وزیر اعظم نے لاپتہ افراد کے بارے میں کوئی یقین دہانی نہیں کروائی: پسماندگان

  • جمعہ 19 / مارچ / 2021
  • 4960

پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کرنے والے بلوچ مسنگ پرسنز کے تین رکنی وفد کا کہنا ہے کہ ملاقات میں کسی بھی لا پتا فرد کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے بلوچ گمشدہ افراد کے جس وفد سے ملاقات کی اس میں وائس آف مسنگ بلوچ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ، لاپتا شہری ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی صاحبزادی سمی بلوچ اور لاپتا شبیر بلوچ کی ہمشیرہ سیمی بلوچ شامل تھیں۔ وفد کی رکن سمی بلوچ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والا دھرنا وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کی اس یقین دہانی پر ختم کیا گیا تھا کہ وزیرِ اعظم انہیں گمشدہ بلوچ افراد کی موجودہ صورت حال سے متعلق آگاہ کریں گے۔ لیکن اُن کے بقول ایسا کچھ نہیں ہوا۔

سیمی بلوچ نے کہا کہ اُنہیں اس بات پر مایوسی ہے کہ گمشدہ افراد کی فائل پر آج ہی کام شروع کیا گیا ہے۔  وائس آف بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بھی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ماہ اسلام آباد سے دھرنا اسی یقین دہانی پر ختم کیا گیا تھا کہ ان کے دکھوں میں کمی لائی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے وفد کو یقین تو دلایا ہے کہ گمشدہ افراد کی بازیابی کے معاملے پر آرمی چیف اور فوج کے خفیہ ادارے 'آئی ایس آئی' کے سربراہ سے بات کریں گے۔ لیکن اس بات سے کیا نتیجہ نکلے گا اور اس میں کتنا وقت لگے گا اس بارے میں کسی نے انہیں کوئی یقین دہانی نہیں کرائی۔

یاد رہے کہ پاکستان میں جبری گمشدگی کے الزامات فوج، ملک کے خفیہ اداروں یا دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد کیے جاتے ہیں۔ تاہم ان اداروں کی جانب سے ایسے الزامات کی تردید کی جاتی رہی ہے۔

پاکستان میں 2011 سے لاپتا افراد کے مسئلے کے حل کے لیے ایک کمیشن کام کر رہا ہے اور حال ہی میں وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی کابینہ کی خصوصی کمیٹی بنائی ہے جس کی سربراہی وزیرِ قانون فروغ نسیم کر رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کئی عالمی ادارے 'مسنگ پرسنز کمیشن' کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔

اسلام آباد میں گزشتہ ماہ دھرنا دینے والے لاپتا افراد کے اہلِ خانہ نے حکومت کو گمشدہ افراد کی فہرستیں فراہم کی تھیں جن میں لگ بھگ 270 افراد کے نام شامل تھے۔  جمعرات کو وزیرِ اعظم آفس میں ہونے والی ملاقات میں انسانی حقوق کی وفاقی وزیر شیریں مزاری بھی شریک تھیں۔ بعدازاں انہوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا وزیرِ اعظم نے اپنے پرنسپل سیکرٹری کو ہدایت کی ہے کہ وہ لاپتا افراد سے متعلق ان خاندانوں کو جلد از جلد آگاہ کریں۔

دوسری جانب سیمی بلوچ کہتی ہیں کہ حکومت کو گزشتہ ماہ دھرنے کے اختتام پر 13 خاندانوں کے علاوہ 300 لاپتا بلوچ افراد کی ایک اور فہرست بھی فراہم کی گئی تھی اور وزیرِ اعظم سے ہونے والی ملاقات میں اس کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔