الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنے کی دھمکی
- بدھ 17 / مارچ / 2021
- 8180
حکومت نے دھمکی دی ہے کہ اگر الیکشن کمیشن کے اراکین اور چیف الیکشن کمشنر اپنے عہدوں سے مستعفی نہ ہوئے تو ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ای سی پی اراکین مستعفی نہ ہوئے تو ہم ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔ ہم اٹارنی جنرل کے ساتھ اس حوالے سے کام کررہے ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ الیکشن کمیشن کے اراکین کو خود ہی چلے جانا چاہیے ورنہ ہمارے پاس قانونی آپشنز موجود ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک سیاسی جماعت ہونے کی حیثیت سے پاکستان تحریک انصاف عوام کا مطالبہ الیکشن کمیشن کے اعلیٰ عہدیداران تک پہنچا رہی ہے کہ استعفیٰ دے کر پارلیمنٹ کو نیا کمیشن تشکیل دینے کا موقع دیں۔ موجودہ الیکشن کمیشن اپنا مقصد پورا نہیں کررہا۔ اس کی ساکھ صرف اس وقت ہی بحال ہوسکتی ہے کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں اس پر بھروسہ رکھیں۔
فواد چوہدری نے مزید کہا کہ متنازع الیکشن کمیشن معاملات آگے لے کر نہیں چل سکتا۔ حکومت کا خیال ہے کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی جانب سے حالیہ سینیٹ انتخاب میں دھاندلی اور 'ہارس ٹریڈنگ' کو روکنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کے حکم کی پیروی نہیں کی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آئین کہ دفعہ 218 (3) واضح طور پر کہتی ہے کہ الیکشن کمیشن کسی بدعنوانی کے بغیر آزادانہ و منصفانہ انتخابات کروانے کا ذمہ دار ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام رہا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو بغیر کسی بدعنوانی کے شفاف انتخابات یقینی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کا مشورہ دیا تھا لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہا۔ خیال رہے کہ 2 روز قبل حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن پر سینیٹ انتخابات میں فرائض کی انجام دہی میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے کمیشن کے اراکین سے مستعفی ہونے اور نئے کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔