جبر سے چھٹکارے کا واحد راستہ؟

پوری دنیا میں جمہوریت کا ایک مسلمہ بنیادی اصول ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں لیکن ہمارے اور برما (میانمار) جیسے کچھ آمریت و جبر کا شکار پسماندہ جمہوری ممالک بھی ہیں جہاں طاقت کا ایک سرچشمہ عوام ہیں تو دوسرا طاقتور بھائی لوگ۔

ان دونوں کے بیچ سابق پیر پگارا کے الفاظ میں چوہے بلی کا کھیل دہائیوں سے چلا آ رہا ہے۔ مسلہ یہ ہے کہ ہمارے بھائی لوگ تو چاک و چوبند ہیں جبکہ ہمارے عوام کو منظم کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ جب عوامی ہجوم کسی جاندار سیاسی طاقت کے ذریعےایک منظم تحریک کی صورت اٹھتے ہیں تو بھائی لوگ اِدھر اُدھر ہو جاتے ہیں۔ اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی جینوئن سیاسی قیادت عوام کو طاقت کا مرکز خیال کرتے ہوئے اس اعتبار یا بھروسے پر کوئی بڑا قدم اٹھاتی ہے تو بھائی لوگ سیاستدان نما کٹھ پتلیاں تلاش یا تیار کر لیتے ہیں۔ اب عام آدمی کے لئے یہ فرق سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سا سیاستدان جینوئن ہے اور کونسا کٹھ پتلی بننے کی تیاری میں ہے۔ کون سا عوامی طاقت کے سرچشمے سے سیراب ہو رہا ہے اور کون سا بھائی لوگوں کی طاقت سے فیض یابی کے چکر میں ہے۔

یہاں ایک المیہ اور بھی ہے اول تو کوئی بھی سیاستدان چاہے وہ کتنا جینوئن یا ہردلعزیز ہو اسے کرسامنے آئے اُسے ہر پل یہ کھٹکا رہتا ہے کہ اُس کی پارٹی میں موجود الیکٹ ایبلز

 نہ جانے کب منظم طاقت کی ہیبت سے مرعوب ہو کر دوسری طرف کھسک جائیں۔ اس لئے زیادہ لینے سے پہلے اُسے کئی بار سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں اس کی پارٹی کا شیرازہ ہی نہ بکھر جائے۔یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ کہیں کسی دیدہ و نادیدہ منظم شب خون کی صورت اپنے بہترین لوگوں سے محروم نہ ہونا پڑ جائے۔ ان ساری الجھنوں سے تنگ آ کر آخرکار پاپولر سیاسی قیادت کوئی بڑا دھماکہ کرنے یا سہنے کا رسک لینے کو آمادہ ہو جاتی ہے جسے کبھی وہ آر پار کا نام دیتی ہے، تو کبھی سسٹم میں درستی کا اور کبھی ریاست کے اندر ریاست کے خاتمے کا۔ لیکن اس سب کے باوجود اسے ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا پڑتا ہے کیونکہ اس کی معمولی سی غفلت یا کوتاہی اُسے ہیرو سے زیرو بنا سکتی ہے۔

اس تمام تر تناظر میں ہمارے موجودہ سیاسی اتحاد پاکستان تحریک جمہوریت کی طاقت یا کسمپرسی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اس میں موجود دو بڑی سیاسی پارٹیوں میں مفادات و ترجیحات کا اچھا خاصا ٹکراؤ روز اول سے موجود ہے۔ دونوں چاہے جتنے مرضی پکے اتحادی بن جائیں سیاسی معرکہ آرائی بالآخر انہی کے درمیان ہونی ہے۔ پنجاب والے کشتیاں جلا کر ووٹ کی عزت یا طاقت منوانا چاہتے ہیں تو سندھ والے کسی بھی آئیڈیل جدوجہد یا نعرے کی خاطر اپنی حاضر و میسر طاقت گنوانے کا رسک لینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ دونوں اپنے اپنے مقاصدو ترجیحات کے حوالے سے حق بجانب ہیں۔ جن حدود تک اُن کے مفادات ملتے ہیں اُن حدود تک ہی انہیں مل کر آگے بڑھنا بھی بنتا ہے۔ لیکن وہ جو غلطی کھا رہے ہیں وہ اپنا مشترکہ وزن یا بھرم گنوانے کی ہے۔ انہیں کس کٹھ پتلی نے کہا ہے کہ وہ اپنے گندے کپڑے یوں چوک میں آ کر دھوئیں؟ ٹیلی فونوں پر وہ باہم شب و روز طویل گفتگو کرتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مولانا کو بیچ میں رکھتے ہوئے اس بڑے اجلاس سے قبل بھی تینوں کی اچھی خاصی بات چیت ہوئی جس میں ان متنازع امور کے علاوہ اور کونسا مسئلہ فیثا غورث زیر بحث تھا۔ جب کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے نہیں پا رہا تھا تو پھر کیا ضرورت تھی اتنا بڑا تماشا سجانے اور بات کا بتنگڑ بنانے کی۔ یہ میلہ بوجوہ ملتوی کرنا بنتا تھا کئی دلائل کے ساتھ۔

 ایک شخص چاہے جتنا بھی بھاری ہے، بہرحال دوسرے باہر بیٹھے سے زیادہ بیمار ہے۔ اعصابی تناؤ کے اپنے مسائل ہوتے ہیں۔ اور اگر وہ خود ستائی و تعلی کا شکار بھی ہو تو پھر یوں چوراہے میں ہنڈیا چڑھانا یا بانٹنا کس سیاسی بصیرت کا شاخسانہ ہو سکتا ہے۔ مولانا صاحب کو بھی اس حوالے سے ماقبل کردار ادا کرنا بنتا تھا۔ موقف ان کا قطعی غلط نہیں ہے اس کا حقائق پر مبنی پس منظر ھے لیکن استعفیٰ تو دور کی بات ان حالات میں لانگ مارچ یا دھرنے کا جواز بھی بنتا ہے یا نہیں؟ اس پر ڈیبیٹ ہو سکتی ہے۔ دورویش کی نظر میں قطعی نہیں بنتا۔ کسی بھی تحریک کا ایک مومینٹم ہوتا ہے۔ باایں حالات اُسے ہی برقرار رکھنے پر اکتفا کر لیا جاتا تو کافی تھا اور یہ لوگ اچھا خاصا ماحول بنا بھی چکے تھے۔ دبے اور پسے ہوئے غریب و بے نوا لوگوں کے لئے اچھی خاص امید بن کر ابھر رہے تھے۔ کیا ضرورت تھی اتنا بڑا طوفان اٹھانے کی۔ ابھی آپ لوگوں کے لئے وہ حالات نہیں آئے ہیں جب بڑا پنچ مارا جا سکے۔ یا کوئی بڑا دھماکہ کیا جا سکے۔ یہ ان حالات میں ہوتا ہے جب لاوا پوری طرح پک چکا ہو۔ شہد کے چھتے کو بھی ایک مخصوص وقت پر ہی ہاتھ ڈالا جاتا ہے، جب لوگ خود بلبلا کر باہر نکلنے کے لئے بے چین ہوتے ہیں۔ موجودہ حالات میں ان لوگوں کا کام ایسی صورتحال پیدا کرنے کے لئے پھونکیں مارنے یا بڑھاوا دینے کا بنتا تھا۔ آپ دیکھیں ابھی انہیں بیٹھے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہی تو ہوئے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی بدقسمتی سے بڑھ کر جہالت یا اناڑی پن کا کرشمہ ہے کہ وہ اتنی تیزی سے غیر مقبول ہوئے ہیں کہ گئے گزرے لوگ بھی کم از کم ٹرم نکالنے کے بعد اس کھائی تک پہنچتے ہیں۔ مگر آپ لوگوں کی شتابی تو ان سے بھی بڑھ کر 440وولٹ کی تاریں چھونے والی ہیں۔

بھاری آدمی کو اتنی ثقیل کھردری اور بوجھل گفتگو کم از کم اس اوپن فورم پر کرنا ہرگز نہیں بنتی تھی۔ آگے سے اُس کی بیٹیوں جیسی لیگی لیڈر  نے جس ذمہ داری اور سمجھ داری سے جوابات دیے، وہ اتنے چشم کشا ہیں جن پر الگ سے کالم بنتا ہے۔ بالخصوص یہ بات کہ ہمیں مردہ نہیں زندہ لیڈروں کی ضرورت ہے۔ شہادت حاصل کرنا کون سا مشکل کام ہے۔ بس ذرا سی بے احتیاطی چاہئے، شہادت کے درجات بتانے والوں نے بھی یہ کہہ رکھا ہے کہ اپنی جانوں کو ہلاکتوں میں مت ڈالو۔ اس تمام تر تلخ نوائی کا پس منظر کسے معلوم نہیں ہے؟ تو پھر اس نوع کے تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ اس شخص کی طرف سے ہرگز نہیں ہونا چاہئے جو خود کو سیاسی زیرکی و مہارت کا استاد کہتے کوئی لمحہ فروگزاشت نہیں کرتا۔ زیادہ بہتر ہوتا، اگریہ لوگ کامیاب جلسوں کے ذریعے بنایا گیا مومینٹم برقرار رکھتے ہوۓ صاف کہتے کہ پورے ملک میں کرونا کرونا ہے ، ہم اپنے عوام کی زندگیاں کسی بھی آزمائش میں نہیں ڈال سکتے۔ اس میں عوامی دردمندی کا احساس بھی ہوتااور سیاسی حکمت بھی، نیز آگے رمضان بھی ہے جس کا جواز خود مولانا اور ان کے ہمنواؤں کی طمانیت کا باعث بنتا۔

اب بھی بہترین مؤقف یہی ہےکہ 4 اپریل کے ٹرک کی بتی کا پیچھا چھوڑ دیں۔ یہ قطعی غلط امیدوں کے ساتھ مایوسی پھیلانے کا باعث بنے گا۔ آپ سب لوگ مل بیٹھ کر عوامی دکھوں کا رونا روئیں ، میڈیا کے ساتھ گلی کوچوں میں روئیں، عوامی تکالیف بالخصوص مہنگائی سے چھٹکارے کی خاطر ہر چوک پر دعائیں مانگیں، بےخبر جو پڑے ہیں انہیں خبردار کریں ۔ عام سے عام آدمی کو اپنا ہمنوا بنائیں ، محض حکومت کے خلاف نہیں، اس نادیدہ جبر کی قوتوں کے خلاف، جس نے سات طویل دہائیوں میں ملک و قوم کا کچومر نکال دیا ہے۔ اور پاکستان دنیا میں غریب پسماندہ ڈیپ سٹیٹ کے طور پر پہچانا جاتا ہے، جس کا تقابل برما سے کیا جا رہا ہے۔