدار میں اب کون کون سی نئی سازشی تھیوری چل رہی ہے؟ کون سا نیا فارمولا کہیں دورنیم تاریک ڈرائنگ روم میں بن رہا ہے؟ اگلا محاذ کیا ہوگا؟ کون گیا؟ اب کس کے پو بارہ ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔۔۔
ایک اور طرح کا پاکستان بھی اسی دھرتی پر آباد ہے، یہ کیسا پاکستان ہے؟ اس کی یوں تو روز و شب بے تحاشا مثالیں دیکھتے ہیں اور میڈیا میں پڑھتے سنتے بھی ہیں۔ دو روز قبل پاکستان بھر سے دو سال کا ڈیٹا جمع کرکے پہلی بار ایک عرق ریزی سے ایک جامع رپورٹ سامنے لائی گئی۔ پاکستان سوسائٹی آف نیفرولوجی کے مطابق پاکستان 2013 میں شوگر مریضوں کی تعداد کے حساب سے دنیا کے ٹاپ دس ممالک میں شامل نہ تھا۔ اگر اضافے کی وہی شرح برقرار رہتی تو 2025-30 تک پاکستان کے دنیا کے ٹاپ دس ممالک میں شامل ہونے کی توقع تھی۔ مگر کیا کیجئے کہ شوگر کا مرض اس تیزی سے پھیل رہا ہے کہ دس بارہ سال کا سفر صرف چار سالوں میں طے کر لیا۔
پاکستان 2017 میں ٹاپ دس ممالک میں شامل ہوچکا ہے۔ 2019 کے اعدادوشمار اس سے بھی زیادہ خوف ناک ہیں۔ پاکستان اس وقت لگ بھگ دو کروڑ شوگر مریضوں کے ساتھ دنیا بھر میں چوتھا متاثرہ ترین ملک ہے۔ اس وقت مرض کے اضافے کی شرح 7 -8% سالانہ ہے مگر ماہرین کو خدشہ ہے کہ جس رفتار سے یہ مرض پھیل رہا ہے، اس کے بڑھنے کی شرح 2030 تک 11-12% ہو سکتی ہے۔ اس اعتبار سے یہ ایک خاموش مگر مہلک پیش رفت ہے۔
پاکستان رینل ڈیٹا سسٹم کے ذریعے سے ترتیب پانے والی پہلی رپورٹ سے یہ پریشان کن حقیقت سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں گردو ں کی آخری اسٹیج میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ کلینیکل ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں ڈائلاسز کے 44% مریض ہیپا ٹائیٹس کے شکار ہیں۔ اعدود وشمار کے مطابق گردوں کی آخری اسٹیج کے مریضوں میں 33% شوگر ہیں۔ شوگر اور ہئپاٹایئٹس میں اس تیز پھیلاؤ سے واضح ہے کہ پاکستان صحت کے ایک بڑے بحران کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ شیخ زائد ہسپتال کے شعبہ نیفرالوجی میں قائم اس ڈیٹا سسٹم کے ذریعے پہلی بار کلینیکل ڈیٹا اکٹھا کرکے ایک جامع رپورٹ مرتب کی گئی جبکہ اس سے قبل ان اعدادوشمار کا تخمینہ عالمی ادارے ہی لگا تے تھے۔
ان ماہرین کے مطابق گردوں کی آخری اسٹیج کی بیماری میں 40- 59% تک سب سے بڑی وجہ شوگر ہی سامنے آئی۔ اس کے بعد پتھری سمیت دیگر وجوہات ہیں۔ گردوں کی بیماری حد سے بڑھ جانے پر بہت سے مریضوں کے لئے ڈائیلسز ہی زندگی کا آسرا رہ جاتا ہے، علاج تکلیف دہ اور مہنگا بھی ہوتا ہے۔ان وجوہات کو روکنے کے لئے حکومتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ مگر سال ہا سال کا اندازِ سیاست ہیلتھ سیکٹر کی ٹرانسفرز پوسٹنگ اور اربوں روپے کے بجٹ کے لئے تو ایڑی چوٹی زور لگا دیتا ہے مگر بنیادی وجوہات سے اغماض کے سبب دوسری طرح کے پاکستان میں یہ مہلک امراض مزید تیزی سے پھیل رہا ہے۔
ہم آپ روز دیکھتے ہیں کہ بجلی ترسیل کمپنیوں کے ملازمین کھمبوں پر چڑھے فالٹ دور کرتے ہیں۔ اکثر حفاظتی سامان کے بغیر ہی اپنی جان خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ دوروز قبل پنجاب کے شہر حافظ آباد میں بجلی کے پول پر چڑھے ایک اہل کار پر کسی نے اس الزام پر پتھر مارنے شروع کر دئے کہ وہ بجلی ٹھیک کرنے نہیں بلکہ آس پاس گھروں میں تانک جھانک کے چکر میں تھا۔ الزام اشتعال انگیز تھا، عوام پہلے ہی نیک کام کے لئے تیار رہتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہی ہجوم اکٹھا ہوگیا اور باجماعت پتھر پھینکنے کا کام شروع ہوگیا، اہل کار زخمی ہوکر زمین پر گرا اور جاں بہ حق ہو گیا۔ اس کے بعد حسبِ معمول شیر دل ہجوم تتر بتر ہو گیا۔ یہ ہے ایک تیسرا پاکستان، شک سے تر بتر، برداشت سے عاری، افواہوں پر ہمہ وقت کان دھرنے والا اور کمزور پر پتھر پھینکنے کے لئے ہمہ وقت تیار۔
مقتدر اشرافیہ اب تک اپنے پاکستان میں محفوظ ہمہ وقت اقتدار کی سانپ سیڑھی والا کھیل کھیلتے آئے ہیں جبکہ دو اور طرح کے پاکستان اپنے بوجھ تلے بے بس ہو رہے ہیں۔ اگر بقیہ دو طرح کے پاکستان کے مسائل کی طرف توجہ نہ کی گئی تو اشرافیہ کا پاکستان زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہ پائے گا۔ تاریخ کا سبق تو یہی ہے اگر کوئی سیکھنا چاہے۔