بھارت پہل کرے گا تب ہی مسئلہ کشمیر حل ہوگا: وزیراعظم
- بدھ 17 / مارچ / 2021
- 5180
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے مسئلہ کشمیر رکاوٹ ہے۔ ہم تو کوشش کریں گے لیکن بھارت کو پہلا قدم لینا پڑے گا۔ بھارت پہلا قدم نہیں لیتا تو یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
اسلام آباد میں سیکیورٹی ڈائیلاگ کے حوالےسے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل ہوتا ہے تو یہ سارا خطہ تبدیل ہوجائے گا اور دونوں ممالک کا فائدہ ہوگا۔ جب ہماری حکومت آئی تو ہم نے بہت کوشش کی کہ کس طرح مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے۔ پڑوسیوں کی طرح تعلقات قائم کریں لیکن بدقمستی سے 5 اگست ہوا جس سے بہت بڑا دھچکا لگا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بالکل ٹوٹ گئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ابھی بھی امید رکھتے ہیں کہ اگر بھارت کشمیریوں کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد کے مطابق حق خودارادیت دے دے تو یہ خود بھارت کے لیے بھی اتنا مفید ہے جتنا پاکستان کے لیے۔ بھارت کی غربت ختم ہوگی اور ہمارے معاشی و تجارتی تعلقات بہتر ہوں گے۔ علاقائی روابط بڑھیں گے اور وہ بھی وسطی ایشیا سے منسلک ہوجائے گا۔
نیشنل سیکیورٹی ڈویژن نے وفاقی دارالحکومت میں پہلے اسلام آباد سیکیورٹی ڈائیلاگ کا انعقاد کیا کہ جس کے پہلے روز ایک ایڈوائزری پورٹل کا اجرا کیا گیا۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق اس پورٹل کا مقصد جامع سیکیورٹی فریم ورک کی بنیاد پر پاکستان کی نئی تزویراتی سمت کا تعین کرنا ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کانفرنس کے پہلے روز بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی اور این ایس ڈی کے ایڈوائزری پورٹل کا اجرا کیا جس سے پالیسی میکنگ میں تھنک ٹینکس اور دانشوروں اور ماہرین کو منسلک ہونے کا موقع ملے گا۔ سیکیورٹی ڈائیلاگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے ملک میں اس مباحثے کی بہت ضرورت ہے کہ اصل میں قومی سلامتی کیا ہے۔
ہم اب تک قومی سلامتی کو صرف ایک پہلو سے دیکھتے رہے ہیں کہ افواج کو جتنا مضبوط کریں گے، اتنا ہی محفوظ ہوں گے۔ لیکن موسمیاتی تبدیلیوں جیسی چیزیں بھی قومی سلامتہ کا حصہ ہے۔ اس پر پہلے کسی نے نہیں سوچا۔ پاکستان میں 5 سے 6 سال پہلے کوئی موسمیاتی تبدیلیوں کی بات ہی نہیں کرتا تھا۔ ہم نے یہ بحث شروع کی ہے۔ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی پوری تیاری کرنی ہے اور قومی سلامتی کے لیے یہ بھی اہم ہوگیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے وہ اقدامات کیے ہیں جو دنیا میں بہت کم ممالک نے اٹھائے ہیں اور ہم ہر اس ملک کے ساتھ شامل ہوں گے جو پیرس ماحولیاتی معاہدے کے تحت اقدامات کریں گے۔ ہمارا ایک اور بہت بڑا مسئلہ خوراک کا تحفظ ہے۔ جتنی تیزی سے ہماری آبادی بڑھ رہی ہے اور اس کی وجہ سے پہلی مرتبہ ہم نے ایک سال میں 4 ملین ٹن گندم درآمد کی۔ اپریل میں ہم ایک نیا اور جامع منصوبہ لے کر آرہے ہیں کہ ہمیں پاکستان میں غذائی تحفظ کس طرح یقینی بنانا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سب سے اہم معیشت ہے۔ اشیائے خور و نوش مہنگی ہوجاتی ہیں، تیل، بجلی، ٹرانسپورٹ، دالوں کی درآمد، گھی، خوردنی تیل سب چیزوں کا اثر غریبوں پر پڑتا ہے اور ملک میں غربت بڑھ جاتی ہے۔ ہم نے وہ کرنا ہے جو چین نے کیا تھا کہ انہوں نے 30 سے 35 سال میں 70 کروڑ افراد کو غربت سے نکال کر اوپر کیا ہے۔
چاہے کوئی چین کو پسند کرے یا نہ کرے لیکن یہ سب سے بڑی چیز ہے جس کی تعریف کی جانی چاہیے۔ یہ سب سے زیادہ سیکیورٹی دیتی ہے کسی ملک کو کہ اس کا ہر شہری سمجھے کہ حکومت ہماری بھی فکر کرتی ہے۔ قومی سلامتی کا مطلب یہ ہے کہ ایک قوم کا کھڑا ہونا جس کا اس بات پر یقین ہو کہ اس ملک کو بچانے میں ہمارا مفاد ہے۔ اس لیے اشرافیہ کا نظام ختم کرنا ضروری ہے۔
وہ ملک کبھی بھی محفوظ نہیں ہوسکتا جہاں چند افراد امیر ہوں اور غریبوں کا سمندر ہو۔ محفوظ وہ ممالک ہوتے ہیں جہاں سب کو یقین ہوتا ہے کہ یہ ہمارا ملک، ہماری حکومت ہے۔ اس ملک میں ہمارا بھی مفاد ہے، جب تک لوگ اپنے ملک کو اپناتے نہیں، وہ محفوظ نہیں ہوتا۔ ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہمارے ملک میں 25 فیصد آبادی شدید غریب اور 25 فیصد وہ ہے جو ذرا سا دباؤ پڑنے پر خطِ غربت کے نیچے چلی جاتی ہے۔ انہیں اوپر لانے کے لیے تخفیف غربت کا احساس پروگرام ہے جس میں کچھ چیزیں چین سے بھی لی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب حکومت ٹارگٹڈ سبسڈیز کا پروگرام لارہی ہے جسے عالمی سطح پر سراہا جائے گا جس میں ہماری کوشش یہ ہوگی کہ ہم نصف سے زائد آبادی کو ٹارگٹڈ سبسڈیز دیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس خطے میں امن آجائے تو سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا کیوں کہ ہم چاروں طرف سے جڑے ہوئے ہیں۔ دنیا کی 2 بڑی منڈیوں سے منسلک ہیں یعنی چین کے ساتھ تو تعلقات ہیں اور بھارت سے بھی ہوسکتے ہیں۔ ایک جانب ایران ہے جس سے ہماری توانائی کی ضروریات پوری ہوسکتی ہے پھر افغانستان کے ساتھ وسطی ایشیا تک رابطہ ہے۔ لیکن اس لوکیشن کا فائدہ صرف اس وقت اٹھایا جاسکتا ہے جب خطے میں امن ہو۔
چین کے ساتھ ہمارے بہترین تعلقات ہیں۔ افغانستان میں بڑے عرصے کے بعد امن کی ایک امید ملی ہے اور کسی کو بھی اسے کم نہیں سمجنا چاہیے۔ افغانستان میں امن کا جتنا اسٹیک خود اس کے لیے ہے اس کے بعد پاکستان کے لیے ہے۔