پی ڈی ایم متحد ہے، استعفوں پر اختلاف ہے: مولانا فضل الرحمان
- بدھ 17 / مارچ / 2021
- 5130
اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ اسمبلیوں سے استعفوں کا تقاضہ شروع سے ہی تھا۔ کہیں یہ نہیں کہا گیا کہ یہ حتمی آپشن ہے یا ایٹم بم کی طرح استعمال ہوں گے۔
پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے پی ڈی ایم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مختصر الفاظ میں کہہ دیتا ہوں کہ پی ڈی ایم متحد ہے، مختلف مسائل پر اختلاف رائے ہوتا ہے اور کل بھی مختلف رائے سامنے آئی۔
پی ڈی ایم کے صدر نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہم نے جلسے کیے اور لوگوں کا ردعمل دیکھا اور اب جب ہم نے فیصلہ کیا کہ اسلام آباد یا راولپنڈی کی طرف مارچ ہوگا تو 10 میں سے 9 جماعتوں کی رائے تھی کہ ہم جائیں تو استعفے دیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کی نشستوں سے استعفیٰ دے دیں، آدھا ایوان خالی ہوجائے گا اور انہیں الیکشن کروانے پڑیں گے۔ لیکن پیپلزپارٹی نہیں مانی جبکہ اکثریت استعفے دینے پر متفق ہے۔ ابپیپلزپارٹی کے مؤقف کا انتظار ہے، خدا کرے ان کو یہ بات سمجھ آئے اور 9 جماعتوں کی رائے کا احترام کریں۔ پی ڈی ایم کے رکن اور ساتھ رہیں، ہم ان کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ہم قانون سازی کرتے ہیں، پھر ہمارے اوپر بین الاقوامی دباؤ آتا ہے۔ جب ریاست پر بین الاقوامی دباؤ آتا ہے اور اس دباؤ میں ہم کوئی قانون بناتے ہیں یا قانون تبدیل کرتے ہیں تو اسی سے اندازہ لگائیں کہ ہماری آزادی کدھر ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے منشور میں خارجہ پالیسی کے موضوع میں اسرائیل اور برطانیہ دونوں کا ذکر موجود ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں ہم آرام سے نہیں بیٹھے اور اس ایجنڈے پر پیش رفت بھی نہیں ہونے دی۔
مدارس کے سلیبس پر بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہمارے علمائے کرام نے سلیبس کو ایک رکھنے کے لیے بڑی کاوشیں کیں۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع نے 4 سال تک حکومت اور بیورکریسی سے گفتگو کی کہ آئیے ہم نصاب ایک کریں لیکن پذیرائی نہیں بخشی گئی۔ تب جا کر دارالعلوم کی بنیاد رکھی۔
آج بین الاقوامی دباؤ کے تحت دینی علوم کے مراکز میں مداخلت کرکے ان اس کے کردار کو کمزور کرنا مقصود ہے تاکہ یہ ختم ہوجائیں۔ لیکن ہم دینی مدارس کی آزادی اور خودمختاری کے ساتھ دینی علوم کا تحفظ کریں گے۔