ناتمام جمہوریت
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 20 / مارچ / 2021
- 7460
آپ نے جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا۔ سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے گزشتہ ماہ مقامی حکومتوں کے بارے میں کیس کی سماعت کے دوران کومنٹ کیا۔۔۔ اگر آپ کی حسبِ منشا نتائج نہیں آتے تو کیا آپ کل کو پورا نظام لپیٹ دیں گے، صرف اس بنا پر کہ اپوزیشن نے میدان مار لیا۔ آپ نظام کو بچانے کی بجائے اسے پٹڑی سے اتارنے پر کیوں کمر بستہ ہیں؟
رواں ہفتے سپریم کورٹ نے اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ اس طرح کے اقدامات کرنے والوں نے آئین کی خلاف ورزی کی۔ آئین سے روگردانی سنگین غداری کا ارتکاب ہے، مشرقی پاکستان کی علیحدگی منتخب نمائندوں کو اقتدار نہ دینے سے ہوئی۔ وفاق اور صوبوں کے الیکشن کمیشن کے راستے میں روڑے اٹکانے کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت سے ایک روز قبل پنجاب حکومت نے خفیہ طور پر آرڈیننس جاری کیا جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن کے بلدیاتی انتخابات کے لئے کئے گئے اقدامات ضائع ہو گئے۔
مقامی حکومتیں یا بلدیاتی نظام جمہوری نظام کی بنیاد ہے جو مقامی لوگوں کو اپنے وسائل اور مسائل کے لئے ایک قانونی اور نتظامی ڈ ھانچہ فراہم کرتا ہے۔ جمہوری نظام ایک مثلث کی شکل ہے یعنی مقامی حکومتیں، صوبائی حکومتیں اور وفاقی حکومت۔ دنیا کے بیشتر جمہوری ممالک میں کم و بیش یہی مثلث حکومتی اختیارات اور وسائل کے لئے رائج ہے۔ پاکستان میں بھی یہی نظام آئین اور جمہوریت میں شامل ہے لیکن ہماری سیاسی اور غیر سیاسی تاریخ میں یہ عجیب دو عملی رہی ہے کہ سیاسی حکومتیں مقامی حکومتوں کے قیام کے لئے کم ہی سرگرم رہیں جبکہ غیر سیاسی حکومتوں نے مقامی حکومتوں کو ہی کلی جمہوریت بنانے کی کوشش کی۔
اس کے برعکس سیاسی حکومتوں کے ہاں معاملہ الٹ رہا، وفاق سے وسائل اور انتظامی اختیارات کی صوبوں کو منتقلی ایک بہت بڑا سیاسی مسئلہ رہا ہے۔ 18 ویں ترمیم کو سیاسی کارنامہ قرار دیا جاتا ہے کہ اس ترمیم سے وسائل اور اختیارات کا ایک بہت بڑا حصہ صوبوں کو منتقل کردیا گیا۔ مگر یہ عجیب منافقت اور دو عملی ہے کہ جس دلیل پر وفاق سے وسائل اور اختیارات حاصل کے گئے وہ دلیل ان وسائل اور اختیارات کی مقامی سطح پر منتقلی کے لئے گنگ ہو جاتی ہے۔ عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے، کام نہ کرنا ہو تو ہزار بہانے، مقامی حکومتوں کے ساتھ کم و بیش سب ہی سیاسی جماعتوں نے یہی رویہ روا رکھا۔ اس دوران مقامی حکومتوں کے لئے مختص وسائل اور اختیارات صوبائی حکومتوں نے اپنی دسترس میں قابو کئے رکھے۔ بہت آئینی مجبوری آن پڑی تو یکطرفہ طور پر مقامی حکومتوں کے وسائل اور اختیارات کا ڈنک قانونی موشگافیوں سے یوں نکال دیا کہ ڈھانچہ رہ گیا انجن غائب۔
اس وقت ملک میں دو بڑی سیاسی پارٹیاں حکومت میں ہیں؛ پی ٹی آئی اور پی پی پی۔ اس قبل وفاق اور پنجاب میں ن لیگ حکمران تھی۔ کم و بیش تینوں بڑی جماعتوں کا رویہ مقامی حکومتوں کے بارے میں ایک سا رہا ہے یعنی ان سے ممکنہ حد تک بچو اور لٹکاؤ۔ پی ٹی آئی نے 2013 میں کے پی میں بڑے طمطراق سے مقامی حکوتوں کا ایک عمدہ بل متعارف کروایا مگر جلد ہی سیاسی مفادات کا ٹکراؤ اور وسائل اور اختیارات پر روایتی کنٹرول کی جبلت غالب آ گئی۔
اب صورت یہ ہے کہ بلوچستان میں مقامی حکومتیں جنوری2019 جبکہ اگست2019 میں کے پی اور اگست 2020 میں سندھ کی مقامی حکومتیں اپنی طبعی مدت پوری کر چکی ہیں ۔ پنجاب میں مقامی حکومتوں کی مدت جنوری 2022 تک تھی لیکن مئی 2019 میں خاموشی سے انہیں تحلیل کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے سامنے اسی کیس میں چیف الیکشن کمشنر نے اپنے جواب میں قرار دیا کہ آئینی مدت سے قبل پنجاب میں مقامی حکومتوں کی تحلیل غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ رواں ہفتے سپریم کورٹ کے فیصلے نے بہت واضح انداز میں مدت کی تکمیل پر نئی مقامی حکومتوں کے قیام کو ٹالنے کو آئین سے روگردانی قرار دے کر ایک بار پھر سیاسی نظام کو باور کرایا ہے کہ مقامی حکومتوں کے بغیر جمہوری نظام آئین کی رو سے ناتمام ہے۔
حال ہی میں سینیٹ کے انتخابات اور اس سے قبل ڈسکہ الیکشن کے موقعے پر جو سیاسی رزم آرائی برپا ہوئی، الزامات اور شکوک کی جو گرد اڑی یا اڑائی گئی، اس سے موجودہ جمہوری نظام کی پختگی اور پائیداری کے بارے میں بہت سے سوالات ایک بار پھر کھڑے ہوگئے ہیں۔ خفیہ ووٹنگ چند دن پہلے تک روا تھی مگر پھر اوپن کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ خفیہ ووٹنگ سے قومی اسمبلی سے یوسف رضا گیلانی کے منتخب ہونے پر ایک فریق نے شادیانے بجائے مگر جب سینیٹ چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین کے الیکشن کے نتائج آئے تو شادیانے دوسرے آنگن میں بجنے لگے۔ سات ووٹوں کا فیصلہ اب اعلیٰ عدالتیں کریں گی مگر اس پورے انتخابی سلسلے میں یہ ضرور ثابت ہو گیا کہ سیاست کے حمام میں سب ایک سے ہیں۔
سب ایک سے کیوں نہ ہوں؟ جب سیاسی جماعتیں وسیع بنیادوں پر رکنیت اور واضح منشور کی پابند نہ ہوں تو سیاسی جماعتیں بنیادیں طور پر ایک قبائلی نظم میں ترتیب پا جاتی ہیں،اس نظم میں گروہی مفادات میں ساجھے داری اور بقاء مضمر ہوتی ہے۔ امریکہ بظاہر سب سے بڑی جمہوریت ہے مگر وہاں بھی دو جماعتوں کی اجارہ داری نے پورے نظام کو جکڑ رکھا ہے۔ اس اجارہ داری پر ایک معروف پولیٹیکل ماہر اور مصنفہ ایمی چوا نے 2018 میں پہلیٹیک ٹرائیبز کے عنوان سے کتاب لکھی کہ کیونکر آئیڈیالیوجی پیچھے رہ جاتی ہے اور مفادات مقدم ہو جاتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی نقشہ ہمارے ہاں بھی قائم اور دائم ہے۔
حال ہی میں ڈیموکریسی رپورٹنگ انٹرنیشنل پاکستان نے ایک بریفنگ پیپر میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر مقامی حکومتیں موجود ہوتیں تو شاید کووڈ 19 کی وبا سے مقامی سطح پر بہتر انداز میں نمٹا جا سکتا تھا۔ بات تو سچ ہے مگر سیاسی طالع آزما بیانیے کی حد تک ہی مقامی حکومتوں کی حامی رہے ہیں۔ حقیقت وہی ہے جس کا ذکر سپریم کورٹ نے اپنے کومنٹ اور فیصلے میں کیا کہ یہ ناتمام جمہوریت ہے۔