جمہوریت میں بندوں کو گننے کی شکایت
- تحریر عدنان خان کاکڑ
- ہفتہ 13 / مارچ / 2021
- 6590
حکیم الامت نے شکایت کی تھی کہ جمہوریت میں بندوں کو گنا جاتا ہے تولا نہیں جاتا۔ ہر صاحب دل اس بات پر غور کرے گا تو خود کو اس سے متفق ہونے پر مجبور پائے گا۔ یعنی یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اس عاجز اور ہنری کسنجر کی رائے کا ایک وزن ہو، کسنجر نے بھلا اقبال کو پڑھا تھا؟
شکر ہے کہ اقبال کے خواب کے تحت قائم ہونے والی پاکستانی جمہوریت میں یہ شکایت دور کر دی گئی ہے۔ یہاں اب صائب رائے والوں کے ووٹ کا وزن ہوتا ہے، ہر ایرا غیرا اپنے ووٹ سے جمہوریت کا حسن نہیں گہنا سکتا۔ ایسا نہیں ہے کہ اقبال اس سوچ میں تنہا تھے۔ اقبال کے ہم عصر عظیم انقلابی جوزف سٹالن نے بھی اسی زمانے میں جمہوری نظام میں ووٹ ڈالنے کے نظام پر ایسی ہی کڑی تنقید کی تھی۔ لیکن جہاں اقبال ایک فلسفی تھے جو بس بیٹھے باتیں سوچا کرتے تھے، وہاں سٹالن ایک عملی قسم کے انقلابی تھے جو میدان میں اتر کر ضد انقلاب قوتوں کے خلاف سرتوڑ مزاحمت کیا کرتے تھے اور مسئلہ جاننے کے بعد اس کا عملی حل پیش کرتے تھے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ان کے تین دہائیوں پر مشتمل زمانے میں کئی ملین ایسے ضدی انقلاب دشمن افراد اس سرتوڑ مزاحمت کے نتیجے میں راہی ملک عدم ہوئے۔
سٹالن نے اس ووٹوں کو گننے کے جمہوری مخمصے کا ایک قابل عمل حل پیش کیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ ’میں اسے قطعاً غیر اہم سمجھتا ہوں کہ پارٹی میں کون ووٹ ڈالے گا، یا کیسے ڈالے گا، جو بات انتہائی اہم ہے وہ یہ ہے کہ ووٹ گنے گا کون اور کیسے‘ ۔ اب یہاں کچھ ابہام پیدا ہو سکتا ہے کہ گننے کا اہل کون ہے اور کون اس گننے والے کو مقرر کرنے کی سیاسی طاقت رکھتا ہے۔ اس مخمصے کو ایک دوسرے بڑے انقلابی نے دور کیا۔ چیئرمین ماؤ زے تنگ فرماتے ہیں کہ ’سیاسی طاقت بندوق کی نال سے پیدا ہوتی ہے‘۔
تو صاحبو، معاملہ یہی ہے کہ مغربی جمہوریت ہمارے انقلابی مزاج سے لگا نہیں کھاتی۔ ہم نے اقبال کا شاہین بننا ہے تو بندوں کو گننا نہیں تولنا ہو گا۔ اب اگر عام طریقوں سے بندوں کو تولا جائے تو حالات کچھ پریشان کن ہو سکتے ہیں اور یہ نتائج ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کے خلاف ہو سکتے ہیں۔ بلکہ ہماری قدیم لوک دانش تو یہ کہتی ہے کہ یہ ایسا ہی کار محال ہے جیسا مینڈکوں کو تولنا۔ یعنی انہیں قابو کر کے اپنے پلڑے میں رکھنا ہی مشکل ہو جاتا ہے کوئی چھلانگ لگا کر غائب ہو جاتا ہے اور کوئی اپنا وزن دوسرے پلڑے میں ڈال دیتا ہے، پھر تولنے والا انہیں پکڑنے کی فکر میں پریشان ہوا پھرتا ہے۔ کئی مرتبہ تو انہیں قید بھی کرنا پڑ جاتا ہے۔ لیکن رائے شماری خفیہ ہو تو قید کرنا بھی بیکار ثابت ہو سکتا ہے۔
ایسے میں پھر انقلابی حل کی راہ ہی بچتی ہے۔ یعنی فریقوں پر واضح کر دیا جائے کہ سیاسی قوت صرف بندوق کی نال سے پیدا ہوتی ہے اور اگر پھر بھی کوئی کسر باقی رہ جائے تو زیادہ فوکس اس بات پر رکھا جائے کہ ووٹ گنے گا کون اور کیسے۔ ویسے بھی سینکڑوں ہزاروں لاکھوں مینڈکوں کو راہ راست دکھانے سے آسان یہ ہے کہ دس بیس گننے والوں پر واضح کر دیا جائے کہ ہمارے جمہوری نظام میں سیاسی طاقت کا منبع کہاں ہے اور وہ کہاں پیدا ہوتی ہے۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)