وزیر اعظم عمران خان کا امتحان
- تحریر سلمان عابد
- بدھ 17 / مارچ / 2021
- 5680
وزیر اعظم عمران خان کی حکومت سینیٹ میں برتری چاہتی تھی اور بالخصوص چیرمین و ڈپٹی چیرمین سینٹ کے عہدوں پر اپنے لوگ منتخب کروانے کی خواہاں تھی۔ تحریک انصاف سینیٹ میں عددی برتری بھی حاصل کرچکی ہے۔
سینیٹ کے انتخابات کے بعد حکومت کے پاس سیاسی تنازعہ کا جواز ختم ہوگیا ہے۔ اگرچہ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان پہلے سے جاری بداعتمادی یا محاذ آرائی کی کیفیت میں کمی ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ سیاسی حالات میں کشیدگی، غیر یقینی، محاذآرائی اور ٹکراؤ کو ہی غلبہ رہے گا۔بدقسمتی سے ہماری سیاسی قوتیں چاہے وہ حکومت میں ہوں یا حزب اختلاف ک میں، ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے وہی غلطیوں کو دہراتی ہیں جو سیاست او رجمہوریت کو کمزور کرتی ہیں۔تحریک انصاف کے پاس مرکز، دوصوبوں خیبر پختوخواہ و پنجاب کی حکومتیں ہیں جبکہ بلوچستان میں مخلوط حکومت میں حصہ داری ہے۔ گلگت بلتستان میں حکومت قائم کرنے کے بعد اب سینیٹ میں سیاسی برتری ظاہر کرتی ہے کہ حکومت کمزور پوزیشن میں نہیں ہے۔
2023نئے انتخابات کا برس ہوگا۔ کچھ سیاسی پنڈتوں کے خیال میں یہ انتخابات 2022میں بھی ہوسکتے ہیں۔ اس تناظر میں اگر ہم حکومت کا سیاسی چیلنج دیکھیں تو اسے چھ مسائل کا سامناہے۔ اول حکومت، پی ڈی ایم کا سیاسی طور پر مقابلہ کیسے کرتی ہے۔ پی ڈی ایم کسی بھی صورت میں حکومت کو سیاسی بنیادوں پر مضبوطی سے کھڑا نہیں ہونے دے گی اور تواتر سے عدم استحکام کی کوشش کرے گی۔دوئم حکومت دو برسوں میں سیاسی او رمعاشی محاذ پر ایسا کیا کرتی ہے کہ عام آدمی کو سیاسی ومعاشی ریلیف مل سکے۔ او رعام لوگوں کا حکومت پر اعتماد بحال ہوسکے۔ سوئم حکومت شفاف احتساب کے معاملہ پر عوام کو کیسے مطمئن کرتی ہے۔چہارم حکومت ملک میں اداروں کو مضبوط کرنے کے لئے کیا اصلاحات کرتی ہے۔ پنجم اچھی حکمرانی بہتر ٹیم کا انتخاب۔ششم اگر ملک میں اس برس مقامی حکومتوں کے انتخابات ہوتے ہیں تو کیسے ان انتخابی نتائج میں حکومت او ران کی اتحادی جماعتیں سیاسی برتری قائم رکھیں گی۔
وزیر اعظم عمران خان کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ اب ان کے پاس اگلے عام انتخابات سے قبل وقت بہت زیادہ نہیں ہے۔ عمران خان حکومت کو عملی طور پر ان پانچ برس کے اقتدار میں عوام کو دکھانے کے لیے کسی اہم کامیابی کی ضرورت ہے۔ ایسے عملی منصوبے، اصلاحات، قانون یا پالیسی سازی لوگوں کو دکھانا ہوگی کہ حکومت پر اعتماد بحال ہو۔ حکومت نے وفاقی اور صوبائی سطح پر کئی منصوبے شروع کئے ہیں لیکن ان منصوبوں کی 2022میں تکمیل ہی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ اسی طرح معاشی بدحالی او رمہنگائی کا خاتمہ او ربنیادی سہولتوں پر لوگوں کو معاشی ریلیف حکومت کی سیاسی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے سکے گا۔ لوگ سیاسی نعروں یاجذباتی گفتگو کی بجائے عملی اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں۔ عوامی خدمت اور سیاسی ومعاشی ریلیف کے لیے حکومت کو ہنگامی بنیاد پر کام کرنا ہوگا۔
حزب اختلاف کے اتحاد پی ڈی ایم کی کوشش ہوگی کہ وہ ہر صورت میں حکومت کو محاذ آرائی کی سیاست میں الجھائے رکھے تاکہ وہ کارکردگی کی بجائے الزامات کی سیاست سے باہر نہ نکل سکے، جو ان کو سیاسی فائدہ دے سکے۔ اس لیے وزیر اعظم اور حکومت میں شامل افراد کا بڑا امتحان ہوگا کہ وہ محاز آرائی کی سیاست میں الجھنے کی بجائے اپنی ساری توجہ حکومتی کارکردگی پر دیں، یہی ان کو سیاسی فائدہ دے سکتا ہے۔وزیر اعظم ضرور اپنے سیاسی مخالفین کا احتساب کریں لیکن اس پر بہت زیادہ شورمچانے کی بجائے حکومت ان معاملات کو انصاف کے اداروں تک محدود کیا جائے ۔ تواتر کے ساتھ حکومت کا احتساب کو بنیاد بنا کر سیاسی مخالفین پر حملہ محض الزامات کی سیاست کو ہی طاقت دے رہا ہے۔
حکومت کے پاس اب یہ ہی آپشن موجود ہے کہ وہ لانگ ٹرم منصوبے بھی بنائے لیکن اب اگلے دو برس میں شارٹ یا مڈٹرم بنیاد پر غیر معمولی صورتحال میں کچھ بڑا کرکے دکھائے۔حکومت کو اپنی معاشی ٹیم کو ایک بڑا ٹاسک دینا ہوگا کہ وہ لوگوں کو زیادہ سے زیاد ہ معاشی ریلیف دیں۔عام او رکمزور آدمی کی معاشی حیثیت کو بہتر کیا جائے۔ ایک مسئلہ اتحادی جماعتوں او ر اپنے ارکان اسمبلی کے ساتھ بہتر تعلقات، موثر رابطہ کاری او رمشاورت سے فیصلہ سازی کا بھی ہے۔ وزیر اعظم کو سمجھنا ہوگا کہ وہ اتحادی جماعتوں کی مدد سے ہی حکومت کررہے ہیں او ر وہ اتحادی جماعتوں کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔وزیر اعظم کو کیونکہ دوبرس کے بعد نئے انتخابات کی طرف جانا ہے توان کو اپنی سیاسی، قانونی او رمعاشی ٹیم میں بھی کچھ بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں کرکے سمجھ بوجھ والے افراد کا چناؤ کریں جو ان کی حکومت کو فائدہ دے سکیں۔ وقت آگیا ہے کہ وہ پارٹی معاملات پر بھی توجہ دیں کیونکہ ان کی جماعت داخلی بحران کا شکار ہے۔ جب وہ سیاسی جماعت کو مضبوط کریں گے تو اس سے ان کی حکومت کی ساکھ بہترہوگی۔
وزیر اعظم کو قبول کرنا ہوگا کہ حکومتی کارکردگی پر خود ان کی اپنی جماعت اور حمایتی لوگوں میں بھی سنجیدہ سوالات ہیں اور وہ خود سمجھتے ہیں کہ حکومت وہ کچھ نہیں کرسکی جو اسے عوامی مفاد میں کرنا چاہیے تھا۔اس لیے اب وزیر اعظم اقتدار کی باقی مدت میں محض دوسروں پر الزام لگانے کی بجائے اس صورتحال کو ایک بڑے چیلنج کے طور پر قبول کریں۔ اچھی حکمرانی اور لوگوں کے معاشی مفاد سے جوڑ کر ہی وہ مستقبل کے لیے اپنی ساکھ قائم کرسکیں گے۔