عدلیہ کے خلاف فِفتھ جنریشن وار شروع کی گئی ہے: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
- بدھ 17 / مارچ / 2021
- 3710
وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کی براہ راست کوریج کی ایک مرتبہ پھر مخالفت کی ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر رحمٰن نے کہا کہ عدالتی کارروائی تکنیکی نوعیت کی ہوتی ہے اور ججز کے سوالات سے عام آدمی سمجھنے کی بجائے کنفیوژ ہوگا۔
سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس قاضی محمد امین پر مشتمل 6 رکنی بینچ نے صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس عیسیٰ کی درخواست پر دیے گئے عدالتی فیصلے کے خلاف جسٹس عیسیٰ، ان کی اہلیہ و دیگر کی نظرثانی درخواستوں پر سماعت کی۔
سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ججز کے کنڈکٹ پر پارلیمنٹ میں بھی بحث نہیں ہوسکتی۔ اس لیے براہ راست کوریج سے عدالتی وقار میں بھی کمی آئے گی۔ انہوں نے بھارتی سپریم کورٹ اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیس کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی کارروائی عوام تک پہنچانے کے لیے میڈیا موجود ہے۔ میڈیا نمائندگان آسان زبان میں عدالتی کارروائی عوام تک پہنچاتے ہیں۔ میڈیا کے ہوتے ہوئے براہ راست کارروائی دکھانے کا کوئی جواز نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خدشہ ہے براہ راست کوریج سے فیصلے قانون نہیں مقبولیت پر مبنی ہوں گے۔ جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ کے دلائل مضبوط ہیں، ان کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے وزیر اعظم، وزیر قانون اور معاون خصوصی شہزاد اکبر پر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ سرینا عیسیٰ نے دلائل میں کہا کہ میرے شوہر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے تو ان کی مدد کرتی تھی اور پہلے کبھی تصویر نہیں بنی، لیکن اب عدالت آتے جاتے میری ویڈیوز بنائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر جاتی تھی تب بھی میری ویڈیوز بنائی جاتی تھی۔
سرینا عیسیٰ نے اپنے دلائل میں کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر قانون نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور جسٹس قاضی فائز عیسی کو ہٹانے کے لیے غیر قانونی اقدامات کیے۔ میرے ساتھ حکومتی عہدیداروں کا رویہ تضحیک آمیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی رقم سے خریدی جائیداد راتوں رات میرے شوہر کی بنادی گئی حالانکہ میں وزیر اعظم عمران خان سے زیادہ ٹیکس ادا کرتی ہوں۔ جسٹس قاضی عیسیٰ فائز کی اہلیہ نے عدالت میں کہا کہ عدالت حکم دے تو براہ راست کوریج کا بندوبست کر سکتی ہوں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدلیہ کے خلاف ففتھ جنریشن وار شروع کی گئی ہے۔ یہ وار دشمن کے خلاف نہیں ہورہی جبکہ سوشل میڈیا برگیڈ منہ چھپا کر حملے کر رہا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کہ وحید ڈوگر کی شناخت کیا ہے؟ کوئی نہیں بتاتا اور پاکستان میں اس وقت ڈوگر جیسے ٹاؤٹ بھرے پڑے ہیں جبکہ 8 ہزار روپے پر نیب کا ملازم شہزاد اکبر عدلیہ کو لیکچر دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم احمقوں کی جنت میں نہیں رہ سکتے اور عدالت خود دیکھ سکتی ہے کارروائی کتنی رپورٹ ہوتی ہے جبکہ تاثر ہمیشہ حقیقت سے مختلف ہوتا ہے۔ میں چاہتا ہوں لوگ میری بات براہ راست سنیں کیونکہ میری گفتگو کا مکمل حصہ میڈیا رپورٹ نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو عالمی لیڈر مان کر لوگ فالو کرتے ہیں۔
دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ کے تحریری دلائل کا جائزہ لیا ہے۔ تمام دلائل اوپن کورٹ میں سماعت کے تھے۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ آغا افتخار الدین مرزا نے مجھے قتل کی دھمکی دی اور جب میری اہلیہ مقدمہ درج کرانے گئی تو پولیس نے کہا وزیر داخلہ سے اجازت لیں گے اور 5 دن بعد پولیس نے مقدمہ ایف آئی اے کو بھجوا دیا۔
انہوں نے کہا کہ مرزا افتخار الدین کو سپریم کورٹ میں پروٹوکول دیا گیا لیکن یاد رہے کہ میں قتل ہوا تو شہید کہلاؤں گا جنت میں جاؤں گا جبکہ ریاست مدینہ افتخار الدین مرزا کو آزاد کر رہی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ افتخار الدین مرزا کا تعلق شہزاد اکبر سے نکلا لیکن تفتیش روک دی گئی۔ میرے کیس میں عدالت نے فردوس عاشق اعوان کے خلاف کارروائی کا کہا۔ لیکن فردوس عاشق اعوان کو پنجاب میں عہدہ مل گیا۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ نے ہمارا فیصلہ چیلنج کر رکھا ہے۔ ہر کوئی یہی کہے گا فیصلہ چیلنج ہونے کے باوجود ان پر عمل کریں۔ جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کو نہیں کہہ رہا کہ فردوس عاشق اعوان کو جیل بھیجیں۔ انہوں نے کہا کہ کبھی خود بھی توہین عدالت کیس میں کسی کو جیل نہیں بھیجا۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میرے خلاف یوٹیوب پر پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ میں یوٹیوب چینل نہیں بنا سکتا اس لیے عدالت میں کھڑا ہوں۔ بول ٹی وی کا مالک کون ہے یہ کوئی نہیں بتائے گا جبکہ اس چینل کے شیئرز کس کے پاس ہیں میڈیا بھی ذکر نہیں کرے گا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ میرے نام سے تین جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹس بنے ہوئے ہیں۔ 3 مرتبہ خط لکھ چکا ہوں کہ میرا کوئی ٹوئٹر اکاؤنٹ نہیں۔
بعد میں عدالت نے سماعت کل تک ملتوی کردی۔