حکومت نے نیا الیکشن کمیشن بنانے کا مطالبہ کردیا
- سوموار 15 / مارچ / 2021
- 7420
حکمران تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن پر سینیٹ انتخابات میں فرائض کی انجام دہی میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے کمیشن کے اراکین سے مستعفی ہونے اور نئے کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے ۔
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے وزیر اطلاعات شبلی فراز اور فواد چوہدری کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا کہ 2021 کے سینیٹ انتخابات کے ریفرنس پر سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اگر ووٹنگ کا طریقہ کار بدلنے کے لئے آئینی ترمیم ضروری ہے تاہم عدالت نے کچھ اور بھی ہدایت دیں اور 218 (3) کا حوالہ دیا جو اس بارے میں بڑی واضح ہے۔ یہ شق کہتی ہے کہ الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ ایسے انتظامات کرے کہ انتخاب ایمانداری، حق اور انصاف کے ساتھ اور قانون کے مطابق منعقد ہوں اور یہ کہ بدعنوانی کا سدباب ہو۔
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ووٹ خفیہ رکھنے کا معاملہ ایسا نہیں ہے کہ جس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ اس حوالے سے ہم نے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات میں بیلیٹ پیپرز پر نشان لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جو عدالتی فیصلہ کے مطابق تھا۔ لیکن اس رائے کو نظر انداز کردیا گیا۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یوسف رضا گیلانی بدعنوانی سے سینیٹر بننے میں کامیاب ہوگئے۔ الیکشن کمیشن کو یہ سب پتہ تھا۔ لیکن الیکشن کمیشن انتخاب کو شفاف بنانے میں ناکام رہا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان اپنی ذمے داریوں کو نبھا نہیں سکا۔ کسی کو الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں رہا۔ الیکشن کمیشن موجودہ حالت میں نہیں چل سکتا۔ کمیشن کے ارکان کو خود استعفی دینا چاہئے تاکہ نیا الیکشن کمیشن بن سکے۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ اگر سیاستدانوں او عوام کا الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں ہو گا اور اس کے فیصلوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے گا تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے موجودہ الیکشن کمیشن کے اراکین اپنی ذمے داریوں سے استعفیٰ دیں۔ نیا الیکشن کمیشن بنے جس پر سب کواعتماد ہو۔