انڈیا سے کچھ پیسے ہی نچوڑلیں

ہم مطالعہ پاکستان کے ذریعے جانتے ہیں کہ ہم ایک اہم جغرافیائی محل وقوع رکھتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں کوئی نظرانداز نہیں کر سکتا۔ بدقسمتی سے اس محل وقوع کے باوجود سب ہمیں نظرانداز کر رہے ہیں۔

 نہ امریکی ہمیں اہم سمجھتے ہیں نہ بھارتی۔ افغانستان تو ویسے ہی ہمارا تربور یعنی شریک ہے۔ ایران کو انقلاب کے بعد سے ہم دشمن دکھائی دینے لگے ہیں۔ سی پیک پر ہم نے ہاتھ دکھایا تو چینی بھی اب ہمیں آنکھیں دکھانے لگے ہیں۔ اور جہاں تک بات ہے برادر اسلامی ملکوں کی، تو جیسے ہم بھاگ بھاگ کر ان کے پاس جاتے ہیں کہ چار پیسے ملیں، ویسے ہی وہ اب بھاگ بھاگ کر انڈیا جاتے ہیں کہ ان کے چار پیسے بنیں۔

تجارتی شاہراہ پر بیٹھی قومیں امیر ہوتی ہیں۔ دوسری قوموں کی تجارت سے وہ راہداری کے پیسے بھی کما لیتی ہیں اور بیچ میں اپنا کچھ لچ بھی تل لیتی ہیں۔ جہاں تک جغرافیے کا تعلق ہے تو ہم دنیا کی آدھی آبادی یعنی چین اور بھارت کی تجارتی شاہراہ پر بیٹھے ہیں اور پھر بھی غریب ہیں۔ بلکہ غریب کیا منگتے کہئے کہ اس وبا کے دور میں اپنی ویکسین خریدنے کی بجائے عطیات و خیرات کے آسرے پر ہیں۔ ہمارا سابقہ مشرقی پاکستان حالیہ بنگلہ دیش دنیا کے پچھواڑے میں ہے۔ پھر بھی ہم سے آگے نکل گیا ہے۔ کیوں؟ اس کے جو حالات جا رہے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ کبھی جیسے ہمارے مغربی پاکستان کے بعض مغرور حکمران انہیں کسی زمانے میں بھوکے ننگے بنگالی کہا کرتے تھے اب وہ کہیں ہمیں نہ ایسا کہنے لگیں۔

چین کی پالیسی سے ہی ہم کچھ سیکھ لیں تو اچھا ہے۔ وہ انڈیا سے سرحدی تنازعات میں الجھا ہوا ہے، ایک بڑی جنگ کر چکا ہے اور چھوٹی موٹی جنگیں غالباً پریکٹس کے لیے لڑتا رہتا ہے۔ اس کے باوجود جب بات تجارت کی آتی ہے تو اسے انڈیا بہت اچھا لگتا ہے۔ حق بات ویسے یہی ہے کہ اگر دشمن کی جیب سے بھی بندہ چار پیسے جھاڑ لے تو اس کا سواد ہی کچھ اور ہوتا ہے۔

چین سے تو ہمارا سی پیک چل ہی رہا ہے، اب اگر ہم انڈیا کو افغانستان، چین، مشرق وسطیٰ اور ایران ترکی سے یورپ تک کا زمینی راستہ دے دیں تو اس سے چونگی کے ہی اچھے پیسے بنا سکتے ہیں۔ جس رفتار سے ہماری شاہراہوں کے ٹول ٹیکس بڑھ رہے ہیں، ان کی مد میں بھی ہم اچھا مال پانی بنا لیں گے۔ اس کے علاوہ اگر ہم نے انڈیا اور چین کے مسافروں اور ڈرائیوروں سے بھی موٹر وے ریسٹ ایریا کے وہی ریٹ چارج کئے جو اپنے عزیز ہم وطنوں سے کرتے ہیں تو پھر تو بہت ہی اچھی آمدنی ہو جائے گی۔ جب ان کا مال یہاں سے گزر کر جائے گا تو وہ یہاں سرمایہ کاری کرنے، کچھ مال یہاں بنانے اور گودام وغیرہ قائم کرنے پر بھی مجبور ہوں گے۔ اس سے ان کے منافعے میں اضافہ ہو گا اور ہمارے پیسے بھی بنیں گے۔

یہ صدی چین کی برآمدات سے شروع ہوئی۔ چند برس میں انڈیا بھی اس کے برابر کھڑا ہو گا۔ یعنی دنیا کی برآمدات کا ایک نمایاں حصہ پاکستان کے زمینی راستے سے گزرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ انڈیا سے ہمارے تعلقات اچھے ہوں۔ چاہے اچھے نہ بھی ہوں، لیکن تجارتی تعلقات ضرور ہوں۔ چین کی طرح اپنے باہمی تنازعات کو ہم اگلی نسلوں کے سپرد کر دیں تو اچھا رہے گا۔ انڈیا سے ہم صنعت اور فلموں میں مقابلہ نہیں کر سکتے لیکن فیشن اور ڈراموں میں وہ ہمیں اپنا پیر مانتے ہیں۔ تجارتی تعلقات اچھے ہوں تو ہم یہاں سے کچھ نہ کچھ اسے بھی بیچ سکیں گے۔ باقی مذہبی سیاحت سے بھی بہت کچھ کمایا جا سکتا ہے۔ سکھوں کے مقدس گردواروں کے علاوہ اہم ہندو مندر اور بدھ آثار یہاں موجود ہیں۔ سعودی عرب کو ہی دیکھ لیں کہ ہم سے کتنے پیسے کما رہا ہے، ہم بھی انڈیا سے بہت کچھ کما سکتے ہیں۔

لیکن معاملہ یہ ہے کہ اس سب کے لیے انڈیا سے اچھے تعلقات کی ضرورت ہے۔ اور مسئلہ یہ ہے کہ ملک پر حکمرانی کے کم از کم پانچ برس بعد یہ عقل آنی شروع ہوتی ہے کہ ملک جذبات سے نہیں چلتا معیشت سے چلتا ہے اور معیشت کا تعلق امن سے ہوتا ہے۔ پھر بندہ وہ پالیسی اختیار کر لیتا ہے جسے وہ افراد غداری کہتے ہیں جن کے پانچ برس پورے نہیں ہوئے ہوتے۔ اب ہمارے چیف صاحب نے بھی انڈیا سے ماضی بھلا کر آگے چلنے کی بات کی ہے، مسئلہ کشمیر بھی بظاہر کسی قسم کے مذاکرات کے بغیر حل ہو گیا ہے۔ نہ وہ ہم سے آزاد کشمیر چھین سکتے ہیں اور نہ ہم مقبوضہ کشمیر کو طاقت سے لے سکتے ہیں۔ اقوام عالم کو اس مسئلے کے حل میں کوئی دلچسپی نہیں، یعنی پنچ بھی خاموش رہیں گے اور پرنالہ بھی یہیں رہے گا۔

انڈیا بظاہر بے رخی دکھا رہا ہے لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ امریکہ اسے چین کے سامنے کھڑا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انڈیا کہتا ہے کہ پہلے پاکستان کو تو سنبھالو، ہمیں اس کی فکر ہی چین نہیں لینے دیتی تو چین کا مقابلہ کیا کریں۔ یعنی ادھر اتنی بھی بے رخی نہیں، معاملہ صرف یہ ہے کہ دونوں کیمپ ڈیوڈ کے منتظر ہیں۔ کیمپ ڈیوڈ جتنا جلد ہو جائے اتنا اچھا ہے۔ واجپائی اور نواز شریف کا موقع تو ہم گنوا بیٹھے، اب نریندر مودی اور عمران کا دیکھ لیتے ہیں۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)