ہر روز بدلتا پاکستان
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 15 / مارچ / 2021
- 10160
پاکستان ہر لمحہ بدلتی صورتِ حال ہے۔ جو پاکستان کل تھا وہ آج نہیں ہے۔ پاکستان کوئی جغرافیائی وجود نہیں ہے۔ بلکہ مسلسل رقم ہوتی تاریخ ہے۔
کسی ملک کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ ہے ایک غلط بیانیہ ہے ۔ ملک اور معاشرے جامد نہیں ہوا کرتے بلکہ واقع ہوتے رہتے ہیں، بنتے رہتے ہیں ، نشوونما پاتے رہتے ہیں۔ یہ کبھی ایک نقطے پر رُکتے نہیں ہیں بلکہ مسلسل چلتے رہتے ہیں۔ چنانچہ ہم ایک ہی پاکستان میں دو دن تک مسلسل نہیں رہتے۔ جو پاکستان کل تھا وہ آج نہیں ہے۔ پاکستان ایک ایسا معاشرتی وجود ہے جو بہتر سال سے شہ رگ کے بغیر ہے اور اُس شہ رگ سے مسلسل خون بہ رہا ہے۔ بلکہ یوں کہا جا سکتا ہے کہ:
کہ شاہ رگ تو مری پنجہ ء ہنود میں ہے
پہلے پاکستان دو حصوں میں تقسیم تھا۔ زوج زوج تھا۔ کچھ پاکستانی دانشور کہا کرتے تھے کہ اللہ نے ہر وجود اور ہر مخلوق کا جوڑا بنایا ہے اور پاکستانوں کا بھی ایک جوڑا ہے اور پھر یوں ہوا کہ مشیت کے گلو کار نے ایک گانا گایا جس کے بول کچھ یوں تھے:
دو پاکستانوں کا جوڑا بکھر گیو رے
گجب ہویا زُلفی جُلم ہویو رے
جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ یہ پاکستان ہے، تو یہ بیان جاری کرنے کے بعد وہ پاکستان نہیں رہتا جو بیان کے وقت تھا کیونکہ ملک اور معاشرے جامد نہیں ہوتے بلکہ مسلسل نشوونما پاتے رپتے ہیں ، متحرک رہتے ہیں، ارتقا کے سفر میں رہتے ہیں ، معاشرتی زندگی ایک بہاؤ ہے لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ ارتقا کا سفر معکوس ہو، مسلسل رو بہ تنزل ہو مگر پاکستان پر وہ آسیب طاری ہے جس کا ذکر منیر نیازی نے ان الفاظ میں کیا تھا:
منیر اِس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
تیز تر حرکت سیاستدانوں کے بیانوں میں ہے جب کہ معاشرہ چیونٹی کی چال چل رہا ہے۔ وہ چیونٹی جو اناج کے دانے کی تلاش میں بے سمت پھر رہی ہے۔ پاکستانی معاشرے کی بھی کوئی سمت نہیں۔ یہ ایک خواب ہے اور پاکستانی خواب میں رہنے والے لوگ ہیں اور تعبیر کی دنیا پر اُن کا کنٹرول نہیں ہے۔ ہم دنیا میں رونما ہونے والے حالات کے قیدی ہیں ۔ پاکستان کے پاؤں میں عالمی صورتِ حال کی زنجیریں ہیں ، مگر ہم یہ کہتے نہیں تھکتے کہ پاکستان ملکِ خداداد ہے اور قرار دادِ پاکستان پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر ثبت تھی اور تب ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ قراردادِ پاکستان ایک بنگالی مسلم لیگی مولوی فضل الحق نے پیش کی تھی جو شیرِ بنگال کہلاتے تھے اور پھر وہ شیر قراردادِ پاکستان کا مسودہ لے کر ڈھاکہ چلا گیا جہاں سے وہ دستاویزواپس نہیں آئی۔ اب پھر ویسی ہی آوازیں آنے لگی ہیں۔ کچھ سیاست دان پھر بنگلہ دیش کے سانحے کو موجودہ پاکستان کے تناظر میں بیان کرنے لگے ہیں ۔
اب یہ ہوائی اُڑائی جا رہی ہے کہ اگر مریم نواز شریف کو کچھ ہوگیا تو پھر پاکستان میں بنگلہ دیش کی تاریخ دوہرائی جا سکتی ہے۔ مگر کس طرح؟ اس سوال کے جواب میں آئیں بائیں شائیں اور سیاسی بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کا استدلال پیش کیا جانے لگتا ہے۔ کچھ سیاست دان اپنی پارٹی کے اقتدار کو ہی پاکستان کا نام دیتے ہیں کہ اگر وہ بر سرِ اقتدار ہیں تو پاکستان ہے ورنہ نہیں ہے۔ حالانکہ یہ پاکستان جو آدھے سے بھی کم ہے، پچھلے بہتر سال میں آئی ایم ایف کے قرضوں سے تعمیر ہوا ہے۔ یہ ایک مقروض ملک ہے جس کی شاہراہیں اور ہوائی اڈے تک گروی ہیں اور اب یہ خبر سننے میں آ رہی ہے کہ سٹیٹ بنک اور پاکستان کو بھی گروی رکھنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ جس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پاکستان کو گروی رکھنے کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔ یہ اقتصادی غلامی کی زنجیریں ہیں جو اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ پاکستان ایک آزاد ملک نہیں ہے۔
انگریز برِ صغیر چھوڑ کر چلا گیا مگر عالمی سامراج کی اقتصادی زنجیریں بدستور پاکستان کے گرد زہریلے سانپوں کی طرح لپٹی ہیں۔ پاکستانی سیاست دان ہوں، بڑے اداروں کے سربراہ ہوں یا علامہ طاہر القادری جیسے علماء ہوں، وہ تو اپنی جمع پونجی سمیٹ کر لندن، دبئی اور کنیڈا چلے جاتے ہیں اور اپنی عالیشان رہائش گاہوں میں عیش کی زندگی بسر کرتے ہیں، مگر پاکستان کو وہ آئی ایم ایف کے رحم و کرم پر چھوڑ جاتے ہیں۔ لگتا ہے پاکستان چند خاندانوں، چند طاقت ور شخصیات اور چند اداروں کی ملکیت ہے جس میں پاکستانی عوام کی حیثیت گلیوں کے کوڑا کرکٹ سے زیادہ نہیں ہے۔ پاکستانی معاشرہ اخلاقی اقدار کے فقدان میں مبتلا ایک گٹر ہے اور اسے ایک پاکستانی جج نے باقاعدہ ایک گٹر قرار دیا ہے۔
یہ لوگ اس گٹر سے سونا نکال کر اپنے بیوی بچوں کو برطانیہ کی مقدس معاشرت میں پالتے ہیں تاکہ ان کے خاندان گٹر کی بو سے محفوظ رہیں۔ پاکستان عام آدمی کے لیے دوزخ سے کم نہیں۔ ہر روز کوئی نہ کوئی ایسی ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں پاکستانیوں کا پاکستانیوں پر بدترین تشدد دیکھنے میں آتا ہے۔ اور سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس تشدد کے ڈانڈے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ملتے ہیں۔ حال ہیں میں پشاور ایک چودہ سالہ بچہ پولیس کی مہربانی سے حوالات میں پھندہ لگا کر جان سے گزر گیا ہے۔ سڑکوں پر مار پیٹ، چھینا جھپٹی اور ڈاکہ زنی کی وارداتیں روز کا معمول ہیں، نومولود بچے ہسپتالوں سے اغوا ہو جاتے ہیں، جنسی بے راہروی پاکستانی معاشرے کا فیشن بن چکا ہے۔ یہ سب کچھ ایک اخلاقی بحران پر دال ہے جس میں پاکستانی معاشرہ اکھڑی اکھڑی سانسیں لے رہا ہے اور دینی تربیت کرنے والے مذہبی ادارے، مسجدیں، دینی درسگاہیں، سکول، کالج، یونیورسٹیاں اور تبلیغی افواج اس صورتِ حال کو بدلنے میں ناکام ہیں۔ اس معاشرے میں قانون بنانے کی بات تو ہوتی ہے مگر قانون پر عمل پیرا ہونے کی روایت موجود نہیں۔ کاغذوں کا پیٹ بھرنا اور مذہبی اقدار کی بات کرنا ہی دین بن کر رہ گیا ہے جس کی اصل حقیقت حافظ شیرازی یوں بیان کرتے ہیں:
واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبر می کنند
چوں بخلوت می روند آں کارِ دیگر می کُنند
دین تقریروں، خطبوں، میلاد کی محفلوں اور نمازوں کی ادائیگی تک تو ٹھیک ہے مگر اس سے آگے عمل کا خانہ خالی ہے۔ ہم قانون بناتے ہیں مگر قانون کی اطاعت نہیں کرتے۔ قانون بنانے اورنافذ کرنے والے
ادارے قانون کی پابندی نہیں کرتے جس کا مطلب یہ ہے کہ قانون کتابوں میں ہے اور پاکستانی قوم لاقانونیت کے کومے میں ہے۔ اور جہاں ایسا ہو وہاں حکومت کی رٹ نہیں ہوتی اور جس حکومت کی
رٹ نہ ہو وہ حکومت ہی نہیں ہوتی۔ اللہ اللہ خیر سلّا