الیکشن کمیشن سے معافی مانگنے کی بجائے، اس پر حملہ کیا جارہا ہے: مریم نواز
- سوموار 15 / مارچ / 2021
- 6060
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے وفاقی وزرا کی طرف سے الیکشن کمیشن سے مستعفی ہونے کے مطالبے کو مسترد کیا ہے۔ مریم نواز نے کہا ہے کہ کابینہ الیکشن کمیشن سے معافی مانگنے کی بجائے، اس پر حملہ آور ہوگئی ہے۔
اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے اجلاس کے بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ہم پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اداروں پر حملہ آور ہوگئی ہے۔ آج یہ بات قوم کو سمجھ آگئی ہوگی کہ اداروں پر تنقید کیا ہوتی ہے اور اداروں پر حملہ کسے کہتے ہیں۔ ڈسکہ، نوشہرہ یا وزیرآباد، سندھ، بلوچستان یا کے پی کے دیگر شہروں میں آپ کو ووٹ نہیں ملا تو اس میں الیکشن کمیشن کا کیا قصور ہے۔ وہ بدلہ آپ الیکشن کمیشن سے کیوں لے رہے ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ یہ بات ایک حقیقت ہے کہ بدترین دھاندلی کے باوجود حکمران جماعت کو ووٹ نہیں ملے۔ لوگوں نے انہیں مسترد کردیا ہے۔جو ڈسکہ میں ہوا، پورا دن فائرنگ اور خوف و ہراس پھیلایا گیا جس کو پوری قوم نے دیکھا۔ اتنی بدترین دھاندلی شاید آمریت کے ریفرنڈم میں بھی نہیں دیکھی گئی ہوگی۔ پھر ووٹ پورے نہیں ہوئے تو 20 پریزائیڈنگ افسر اغوا کرلیے۔ ادارے پر حملہ آور ہونے، ان کے عہدیداروں کو حبس بے جا میں رکھنے کی معافی مانگنے کی بجائے الٹا اسی ادارے پر حملہ کیا جارہا ہے۔
اس دوران لاہور ہائیکورٹ نے قومی احتساب بیورو کی طرف سے مریم نواز کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست پر مریم نواز سے 7 اپریل تک تحریری جواب طلب کیا ہے۔ جسٹس سرفراز ڈوگر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مریم نواز کی چوہدری شوگر مل کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست پر سماعت کی۔ نیب کی جانب سے چوہدری خلیق الزماں اور فیصل بخاری عدالت میں پیش ہوئے۔
نیب کے وکیل نے کہا کہ مریم نواز اپنی ضمانت کا غلط استعمال کر رہی ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ مریم نواز نے کیا غلط استعمال کیا ہے ضمانت کا؟ جس پر وکیل نیب نے کہا کہ مریم نواز کو ضمانت کے بعد تفتیش کے لیے طلب کیا گیا تھا لیکن وہ نیب کے سامنے پیش نہیں ہوئیں۔ مریم نواز نے پیش ہونے کے بجائے نیب کے دفتر پر پتھراؤ کرایا نیب کو پتھر مارے جس پر نیب نے مقدمہ بھی درج کروایا ہے۔
عدالت نے نیب کے وکیل سے دریافت کیا کہ آپ کن بنیادوں پر مریم نواز کی ضمانت خارج کروانا چاہتے ہیں؟ جس پر نیب وکیل نے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مریم نواز اپنی ضمانت کا غلط استعمال کر رہی ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر چوہدری خلیق الزماں نے کیس فائل کیا ہے وہ خود کیوں دلائل نہیں دے رہے جس پر فیصل بخاری نے جواب دیا کہ میں اس کیس کو دیکھ رہا ہوں اس لیے میں دلائل دے رہا ہوں۔
تاہم اس پر نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر چوہدری خلیق الزماں نے بھی دلائل دینا شروع کردیے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے مریم نواز کی ضمانت منظور کی تھی۔ نیب کا مؤقف تھا مریم نواز کے خلاف انکوائری تفتیش میں بدل چکی ہے۔ تفتیش میں مریم نواز کا پیش ہونا ضروری ہے لیکن وہ پیش نہیں ہوتیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ واقعے کے ایک سال بعد آپ ضمانت منسوخی کے لیے آ رہے ہیں پہلے نیب کو ہوش نہیں آیا؟ اس پر وکیل نیب نے جواب دیا کہ مریم نواز کے سیاسی معاملات کو نیب سے جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے، اس لیے پہلے مریم نواز کی ضمانت منسوخی کے لیے درخواست دائر نہیں کی گئی۔
لاہور ہائی کورٹ نے نیب کی درخواست مریم نواز سے تحریری جواب طلب کر لیا اور مزید کارروائی 7 اپریل تک ملتوی کردی۔ خیال رہے کہ 13 مارچ کو چیئرمین نیب نے پراسکیوٹر جنرل پنجاب کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں کہا گیا کہ مریم نواز ضمانت کے دوران ریاستی اداروں پر حملے کر رہی ہیں۔