استعفوں کے سوال پر تنازعہ، اپوزیشن کا لانگ مارچ ملتوی کردیا گیا

  • منگل 16 / مارچ / 2021
  • 5340

اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے 26 مارچ کا لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اسمبلیوں سے استعفے کے سوال پر حتمی رائے سامنے نہ آنے پر کیاگیا ہے۔

اسلام آباد میں پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس منعقد ہوا جس میں نواز شریف، آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور ڈاکٹر جمالدینی وڈیولنک کے ذریعے شریک ہوئے۔  اجلاس کا ایجنڈا 26 مارچ کے لانگ مارچ کے حوالے سے تھا۔ لانگ مارچ کےساتھ اسمبلیوں سے استعفوں کا سوال بھی تھا۔

انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے ساتھ استعفوں کو وابستہ کرنے کے حوالے سے 9 جماعتوں کی رائے کے برعکس پی پی پی کو تحفظات تھے۔ پارٹی نے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی طرف رجوع کرکے فیصلہ کرنےا کا وقت مانگا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم نے ان کو موقع دیا ہے اور ہمیں ان کے فیصلے کا انتظار ہوگا، اس وقت تک 26 مارچ کا لانگ مارچ ملتوی تصور کیا جائے گا۔

پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن پی پی پی کے جواب تک لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کرکے پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔ تاہم پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور پی پی پی کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے سوالات کے جواب دیے۔

مریم نواز نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب تک پی پی پی جواب نہیں دیتی اس وقت تک قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتی۔ اجلاس میں آصف زرداری کے سخت مؤقف کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ زرداری صاحب نے کہا کہ میاں صاحب آپ اور باقی سب لوگ بھی تشریف لائیں سب مل کر جدوجہد کرتے ہیں۔ اس پر میں نے ادب سے کہا کہ نواز شریف کو واپس لانا ان کی زندگی کو قاتلوں کے حوالے کرنے کے مترادف ہوگا۔ جو نہ مسلم لیگ (ن) کے عہدیدار اور نہ ہی مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک چاہتا ہے کہ ان کی جان کو کوئی خطرہ ہو۔

مریم نواز نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو زندہ لیڈرز چاہئیں۔ ہمیں لیڈرز کی لاشیں نہیں چاہئیں۔ میں نے زرداری صاحب سے عرض کیا کہ نواز شریف کی جدوجہد اور قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ اس ظالمانہ اور انتقام کے دور میں سب سے سخت اور سب سے لمبی جیل کاٹی ہے۔ بستر مرگ پر اپنی اہلیہ کو چھوڑ کر بیٹی کا ہاتھ تھام کر ایک جھوٹے مقدمے میں جھوٹی سزا بھگتنے پاکستان آگئے تھے۔ اور بہادری سے جیل کاٹی۔

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو جیل میں دل کے دورے پڑے لیکن بہادری سے برداشت کیا۔ اس حکومت کے ہاتھ پاؤں اس وقت پھولے جب ان کی زندگی خطرے میں آگئی اور ان کو لگا کہ خدانخواستہ انہیں کچھ ہو نہ جائے تو آناً فاناً حکومت نے ان کو باہر بھیجا۔ مسلم لیگ (ن) اوراس کا ووٹر اور میں بطور بیٹی سمجھتی ہوں کہ کسی کو انہیں واپس بلانے کا حق نہیں ہے۔ اللہ نے ان کی زندگی بچائی، اب  اسے واپس قاتلوں کے حوالے کردیں۔

اس موقع پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ 26 مارچ کی ریلی استعفوں سے مشروط تھی۔ چیئرمین بلاول اور میں نے پی ڈی ایم کی پوری قیادت سے گزارش کی کہ ہمیں آپ مہلت دیں کیونکہ سی ای سی کا پہلا فیصلہ استعفوں کے حق نہیں تھا۔ اگر آپ چاہتے ہیں ہمیں استعفے دینے چاہئیں تو ہمیں سی ای سی میں واپس جانے کے لیے وقت دیں۔ تاکہ ان سے اجازت لے کر پھر آپ کے پاس آئیں گے۔ اس لیے انہوں نے متفقہ طور پر ہمیں وقت دیا ہے۔

مریم نواز نے ایک سوال پر کہا کہ پی ڈی ایم عملاً ساتھ ہیں اور تعاون بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو پاکستان بلا کر ان قاتلوں کے حوالے نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے نواز شریف کو نئی زندگی دی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو ان کی بصیرت کی ضرورت ہے۔