چیف الیکشن کمشنر اور اراکین صرف سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے ہٹائے جاسکتے ہیں

  • منگل 16 / مارچ / 2021
  • 7800

آئین کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اراکین کو صرف سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے ہٹایا جاسکتا ہے۔ اس حوالےسے حکومت کے پاس واحد راستہ  ریفرنس دائر کرنا ہے۔

آئین کی دفعہ 215(2) کے تحت کمشنر یا کوئی رکن اپنے عہدے سے سوائے اس صورت کے نہیں ہٹایا جائے گا جو آرٹیکل 209 میں کسی جج کے عہدے سے علیحدگی کے لیے مقرر ہے۔ اس شق کے اغراض کے لیے اس آرٹیکل کے اطلاق میں مذکورہ آرٹیکل میں جج کا کوئی حوالہ کمشنر یا جیسی بھی صورت ہو کسی رکن کے حوالے کے طور پر سمجھا جائے گا۔ خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی سربراہی چیف جسٹس آف پاکستان کرتے ہیں اور عدالت عظمیٰ کے 2 سب سے سینئرز ججز اور ہائی کورٹ کے 2 چیف جسٹس اس کا حصہ ہوتے ہیں۔

آئین کی دفعہ 209(5) (ب) کے مطابق 'اگر کسی ذریعے سے اطلاع ملنے پر کونسل یا صدر کی یہ رائے ہو کہ عدالت عظمٰی یا کسی عدالت عالیہ کا کوئی جج بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہو تو صدر کونسل کو ہدایت کرے گا یا کونسل خود اپنی تحریک پر معاملے کی تحقیقات کرسکے گی'۔ دفعہ 209 (6) کے تحت 'اگر معاملے کی تحقیقات کرنے کے بعد کونسل صدر کو رپورٹ پیش کرے کہ اس کی رائے یہ ہے کہ جج اپنے عہدے کے فرائض منصبی کی انجام دہی کے قابل نہیں ہے یا بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہے اور اسے عہدے سے برطرف کردینا چاہیے تو صدر اس جج کو عہدے سے برطرف کرسکے گا'۔

اسی طرح آئین کی دفعہ 209 (7) کہتی ہے کہ 'عدالت عظمیٰ یا کسی عدالت عالیہ کے کسی جج کو سوا جس طرح اس آرٹیکل میں قرار دیا گیا ہے عہدے سے برطرف نہیں کیا جائے گا'۔ اس کے باوجود سینیٹ الیکشن شفاف طریقے سے کرانے میں ای سی پی کی مبینہ ناکامی پر حکومت کی جانب سے کمیشن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ایک سینئر عہدیدار نےبتایا ہے کہ کمیشن کے استعفے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن پر 'ووٹوں کو قابل شناخت بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال میں ناکامی پر تنقید کرنا آئین کی دفعہ 226 کی خلاف ورزی ہے جو خفیہ رائے شماری سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نہ تو آئین دوبارہ لکھ سکتا ہے نہ ہی اس میں ترمیم کرسکتا ہے۔ کمیشن آئین و قانون پر سختی سے عمل جاری رکھے گا۔

کچھ ناقدین کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے خلاف حکومت کی مہم کا سینیٹ الیکشن سے کچھ خاص لینا دینا نہیں ہے اور اسے صرف فارن فنڈنگ کیس کے سلسلے میں کمیشن پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ ناقدین نے مزید کہا کہ حکومت چیف الیکشن کمشنر کے عہدے کے لیے خود اپنے منتخب کردہ سکندر سلطان راجا کو نشانہ بنا رہی ہے کیوں کہ ان کے کچھ فیصلے اس کے لیے ہزیمت کا باعث بنے ہیں۔

ناقدین کے مطابق الیکشن کمیشن ملک بھر میں بلدیاتی انتخاب کروانا چاہتا ہے لیکن پاکستان تحریک انصاف اور اس کے اتحادی مقامی انتخابات میں اپنی ٹانگ اڑاتی ہیں۔ ڈسکہ میں پریزائڈنگ افسران کی گمشدگی کے باعث دوبارہ ضمنی انتخاب کے انعقاد سے بھی حکومت خفا ہوئی ہے۔