سینٹ انتخابات کا سبق
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 15 / مارچ / 2021
- 4710
سینیٹ کے ممبران، چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کے انتخابات کا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔یہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے پہلے سینیٹ انتخابات تھے جس کی سیاسی شدت میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو ملا۔ حکومت اور حزب اختلاف میں یہ سیاسی جنگ ذاتیات پر مبنی تھی جس سے سیاسی ماحول میں کافی تلخی دیکھنے کو ملی۔
انتخابات کے بعد بھی حسب روایت انتخابی نتائج کو قبول نہ کرنے کی جو ہماری سیاسی تاریخ ہے وہی کھیل پھر دیکھنے میں آیا۔حزب اختلاف کے پی ڈی ایم کے بقول چیرمین و ڈپٹی چیرمین کے انتخاب میں ان کے امیدواروں کو حکومت اور اسٹبلیشمنٹ کے باہمی گٹھ جوڑ نے ہرایا ہے۔اسی نکتہ کو بنیاد بنا کر پی ڈی ایم چیرمین وڈپٹی چیرمین کے انتخاب کو چیلنج کررہی ہے۔سینٹ کے موجودہ انتخابات کسی لحاظ سے جمہوری یا مہذہب معاشرے کی عکاسی نہیں کرتے۔یہ ہی وجہ ہے ان انتخابات سے ہماری داخلی وخارجی ساکھ کے بارے میں سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ انتخابات کی سیاسی ساکھ پر سب سے زیادہ سوالات خود وزیر اعظم عمران خان نے ہر فورم پر اٹھائے او ران کے بقول سینیٹ جیسے اہم ادارے کو سیاسی منڈی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ انتخابات میں کرپشن، بدعنوانی، اقراپروری اور پیسوں کا بے دریغ استعمال، ووٹوں کی خرید و فروخت جیسے معاملات کی وجہ سے پہلے ہی ہمارا مجموعی انتخابی نظام اپنی ساکھ کھوبیٹھا ہے۔پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتیں جن میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت کئی جماعتیں شامل ہیں موجودہ انتخاب کے طریقہ کار کو چیلنج کرتی رہی ہیں۔ ان کے بقول سینیٹ میں انتخابات کی شفافیت کے لیے خفیہ بیلٹ کے مقابلے میں اوپن بیلٹ کے تحت انتخاب ہونا چاہیے۔
وزیر اعظم عمران خان نے اوپن بیلیٹ کی حمایت میں حزب اختلاف سے رجوع کیا مگر سیاسی بداعتمادی کی وجہ سے وہ اس اہم معاملے میں سیاسی حمایت حاصل نہیں کرسکے۔حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور ایک صدارتی آرڈینینس جو عدالتی فیصلہ سے مشروط تھا جاری کیا۔مگر سپریم کورٹ آئینی ترمیم کرنے کا اختیار نہیں رکھتی تھی اس لیے اس نے یہ معاملہ دوبارہ حکومت او رپارلیمنٹ پر ہی ڈال دیا کہ وہ خود آئینی ترمیم کا راستہ اختیار کریں۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو تجویز کیا کہ وہ ان انتخابات کی شفافیت کے حوالے سے جو بھی اقدام اٹھانا چاہے وہ اٹھاسکتا ہے کیونکہ وہ ایک خود مختار ادارہ ہے او رانتخابات کی شفافیت اس کی بنیادی ذمہ داری اس پر عائد ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن نے موجودہ انتخابات میں وقت کی کمی کی وجہ سے وہ کچھ نہ کیا جو عدالت نے اسے تجویز کیا یا حکومت ووٹوں کی سیکریسی کے بارے میں کرنا چاہتی تھی۔
ملک کی سینیٹ جیسے ادارے میں انتخابات کے نام پر منڈی جمہوریت کی توہین ہے۔جو طریقہ انتخاب سینیٹ کا موجودہ ہے وہ ایک اعلی معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔جبکہ ہمارے جیسے معاشرے جہاں جمہوری اقدار پر کئی طرح کے سنجیدہ سوالات ہیں وہاں اخلاقی بنیادوں پر جمہوری مقدمہ کو چلانا آسان کام نہیں ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارا ایوان بالا اپنا سیاسی وقار کھوچکا ہے۔حکومت اپنی تمام تر کوشش کے باوجودخفیہ رائے شمار ی کا طریقہ کار تبدیل کروانے اور اسمبلی میں نمائندگی کے اعتبار سے سینٹ کی نشستوں کی تقسیم کا طریقہ تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سینیٹ کے انتخابات میں حزب اختلاف خفیہ رائے شماری اور چیرمین و ڈپٹی چیرمین کے انتخاب میں اوپن بیلٹ کی حمایت کرتی ہوئی نظر آئی جو ان کے سیاسی تضاد کو نمایاں کرتا ہے۔
سینیٹ کے حالیہ انتخاب میں یوسف رضا گیلانی کی بطور سینٹر جیت اور اس کے بعد ان کی چیرمین سینٹ پر شکست یا ڈپٹی چیرمین کی نشست پر مولانا غفور حیدری کی شکست ظاہر کرتی ہے کہ ہم نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے ان غلطیوں کو زیادہ شدت سے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔ہماری سیاسی قوتیں خود ہی اس پورے سیاسی نظام کو تماشہ بنارہی ہیں۔ پی ڈی ایم کا موقف ہے کہ چیرمین و ڈپٹی چیرمین سینٹ پر عددی برتری ان کو حاصل تھی جسے اقلیت میں تبدیل کیا گیا۔لیکن اسی اصول کے تحت خود یوسف رضا گیلانی کی جیت کیسے ہوئی اور وہ کیوں جیتے اس کا جواب بھی پی ڈی ایم کو دینا چاہیے۔سیاسی جماعتوں کی طرف سے یہ کہنا کہ جو مخالف ووٹ ہمیں ملیں وہ ضمیر کی آواز ہیں اور جو ہمارے مخالف کو ملے و ہ خرید وفروخت ہے کھلا تضاد ہے۔سیاسی نظام کی بنیادی خوبی اس کی سیاسی ساکھ اور شفافیت پر مبنی نظام ہوتا ہے۔ اگر یہ نظام شفافیت کھودے تو اس کے نتیجے میں بدعنوانی پر مبنی سیاسی نظام جنم لیتا ہے جس کا سامنا اس وقت پاکستان کی سیاست، جمہوریت اور ریاست کو درپیش ہے۔
سینیٹ کے انتخابات کے حالیہ سبق سے ہماری ریاست، حکومت اور سیاسی جماعتوں و اہل دانش کو بہت کچھ سیکھنا ہوگا۔ انتخابی اصلاحات ایک بہت بڑی ضرورت ہے۔مسئلہ محض سینیٹ کے ارکان کا نہیں بلکہ اس مجموعی سیاسی قیادت کا ہے جو خود سیاسی جرائم پر مبنی ایسے اقدام کی حمایت کرتی ہوئی نظر آتی ہے جو جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے تباہ کن ہے۔ اگر واقعی ہم نے سینیٹ جیسے اہم ادارے کی سیاسی ساکھ اور شفافیت پر مبنی نظام کو بحال کرنا ہے تو غیر معمولی اقدامات کرنے ہو ں گے۔ سیاسی نظام کو اتفاق رائے سے آگے بڑھنا ہوگا۔
اب وقت آگیا ہے کہ سینیٹ جیسے ادارے کی اصلاح کے لیے بڑے اقدامات کئے جائیں۔ اول حکومت اور حزب اختلاف مل کر خفیہ رائے شماری کی بجائے اوپن بیلٹ کا راستہ اختیار کریں۔دوئم اگر متناسب نمائندگی کا اصول اختیار کرنا ہے تو پھر کسی بھی جماعت کو صوبائی سطح پر ملنے والی نشستوں کے تناسب سے سینٹ میں نشستیں ملنی چاہیے۔ سوئم ہمیں سنجیدگی سے سینیٹ کے براہ راست انتخاب پر بھی غور کرنا چاہیے۔ چہارم سینیٹ کو زیادہ سے زیادہ بااختیار ادارہ بنانے کی ضرورت ہے جو ہمارے سیاسی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کا سبب بن سکے۔پنجم یہ جوطریقہ سیاسی جماعتوں نے اختیار کیا ہوا ہے کہ کسی بھی صوبہ کی نمائندگی اس کے صوبہ کا فرد کرنے کی بجائے کسی دوسرے صوبہ کے فرد کو پسند کی بنیاد نشست دی جاتی ہے اس پر مکمل پابندی عائد ہونی چاہیے۔ششم جو لوگ یا جماعت براہ راست اس سیاسی نظام میں ووٹوں کی خرید وفروخت میں ملوث پائے جاتے ہوں ، ان پر سیاست کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہوں۔ ہفتم سیاسی جماعتوں سے جڑے سیاسی جماعتوں کے ایکٹ سمیت الیکشن ایکٹ 2017کو زیادہ سے زیادہ مضبوط،مربوط اور شفاف بنانا ہوگا۔ہشتم جو سینیٹ ممبران پارٹی پالیسی سے ہٹ کر اپنا ووٹ دینا چاہتے ہیں تو وہ کھل کر اس کا اظہا ر کریں نہ کہ پس پردہ کچھ لو او رکچھ دو کی بنیاد پر اپنی سیاسی قیمت لگائیں۔
یہ مسئلہ کسی ایک جماعت کا نہیں ۔اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں، دانش وروں اور سول سوسائٹی ومیڈیا کی ذمہ داری ہے کہ دنیا کے تجربات سے سیکھ کر اپنے نظام کی اصلاح کریں۔