میانمار: فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج میں 14 مظاہرین ہلاک

  • اتوار 14 / مارچ / 2021
  • 3960

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف دارالحکومت ینگون میں مظاہرین پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے کم از کم 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ 'انقلاب' لانے کے لیے مزاحمت جاری رکھیں۔

ینگون کے علاقے ہلائینگ تہریار میں حکام نے مظاہرین کے اجتماع پر فائرنگ کر دی جس کے جواب میں مظاہرین نے ڈنڈے اور چھریوں کا استعمال کیا۔ مظاہرین نے چین سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد کی دکانوں پر حملہ کیا تھا جس کے بعد حکام نے وہاں پر مارشل لا نافذ کر دیا۔  مظاہرین کا کہنا ہے کہ چینی حکومت میانمار کی فوج کی حمایت کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ پہلی فروری کو ملک میں فوج نے حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور ملک کی جمہوری رہنما آنگ سان سوچی کو حراست میں لے لیا تھا۔  ملک کے متعدد سیاسی رہنماؤں نے بغاوت کو ماننے سے انکار کر دیا ہے اور فوج کو چکمہ دے کر روپوش ہوگئے ہیں۔  چین نے ہلائینگ تہریار کے علاقے میں چینی فیکٹریوں پر ہونے والے حملے کے بعد میانمار میں حکام سے ان کے تحفط کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد وہاں پر مارشل لا نافذ کیا گیا تھا۔

چین نے الزام عائد کیا ہے کہ مسلح افراد نے ینگون میں 10 چینی فیکٹریوں اور ایک چینی ہوٹل کو نشانہ بنایا اور متعدد چینی افراد کو زخمی کیا۔

میانمار میں چینی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ ’پرتشدد کارروائیاں روکنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائیں اور چینی کاروبار اور چینی شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کریں۔‘ علاقے میں سارا دن فائرنگ کی آواز سنائی دی جاتی رہی ہیں۔ پولیس کے ایک افسر نے سوشل میڈیا پر پیغام میں بتایا کہ پولیس مظاہرین کے خلاف بھاری اسلحے کا استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مقامی میڈیا اور ایک ڈاکٹر کا حوالے دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ میانمار کے شمالی شہر ہپکانت میں سکیورٹی فورسز نے ایک جوان شخص کو گولی مار کر ہلاک کیا۔ مقامی شاہدین اور رپورٹرز کے مطابق ایک اور نوجوان کو ینگون کے نواحی علاقے باگو میں ہلاک کیا گیا۔ مقامی میڈیا نے یہ بھی رپورٹ کیا ہےکہ تین مظاہرین کو ینگون میں احتجاج کے دوران ہلاک کیا گیا۔

عینی شاہدین اور بی بی سی برمیز کے مطابق سنیچر کو 12 مظاہرین کی ہلاکتوں کے بعد سے یہ تازہ ترین ہلاکتیں ہیں۔ واضح رہے کہ میانمار جسے برما کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، یکم فروری سے فوجی بغاوت کے بعد سے ملک گیر مظاہروں اور احتجاج کی لپیٹ میں ہے۔

یکم فروری کو ملک کی عسکری قیادت نے حکمران جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) کی سربراہ آنگ سان سوچی کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور انہیں حراست میں لے لیا تھا۔ آنگ سان سوچی کی سیاسی جماعت این ایل ڈی کو گزشتہ برس کے عام انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی تھیں تاہم فوج کا کہنا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی تھی۔