ماضی کو دفن کرکے آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے: پاک بھارت تعلقات پر آرمی چیف کی رائے

  • جمعرات 18 / مارچ / 2021
  • 7350

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مستحکم پاک بھارت تعلقات ترقی کی کنجی ہیں۔ اس طرح مشرقی اور مغربی ایشیا کو منسلک کرکے جنوب اور وسط ایشیا کی صلاحیتیں بروئے کار لائی جاسکتی ہیں۔

اسلام آباد میں دو روزہ سیکیورٹی ڈائیلاگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان اور دنیا کے بہترین دماغوں کی موجودگی میں اس تقریب کا حصہ بننا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔ مجھے اُمید ہے کہ جو دانشور اور اسکالر یہاں موجود ہیں اور ورچوئل شرکت کررہے ہیں وہ ناصرف پاکستان کی سیکیورٹی کے وژن پر بحث کریں گے بلکہ یہ آئیڈیا بھی مرتب کریں گے کہ ہم پاکستان کے مستقبل کے چیلنجز سے کیسے نمٹ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں پاکستان میں سیکیورٹی ڈائیلاگ کے انعقاد کی ضرورت کو محسوس کرنے پر نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کو سراہنا چاہتا ہوں۔ مجھے امید ہے دانشورانہ سوچ اور پالیسی سازی کے انضمام اس رجحان کو جاری رکھا جائے گا۔

آرمی چیف نے کہا کہ مستحکم پاک بھارت تعلقات مشرقی اور مغربی ایشیا کو منسلک کرسکتے ہیں۔ یہ تعلقات جنوب اور وسط ایشیا کی صلاحیتیں بروئے کار لانے کی کنجی بن سکتے ہیں۔ لیکن یہ صلاحیت دو جوہری صلاحیت کے حامل پڑوسی ممالک کے درمیان یرغمال بنی رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اس کی بنیاد ہے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پرامن طریقے سے مسئلہ کشمیر کے حل کئے بغیر اس عمل کا سیاسی وجوہات کے سبب پٹڑی سے اترنے کا خدشہ لاحق رہے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ماضی کو دفن کر کے آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے۔ بامعنی مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی ذمہ داری اب بھارت پر عائد ہوتی ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک کو خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں سازگار ماحول بنانا ہو گا۔

آرمی چیف کا بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ایک دن قبل ہی وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان سے تعلقات بحال کے کرنے کے لیے بھارت کو پہلا قدم اٹھانا چاہیے۔ وزیر اعظم نے سیکیورٹی ڈائیلاگ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم کوشش کررہے ہیں لیکن بھارت کو پہلا قدم بڑھانا ہو گا اور جب تک وہ ایسا نہیں کرتے، ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔

آرمی چیف نے آج اپنے خطاب میں کہا کہ جنوبی ایشیا میں غیرحل شدہ مسائل کی وجہ سے پورا خطہ ترقی پذیر اور غربت کا شکار ہے۔ یہ جان کر دکھ ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیا تجارت، انفرا اسٹرکچر، پانی اور توانائی میں تعاون کے لحاظ سے دنیا کے سب سے کم مربوط خطوں میں سے ایک ہے۔ غریب ہونے کے باوجود ہم دفاع پر بڑی رقم خرچ کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ہمیں قدرتی طور پر انسانی ترقی پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے دفاعی اخراجات میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود پاکستان ان چند ملکوں میں سے ایک ہے جنہوں نے اسلحے کی دوڑ کا حصہ بننے کے عمل کی مزاحمت کی ہے۔ یہ آسان نہیں تھا خصوصاً جب آپ ایک معاندانہ اور غیرمستحکم پڑوس میں رہتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ پرامن طریقے سے مذاکرات کے ذریعے ہمارے تمام بقایا مسائل کر کے ماحول بہتر بنانے کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ قومی سلامتی کے معاصر تصور کا مقصد صرف کسی ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات سے ہی محفوظ کرنا نہیں بلکہ ایسا موزوں ماحول بھی فراہم کرنا ہے جس میں انسانی سیکیورٹی، قومی پیشرفت اور خوشحالی کا احساس کیا جا سکے۔ اب یہ اکیلے مسلح افواج کا کام نہیں رہا، گلوبلائزیشن اور رابطہ سازی کے اس دور میں قومی سلامتی ہر چیز کا احاطہ کرنے والا جامع تصور بن گیا ہے۔ قومی طاقت کے مختلف امور کے ساتھ ساتھ عالمی اور علاقائی ماحول بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے حصول کے لیے امن اور خطے میں ہم آہنگی لازم ہیں لیکن آج کل کے لیڈرز ان حقائق کو نظر انداز کررہے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ آج کوئی بھی قوم اکیلے سیکیورٹی مسائل کو حل نہیں کر سکتی کیونکہ آج دنیا کو جن بھی سیکیورٹی مسائل یا الجھنوں کا سامنا ہے، ان کا عالمی اور علاقائی حرکیات سے گہرا تعلق ہے۔ چاہے وہ انسانی سیکیورٹی ہو، انتہا پسندی، انسانی حقوق، ماحولیاتی نقصانات، معاشی تحفظ ہو یا وبا۔ اب اکیلے ان مسائل سے نمٹنا حل نہیں رہا۔

جنرل باجوہ نے کہا کہ دنیا نے عالمی جنگ اور سرد جنگ کی تباہ کاریوں کو دیکھا ہے جس میں پولارائزیشن اور اخلاقی برتری کو نظرانداز کرنے کی غلطی نے مستقبل کو دھندلا دیا اور انسانیت کے لیے تباہ کن نتائج سامنے آئے۔ اس کے برعکس ہم نے دیکھا کہ کس طرح کثیرالجہتی اصول پر مبنی پلیٹ فارمز نے بنی نوع انسان کی بھلائی اور بہتری کے لیے کام کیا۔ آج دنیا میں تبدیلی کے اصل محرکات، انسانی صلاحیت، معیشت اور ٹیکنالوجی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی ہمارے پاس انتخاب کے یکساں مواقع ہیں۔ اب ہم پر منحصر ہے کہ ہم ماضی کی کشمکش اور زہریلے تنازعات کو فروغ دے کر جنگ، بیماری اور تباہی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ یا آگے بڑھتے ہوئے اپنے لوگوں کو تکنیکی اور سائنسی ترقی کے ثمرات سے بہرہ مند کرکے خوشحالی اور ترقی کے نئے دور کا آغاز کرتے ہیں۔