دوست ملکوں نے دیوالیہ ہونے سے بچا لیا: وزیر اعظم
- جمعہ 19 / مارچ / 2021
- 3940
وزیراعظم نے کہا ہے کہ جب ہم اقتدار میں آئے تو ملک میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے پیسے نہیں تھے، دوست ممالک نے مدد کر کے ہمیں دیوالیہ ہونے سے بچالیا۔
اگر ملک دیوالیہ ہوجاتا تو آج ایسی مہنگائی آتی کہ جس کا لوگوں کو اندازہ بھی نہیں۔ یونیورسٹی آف مالاکنڈ کے نئے بلاک کی افتتاحی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ابھی مہنگائی کی وجہ یہ ہے کہ ڈالر 2018 کے 107 روپے سے 155 پر پہنچ گیا ہے۔ جب روپیہ گرتا ہے ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے۔
ہمارے پاس روپے کی گرتی ہوئی قدر کو روکنے کے لیے کچھ نہیں تھا، اس لیے دوست ممالک نے مدد کی اور ہم بچ گئے۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے ڈھائی سال میں بیرونی قرضوں پر 3 ہزار ارب روپے سود واپس کیا تھا جبکہ ہم نے اپنے ڈھائی سال میں 62 کھرب روپے سود واپس کرچکے ہیں۔ جب آپ اتنے قرضے واپس کرتے ہیں تو تعلیم، ہسپتالوں، سڑکوں جیسے منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سیاحت ایک واحد ایسی چیز ہے کہ جو ہمارا زرِ مبادلہ کا سارا مسئلہ ختم کرسکتی ہے۔ سیاحت میں اضافہ سے مقامی افراد کو نوکریوں کے لیے باہر نہیں جانا پڑے گا۔ ملک صنعتی ترقی کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا صرف زرعی اجناس کی برآمد سے ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ 60 کی دہائی میں اس کی صنعت اوپر جارہی تھی یا اب ہم نے کوشش کی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میرا خواب ہے نمل یونیورسٹی پاکستان کی آکسفورڈ یونیورسٹی بنے اور یہ صرف یونیورسٹی نہیں بلکہ ایک نالج سٹی ہوگی۔ القادر یونیورسٹی رواں برس ستمبر میں شروع ہوگی، جس کے لیے میں نے دنیا کے بڑے اسلامی اسکالرز کو مدعو کیا ہے۔ میری کوشش یہ ہے کہ القادر یونیورسٹی سے اپنی قوم کو انٹیلیکچوئل لیڈر شپ دوں۔
انہوں نے کہا کہ خوشی اس بات سے ملتی ہے کہ آپ 5 وقت نماز پڑھیں اور دعا کریں کہ اللہ مجھے اس راستے پر لگائے کہ جنہیں تو نے نعمتیں بخشیں۔ یہ راستہ راستہ نہیں مشکل ہے۔ اللہ نے اس سے زیادہ نعمتیں اپنے پیغمبروں کو بخشیں لیکن کسی بھی پیغمبر کی زندگی آسان نہیں تھی. قرآن کی ایک آیت کا مفہوم ہے جس چیز کو تم اپنے لیے برا سمھجتے ہو وہ اچھا ہے اور جسے اچھا سمجھتے ہو وہ برا ہے مطلب یہ کہ ہم اکثر آسان زندگی کو اچھا سمجھتے ہیں لیکن وہ انسانی کی صلاحیت کو تباہ کردیتی ہے۔
ان کا کہنا تھا زندگی میں شارٹ کٹ لے کر بڑا کام نہیں کیا، اگر اللہ کے حبیب ﷺ جن سے اللہ کو سب سے زیادہ محبت ہے انہیں 13 سال مشکل وقت سے گزارا تو ہمارے لیے تو برا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ القادر یونیورسٹی کا مقصد ہے یہ اسلامی خیالات کو ترقی دے۔ ہمارے دانشور آئیں اور بتائیں کہ ملک بنا کیوں تھا، اگر یہ ملک بننا تھا کہ ٹاٹا برلا کی جگہ شریف اور زرداریوں نے امیر ہونا تھا تو اس کا کوئی مقصد نہیں تھا۔ علامہ اقبال کا واضح مؤقف تھا کہ یہ ملک دنیا کے لیے مثال بنے گا۔