بائیڈن کے بیان پر روس نے واشنگٹن سے اپنا سفیر واپس بلا لیا
- جمعرات 18 / مارچ / 2021
- 4420
روس نے امریکہ کے ساتھ بگڑتے دو طرفہ تعلقات کی وجہ سے امریکہ میں سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے بدھ کو کہا کہ واشنگٹن سے سفیر کی واپسی کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے اہداف کی نشاندہی کرنا ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کے بقول امریکہ روس کے ساتھ تعلقات کو ایک بند گلی میں لے گیا ہے جب کہ ماسکو کی کوشش ہے کہ تعلقات کو دوبارہ استوار کیا جائے۔ روسی سفیر کی وطن واپسی کا اعلان امریکی صدر جوبائیڈن کے 'اے بی سی' ٹیلی ویژن پر بدھ کو نشر ہونے والے ایک انٹرویو کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس انٹرویو میں صدر بائیڈن نے کہا تھا کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن کو اپنے بدخواہانہ اقدامات کی 'قیمت چکانا پڑے گی'۔
جوبائیڈن کے بقول انہوں نے روسی ہم منصب کو کہا تھا کہ 'میرے خیال سے آپ میں احساس نہیں ہے'، جس پر ان کے بقول روسی صدر نے جواب دیا تھا کہ 'ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔' دوران انٹرویو جب صدر بائیڈن سے پوچھا گیا کہ آیا وہ سمجھتے ہیں کہ پیوٹن ایک قاتل ہیں جس پر امریکی صدر نے جواب میں کہا کہ 'میں ایسا ہی سمجھتا ہوں'۔
دوسری جانب امریکی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن سے منسلک ایک سینئر فیلو ولیم کورٹنی کے مطابق یہ بہت کم ہوتا ہے کہ ایک امریکی صدر کسی حریف ملک کے سربراہ کو قاتل سے تشبیہہ دیں۔ سوویت یونین کے ساتھ امریکی دفاعی بات چیت میں مذاکرات کار رہنے والے کورٹنی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ کبھی کبھار تضحیک کے بعد سفرا کو واپس بلا لیا جاتا ہے۔
بدھ کو ایک پریس بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے صدر بائیڈن کی جانب سے پیوٹن کو قاتل قرار دینے کی وضاحت سے گریز کیا کہ آیا صدر واقعتاً یا استعارتاً روس کے صدر کو ایک قاتل سمجھتے ہیں۔ اس دوران پریس سیکریٹری سے جب روسی سفیر کو واپس بلانے سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ پہلے کی انتظامیہ کے مقابلے میں روس کے ساتھ تعلقات میں ایک مختلف سوچ اپنائے گی۔ جن معاملات پر ہمیں تحفظات ہیں، وہاں ہم براہِ راست جا رہے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی نائب ترجمان جالینا پورٹر نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم امریکی مفاد کے لیے روس کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ تاہم روس کی کسی بھی جارح کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے نئے جوہری ہتھیاروں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے جیسے باہمی تعاون کے شعبوں میں ماسکو کے ساتھ کام کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
اس سے قبل بائیڈن نے انٹیلی جنس کے ایک ڈی کلاسیفائڈ ورژن کو جاری کرنے کا حکم دیا تھا جس میں روسی ریاستی میڈیا، ٹرولز اور روسی انٹیلی جنس کی آن لائن پراکسیز کی جانب سے صدر بائیڈن، ان کے اہل خانہ اور ڈیموکریٹک پارٹی سے متعلق تنقیدی مواد شائع ہونے سے متعلق معلومات تھیں۔ نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کے دفتر سے جاری رپورٹ کے مطابق روس اور ایران امریکی صدارتی انتخابات میں عوام کے اعتماد کو کمزور کرنے کی وسیع کوششوں میں مصروف رہے۔
اس بارے میں روسی صدر کے ترجمان دمتری پیسکوو نے بدھ کو کہا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ "غلط تھی اور اس کی کوئی بنیاد اور ثبوت نہیں۔"