ڈسکہ میں دوبارہ ضمنی انتخاب ہر صورت ہوگا: سپریم کورٹ
- منگل 16 / مارچ / 2021
- 5640
سپریم کورٹ نے ڈسکہ کی حلقہ این اے 75 میں دوبارہ ضمنی انتخاب کا عدنیہ دیا ہے تاہم یہ معاملہ ابھی طے طلب ہے کہ پورے حلقے مین نیا انتخاب ہوگا یا محض چند پولنگ اسٹیشنز میں پھر سے انتخاب کا حکم دیا جائے گا۔
پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار نے اس حلقہ مین دوبارہ ضمنی انٹکاب کروانے سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم کروانے کی درخواست دائر کی ہے۔ اس کی سماعت سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ کررہا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پی ٹی آئی امیدوار ساجد ملہی کی درخواست پر سماعت کی۔
سماعت کےدوران عدالت نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ الیکشن کمیشن جوڈیشل فورم یا ایگزیکٹو اتھارٹی کے طور پر کارروائی کرسکتا ہے۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن سے حلقے میں انتخابی اخراجات کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ پاک فوج کی تعینات ہونے کی وجہ سے 2018 کا انتخاب پرامن ہؤا تھا۔ این اے-75 میں فوج تعینات نہیں تھی، جو الیکشن کمیشن کی غلطی تھی۔ سماعت کی ابتدا میں معاون وکیل نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کی پیروی کرنے والے وکیل سلمان اکرم راجا کورونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سلمان اکرم راجا کو سنے بغیر فیصلہ نہیں کریں گے۔ آئینی اداروں کا احترام کرتے ہیں، الیکشن کمیشن نے انتخابی شیڈول آگے کر دیا ہے۔ شاید انہوں نے اسی کیس کی وجہ سے پولنگ کی تاریخ میں توسیع کی۔ پی ٹی آئی کے وکیل نے بتایا کہ پولنگ کی تاریخ پنجاب حکومت کی درخواست پر آگے بڑھائی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کی ہدایت پر حلقے میں کچھ تبادلے اور تقرریاں ہونی ہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ دوبارہ الیکشن تو ہوگا، دیکھنا یہ ہے کہ محدود پیمانے پر یا پورے حلقے میں دوبارہ الیکشن کرانا ہے۔ الیکشن کمیشن کے احکامات یونہی معطل نہیں کریں گے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے پی ٹی آئی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ الیکشن کمیشن کا جواب پڑھیں۔ آئینی اداروں کی عزت کرتے ہیں، معاملے کا ہر پہلو سے جائزہ لیں گے۔
جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ الیکشن کے حوالے سے ریٹرننگ آفیسر نے رپورٹ کب دی اور ریٹرننگ آفیسر کمیشن کے سامنے کب پیش ہوئے؟ جس کے جواب میں پی ٹی آئی وکیل نے بتایا کہ 25 فروری کو مختصر حکمنامہ جاری کیا گیا۔ مختصر حکم نامہ جاری کرنے کا اختیار صرف اعلیٰ عدلیہ کا ہے۔
وکیل نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے دوبارہ کوئی انکوائری نہیں کرائی۔ ریٹرننگ افسر نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ صرف 23 پولنگ اسٹیشنز پر مسئلہ تھا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے دریافت کیا کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ باقی جگہ پولنگ کا عمل نارمل تھا؟ جس پر وکیلِ تحریک انصاف نے ریٹرننگ آفیسر کی رپورٹ پڑھ کر سنائی۔ وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے معاملے پر امیدواروں کو 23 پولنگ اسٹیشنز کے ٹائٹل سے نوٹس بھجوائے۔ تصادم اور قتل کے واقعات نظر انداز نہیں کیے جا سکتے جبکہ رپورٹ کچھ اور ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ داخلہ کی رپورٹ کے مطابق حلقے کے حالات اب بھی پہلے والے ہیں۔ محکمہ داخلہ کی رپورٹ پر پولنگ کی تاریخ میں توسیع کی گئی۔ جسٹس مظاہر علی نقوی نے دریافت کیا کہ کیا تشدد والی ویڈیوز الیکشن کمیشن میں پیش کی جاسکتی تھیں، یہ کیسے پتا چلایا گیا کہ ویڈیوز اسی حلقہ کی ہے، ویڈیوز کس نے بنائیں؟
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے امن و امان کے لیے پولیس پر بھروسہ کیا، کیا آئی جی پنجاب نے الیکشن کمیشن میں جواب جمع کرایا ہے؟ جس پر وکیل الیکشن کمیشن نے بتایا کہ آئی جی پنجاب نے جواب داخل نہیں کرایا۔ جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب کو توہین کا نوٹس جاری کر دیا ہے؟
جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ الیکشن ڈے پر امیدواروں کی جانب سے بندوقوں کے سائے میں جمہوریت پروان نہیں چڑھ سکتی۔ اب اس کو ٹھیک ہونا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ الیکشن صاف شفاف اور جبر و تشدد سے پاک ہونے چاہئیں۔ عدالت کے سامنے جو سوال ہے اس کے شواہد کا معیار دیکھنا ضروری ہے۔