موٹروے زیادتی کیس کے مجرموں کو سزائے موت سنادی گئی

  • ہفتہ 20 / مارچ / 2021
  • 4950

لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے موٹروے زیادتی کیس کے دونوں مجرموں کو سزائے موت سنادی ہے۔ جج ارشد حسین بھٹہ نے کیمپ جیل لاہور میں موٹروے زیادتی کیس کا فیصلہ سنایا۔

عدالت نے دونوں مجرمان عابد ملہی اور شفقت علی کو اغوا کے الزام میں عمر قید، ڈکیتی کا الزام ثابت ہونے پر 14 سال قید اور 50، 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ عدالت نے ملزمان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں بحق سرکار ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

مجرم عابد ملہی اور شفقت علی کو کیس کا فیصلہ سننے کے لیے عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ پراسکیوشن کی ٹیم بھی کمرہ عدالت میں موجود تھی۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے موٹروے گینگ ریپ کیس کا ٹرائل مکمل ہونے پر 18 مارچ کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

ملزمان کے ٹرائل کے دوران 40 گواہان کے بیانات قلم بند کیے گئے اور تین رکنی خصوصی پراسکیوشن ٹیم نے جیل میں گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے۔ ٹرائل کے دوران متاثرہ خاتون نے بھی جیل میں قائم عدالت میں پیش ہو کر اپنا بیان قلم بند کرایا اور ملزمان کی شناخت کی۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے سامنے ملزمان کے حتمی بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے اور جرح بھی مکمل کی گئی۔ خیال رہے کہ سیکیورٹی مسائل کے باعث ملزمان کا جیل میں ہی ٹرائل کیا گیا جبکہ ملزمان کے خلاف تھانہ گجرپورہ میں دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

انسداد دہشت گردی عدالت میں 16 مارچ کو سماعت میں ملزمان کے خلاف تمام 40 گواہوں کے ٹھوس شواہد پر مبنی بیانات قلم بند کیے گئے تھے۔ قبل ازیں عدالت نے 3 مارچ کو دونوں مرکزی ملزمان عابد ملہی اور شفقت علی پر فرد جرم عائد کردی تھی۔ ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا تھا۔ چالان میں ملزمان کو قصور وار قرار دیا گیا تھا۔

پولیس نے چالان میں 40 گواہان کے بیانات قلمبند کیے تھے اور چالان میں کہا گیا تھا کہ عابد ملہی اور شفقت بگا نے خاتون کے ساتھ ڈکیتی اور زیادتی کی۔ ملزمان کی شناخت پریڈ جیل میں کرائی گئی اور ان کا ڈی این اے بھی کروایا گیا جو میچ کر گیا جبکہ دونوں ملزمان نے دوران تفتیش اپنے جرم کا اقرار بھی کیا ہے۔

خیال رہے کہ 9 ستمبر 2020 کو لاہورسیالکوٹ موٹروے پر گجرپورہ کے علاقے میں 2 مسلح افراد نے ایک خاتون کو اس وقت زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جب وہ وہاں گاڑی بند ہونے پر اپنے بچوں کے ہمراہ مدد کی منتظر تھی۔