آصف زرداری کا تصادم سے گریز
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 19 / مارچ / 2021
- 5800
پیپلز پارٹی میں بلاول بھٹو کے مقابلے میں اصل سیاسی طاقت آصف زرداری کے پاس ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیاست کی باریک بینی کو سمجھنے والے پیپلز پارٹی کے سیاسی فیصلوں میں آصف زرداری کی جانب ہی دیکھتے ہیں۔
آصف زرداری کو عملی طور پر پاکستانی سیاست میں بادشاہ گر کی حیثیت حاصل ہے۔ کیونکہ ان کے بارے میں تمام سیاسی پنڈت اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اقتدار کے کھیل میں سیاسی کارڈ کھیلنے کا فن جانتے ہیں۔ آصف زرداری کسی نظریاتی سیاست کے مقابلے میں عملی سیاست کے قائل ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی فیصلوں میں جذباتیت کی بجائے عملیت پسندی کو ہی بنیاد بنا نا چاہیے۔پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں آصف زرداری کی تقریر، استعفوں کی سیاست سے لاتعلقی، نواز شریف سے ملک واپس آنے کا مطالبہ،پہاڑوں کی بجائے پارلیمنٹ میں جنگ کرنے کا مشورہ، پی ڈی ایم ایسے فیصلوں سے گریز کرے جو ہمیں سیاسی راہیں جدا کرنے پر مجبور کرے، استعفوں کا براہ راست فائدہ حکومت او راسٹبلیشمنٹ کو دینے سمیت نواز شریف کی سیاست پر طعنہ زنی غیر متوقع نہیں تھی۔
سیاست کی سمجھ بوجھ رکھنے والے بہت پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ پیپلز پارٹی او ربالخصوص آصف علی زرداری کی سیاسی سوچ نواز شریف اورمولانا فضل الرحمن کی سیاست سے مختلف ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ پیپلزپارٹی اقتدار کے کھیل میں شریک ہے اور سندھ میں اس کی حکومت ہے۔ آصف زرداری کو اندازہ ہے کہ اگر وفاقی حکومت کو گھر بھیجا گیا تو اس صورت میں سندھ حکومت کی قربانی دینا ہوگی۔یہ ہی وجہ ہے کہ وہ تواتر کے ساتھ پی ڈی ایم میں اپنی سیاسی جدوجہد کو تین بنیادوں پر لڑنے کی بات زور دے کر کرتے رہے ہیں۔ اول استعفوں کی سیاست، دوئم اسٹبلیشمنٹ سے براہ راست ٹکراؤاور سوئم پارلیمنٹ کو چھوڑ کر سڑکوں پر تحریک چلانے یا سخت گیر لانگ مارچ کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔
آصف زرداری سمجھتے ہیں کہ ان کو بلاوجہ اسٹبلیشمنٹ سے ٹکراؤ کی سیاست سے گریز کرکے نواز شریف او رمولانا فضل الرحمن کی حکمت عملی سے خود کو دور رکھا جائے۔آصف زرداری کو اس بات پر بھی گلہ تھا کہ نواز شریف بلاوجہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے فوج کی اعلی قیادت پر نام لے کر تنقید کررہے ہیں او راس کا مقصد فوج پر دباؤ ڈال کر مرضی کے نتائج لینا ہے۔آصف زرداری کو اندازہ تھا کہ اس ماحول میں اگر ہم نواز شریف کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں تو اس کی قیمت طاقت کے مراکز میں چکانا ہوگی جو ہمارے مفاد میں نہیں ہوگی۔
آصف زرداری کی حالیہ پی ڈی ایم میں کی جانے والی تقریر سے انہوں نے کمال ہوشیاری سے اپنے سیاسی کارڈ کھیل کو اسٹبلیشمنٹ کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ نہ صرف ان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہے بلکہ ان کی سیاسی سوچ اور ٹکراؤ پر مبنی مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف کی حکمت عملی سے وہ سیاسی فاصلے پر ہیں۔آصف زرداری اس نکتہ کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ نواز شریف یا مولانا فضل الرحمن یا پوری پی ڈی ایم کی لڑائی کوئی جمہوری جدوجہد کی نہیں بلکہ طاقت کے مراکزمیں اپنی سیاسی حیثیت کو منوانے یا طاقت کے مراکز سے کچھ لو او رکچھ دو پر مبنی ہے۔آصف زرداری نے پی ڈی ایم کے سیاسی مستقبل او راس میں پیپلز پارٹی کی موجودگی کو اپنے سیاسی کارڈ شو کرکے گیند نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کی کورٹ میں ڈال دی ہے۔یعنی اب فیصلہ پی ڈی ایم کی دیگر قیادت نے کرنا ہے کہ وہ آصف زرداری کے سیاسی ایجنڈے پر چلیں گے یا پیپلز پارٹی کو پی ڈی ایم سے بے دخل کرکے سولو فلائٹ کی جائے۔پی ڈی ایم کی مشکل یہ ہے کہ اگر پیپلزپارٹی کو باہر نکال کر آگے بڑھا جائے تو ان کی طاقت کم ہوگی۔کیونکہ پیپلز پارٹی کے بغیر پی ڈی ایم کو زیادہ نقصان اور فائدہ حکومتی جماعت یا اسٹبلیشمنٹ کو ہوگا۔
آصف زرداری نے عملی طور پر پی ڈی ایم کو سیاسی وینٹی لیٹر پر ڈال کر نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کو ایک بڑی سیاسی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کو موجودہ صورتحال میں ساتھ رکھنے یا جان چھڑانے سے، دونوں صورتوں میں ان کو سیاسی نقصان ہوگا۔آصف زرداری نے خود اپنی سیاست سے حکومت کے اندر بھی ایک سافٹ پیغام دیا ہے کہ ہم اس نظام کو چلانا چاہتے ہیں اور اگر حکومت بھی ہمارے ساتھ تعاون کے امکانات کو پیدا کرے تو ہم اس عمل میں حکومت کا ساتھ دے سکتے ہیں۔یہ پیغام آصف علی زرداری نے 2018میں تحریک انصاف کی حکومت بنتے ہی پارلیمنٹ میں حکومت کو دیا تھا کہ آپ مثبت انداز میں آگے بڑھیں ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔لیکن وزیر اعظم عمران خان کی سیاسی مہم جوئی اور پیپلزپارٹی کے بارے میں سخت گیر پالیسی کی وجہ سے تعاون کے امکانات مخدوش ہوئے۔
آصف زرداری کی واضح سیاسی حکمت عملی کے بعد اب اس کے امکانات کافی بڑھ گئے ہیں کہ ایک بار پھر پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ ن میں سرد جنگ ہوگی۔ اور سیاسی تلخیاں یا الزام تراشیوں کی سیاست دیکھنے کو ملی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے ہم خیال میڈیا سے جڑے افراد نے پیپلز پارٹی کی موجودہ سیاسی حکمت عملی اور آصف زرداری کی کڑوی تقریر کو اسٹبلیشمنٹ کی حمایت سے جوڑا ہے۔ ان کے بقول جو کچھ بھی آصف زرداری نے کیا ہے اس کے پیچھے اسٹبلیشمنٹ سے قربت حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں۔ یعنی اب پی ٹی آئی کے بعد پیپلز پارٹی کو بھی پی ڈی ایم کی جانب سے اسٹبلیشمنٹ کی ٹیم کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔حالانکہ آصف زرداری نے جو کچھ کیا ہے، وہ ہی طاقت کی سیاست میں ہوتا ہے۔ کوئی بھی جماعت ہو وہ اپنے سیاسی مفاد کو پس پشت ڈال کر اپنے کارڈ نہیں کھیلتی۔مسئلہ محض پیپلز پارٹی کا نہیں بلکہ خود مسلم لیگ ن بھی پس پردہ اسٹبلیشمنٹ کی حمایت کے لیے بہت کچھ کرتی رہی ہے او راب بھی یہ سیاسی کوششیں پس پردہ چل رہی ہیں کہ کچھ لو او رکچھ دو کی بنیاد پر کچھ سیاسی ریلیف مل سکے۔
آصف زرداری کی تقریر کے بعد لانگ مارچ ملتوی کرنے کا فیصلہ بھی پی ڈی ایم کی داخلی کمزوریوں کو نمایاں کرتا ہے۔ اب لانگ مارچ بہت جلد ممکن نہیں اور لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں پی ڈی ایم کے کے داخلی محاذپر کافی سیاسی کچھڑی پکے گی اور بداعتمادی کا ماحول پیدا ہوگا۔کچھ لوگ پیپلزپارٹی پر اسٹبلیشمنٹ کی حمایت حاصل کرنے کا طعنہ دے رہے ہیں،لیکن یہ طعنہ محض زرداری پر ہی کیوں۔ عملی طور پرسب ہی جماعتیں اپنے اپنے مفادات کے لیے وہ سب کچھ کررہی ہیں جس کی وہ نفی کرتی ہیں۔یہ بات تواتر سے پیش کی جارہی تھی کہ پی ڈی ایم کی تحریک جمہوری جدوجہد کی تحریک نہیں بلکہ ہر جماعت جو اس اتحاد کا حصہ ہے عملی طور پر وہ ”جمہوریت یا بیانیہ کی جنگ“ کو سیاسی ہتھیار بنا کر اپنے اپنے مفادات کی سیاست کررہی ہیں۔ویسے بھی پیپلزپارٹی یا آصف زرداری کو ماضی یا حا ل میں مسلم لیگ ن کے ساتھ کافی سیاسی دھچکے لگے ہیں۔ آصف زرداری اب نواز شریف کی سیاست پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔