پاکستان میں خوشی کی شرح میں شدید کمی ہوئی: عالمی رپورٹ

  • ہفتہ 20 / مارچ / 2021
  • 5900

اقوام متحدہ کی ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ کے مطابق دنیا میں پچھلے ایک سال کے دوران خوشی کا تناسب کم ہوا ہے اور اس کی وجہ کورونا وائرس کی وجہ سے پھیلنے والی بے یقینی اور خوف ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے دنیا کے 149 ملکوں میں شہریوں کی انفرادی آمدنی، متوقع صحت مند عمر اور رائے عامہ کے جائزوں سے اپنی سالانہ رپورٹ مرتب کی ہے۔  رپورٹ کے مطابق دنیا کے خوش باش ملکوں میں پاکستان دنیا کے 149ملکوں میں39 درجے کی تنزلی کے بعد 105 ویں نمبر پرآگیا ہے۔ پچھلے برس کی رپورٹ میں پاکستان کا درجہ 153 ملکوں میں 66 ویں نمبر پر تھا۔

جنوبی ایشیائی ملکوں میں نیپال سب سے آگے ہے جس کے شہریوں کی زندگی میں خوشی کا تناسب پانچ درجے اضافے کے ساتھ 87 ویں نمبر پر آگیا ہے۔ اس کے بعد 101 نمبر پر بنگلہ دیش ہے اور پھر پاکستان 105 ویں نمبر پر ہے۔ بھارت بھی  139ویں پوزیشن پر آگیا ہے۔ اس سروے میں افغانستان آخری پوزیشن پر ہے۔

رپورٹ کے نتائج سے سامنے آیا ہے کہ پہلے دس خوش ملکوں میں سے ابتدائی 9 نمبر یورپی ممالک کے حصے میں آئے، جب کہ دسواں ملک نیوزی لینڈ ہے۔ پہلے دس انتہائی خوش ملکوں میں فن لینڈ، ڈنمارک، سوئٹزرلینڈ، آئیس لینڈ، ہالینڈ، ناروے، سویڈن، لکزمبرگ، نیوزی لینڈ اور آسٹریا  ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پچھلے برس دنیا کو اکیلے پن، خوف، ذہنی دباؤ، بیماری، موت اور لاک ڈاؤن جیسے کئی مسائل کا سامنا رہا لیکن عالمی وبا نے لوگوں کے حوصلے پست نہیں کئے۔ ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ 2021 کے مصنفین کے مطابق اگرچہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کے خوش رہنے، خوش ہونے اور خوشی کے اظہار کا انداز تبدیل ہوا ہے، زندگی سے پائیدار اطمینان حاصل کرنے سے متعلق ان کی رائے اور حالات میں زیادہ فرق نہیں پڑا ہے۔

نیویارک میں کولمبیا یونیورسٹی کے معیشت دان اور اس رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک جیفری ساچیز نے خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ لوگوں نے طویل مدت پر نظر رکھتے ہوئے پچھلے برس بہت زیادہ ہمت سے کام لیا ہے۔‘

اقوام متحدہ کے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ سولوشن نیٹ ورک کی اس رپورٹ کے لیے 149 ممالک میں سروے کیا گیا۔ اس سروے میں لوگوں سے ان سوالات پر ان کی رائے لی گئی ہے کہ اگر ان کی زندگی میں حالات خراب ہوں تو انہیں معاشرے کی سطح پر کتنی مدد ملتی ہے، انہیں اپنی زندگی کے فیصلے کرنے میں کتنی آزادی ہے اور ان کے خیال میں ان کے ارد گرد کے ماحول میں بد عنوانی کا تناسب کتنا ہے اور لوگ کتنے کھلے دل کے ہیں۔