نواز شریف باز نہ آئے تو الطاف حسین والا انجام ہوگا: فواد چوہدری

  • اتوار 14 / مارچ / 2021
  • 4460

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ نواز شریف اور الطاف حسین ایک طرح کے کردار ہیں۔  یہ سیاست دان نہیں اور نہ ان کا کوئی سیاسی وژن ہے۔

وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ میں نواز شریف سے کہنا چاہتا ہوں انہوں نے الطاف حسین بننے کی کوشش کی  تو پھر انجام بھی وہی ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید لطیف نے کہا کہ مریم نواز کو کچھ ہوا تو ہم پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائیں گے لیکن پیپلز پارٹی کا یہ نعرہ قومی نعرہ ہے۔

خیال رہے کہ رہنما مسلم لیگ (ن) جاوید لطیف نے ایک ٹی وی پروگرام میں مریم نواز کو مبینہ دھمکی کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا تھا کہ اگر خدانخواستہ مریم نواز شریف کو کچھ ہوا تو ہم پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائیں گے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ اس بات سے ہر پاکستانی کا دل دکھا ہے۔ لیکن یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کیوں نواز شریف اور الطاف حسین دونوں 1985 کی سیاست کا تحفہ ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ میں جاوید لطیف کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آج پاکستان نہ ہوتا تو آپ کو ہندو ذہنیت کا پتہ چلتا۔ اس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کریں، الیکشن میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے۔ نتائج آپ کی توقع کے مطابق نہیں آئیں گے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ منہ اٹھا کر ریاست کے خلاف بولنا شروع کردیں۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم یہاں غداری کے سرٹیفکیٹس دینے نہیں بیٹھے لیکن پاکستان کے عوام فیصلہ کرسکتے ہیں کہ ان لوگوں کی قیمت کیا ہے۔ نہ ان کا کوئی سیاسی وژن ہے نہ سیاست کا کوئی مقصد یا اصول ہے جس پر یہ کھڑے ہوں۔ ہر لمحہ اپنا اصول تبدیل کرتے ہیں۔ جاوید لطیف کی اپنی کوئی سوچ نہیں، وہ بیچارا شطرنج کا مہرہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں ان سیاسی نابالغوں کو کہنا چاہوں گا کہ الطاف حسین بنے ضرور تو پھر اس کا انجام بھی اپنے سامنے رکھیں۔ وہ بھی لندن سے واپس نہیں آرہا آپ بھی لندن سے واپس نہیں آ پا رہے۔ جو یہاں پر ہیں انہیں ہم شاید لندن نہ جانے دیں۔ انہوں نے کہا کہ ساری مہم لندن جانے دو، کہ ے۔ اس طرح ملک نہیں چلا کرتے۔

ان کا کہنا تھا مریم نواز کی ضمانت منسوخی بہت ضروری ہے۔ ہماری اور پاکستان کے عوام کی خواہش ہے کہ قومی احتساب بیورو تمام مقدمے منطقی انجام تک پہنچائے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ اس سے ہم پر بھی اثر آتا ہے اور لوگ سمجھتے ہیں احتساب کا بیانیہ شکست کھارہا ہے۔ مقدمات منطقی انجام تک نہیں پہنچتے کیوں کہ نواز شریف اور مریم دونوں عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں لیکن ان کے رویے سے لگتا ہے جیسے کوئی انقلابی سوچ لے کر آئے ہیں۔ حالانکہ ان کی انقلابی سوچ بس یہی ہے کہ ہمارے پیسے ہمارے پاس رہنے دو۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہمارا ان کے ساتھ کوئی ذاتی جھگڑا نہیں۔ ہمارا ان سے یہی مطالبہ ہے کہ آپ پاکستان کے پیسے واپس کریں یا جیل کاٹیں۔ جاوید لطیف سے جو کہلوایا گیا اس پر پاکستان کے عوام کو بہت غصہ ہے اور یہ قابل قبول نہیں ہے۔ اپوزیشن سیاسی نابالغوں کے ہاتھوں میں اپنی سیاست گروی نہ رکھے۔ مریم اور بلاول کو سیاست کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ ان جماعتوں کے سینئر لوگ پالیسی کو سنبھالیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپوزیشن لانگ مارچ مؤخر کرے اور حکومت کے مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہوئے انتخابی اصلاحات پر ہمارے ساتھ بات کرے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ الیکشن شفاف ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جاسوسی کیمرے کی آڑ میں مصطفی نواز کھوکھر اور مصدق ملک نے سینیٹ کی الیکٹرک وائرنگ خراب کر دی ہے۔ انہیں 54 ہزار روپے کا بل بھجوا رہے ہیں۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ایک ایسا گروہ ہے جس کا آپس میں جوڑ نہیں بنتا۔ استعفوں اور لانگ مارچ پر ان میں اختلافات سامنے آچکے ہیں۔ سینیٹ کے الیکشن میں یہ ہی ثابت ہوا کہ مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی اور پیپلز پارٹی نے مولانا فضل الرحمٰن کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس ایک چانس ہے وہ کورونا کی وجہ سے اپنا لانگ مارچ ختم کردیں کیوں کہ ویسے بھی انہیں لانگ مارچ سے کچھ نہیں ملنے والا۔