اخلاقی فتوؤں سے عملی اقدام بہتر ہے
میرے ذہن میں جنم لینے والے سوال کا جواب میں خود نہیں دوں گا مگر قارئین کرام کے ساتھ میں 38 سال قبل کا ایک ایسا واقع شئیر کرنا چاہوں گا جب میری عمر بہت کم تھی اور میں جرمنی میں رہائش پزیر تھا۔ بظاہر یہ واقعہ بہت چھوٹا ہے لیکن آج سوشل میڈیا پر ہر دوسرا آدمی جج بن کر دوسروں کے بارے فتوے جاری کرتا ہے۔ اسی طرح کا ایک فتویٰ پڑھ کر مجھے 1982 کا یہ واقعہ یاد آ گیا۔
ہؤا یوں کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر سید نزیر گیلانی صاحب پہلی بار لندن جا رہے تھے کہ وہ جرمنی کی جنوبی شہر سٹٹگارٹ میرے پاس رکے۔ سٹٹگارٹ فرینکفرٹ سے چار گھنٹوں کی مسافت پر تھا۔ ان دنوں موبائل فون کی سہولت نہیں تھی۔ سابق صدر آزاد کشمیر راجہ ذوالقرنین صاحب کے سابق پی ایس او راجہ جاوید آف کھاریاں اور میں نزیر گیلانی صاحب کو بزریعہ کار لینے کے لیے سٹٹگارٹ سے فرینکفرٹ ہوائی اڈہ پر گئے۔ یہ ہماری پہلی ملاقات تھی۔ ان دنوں بھارتی مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں کے بارے آج سے کہیں زیادہ جذباتیت اور الفت پائی جاتی تھی کیونکہ اس وقت تحریک آزادی کے نام پر جاری کاروبار ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔
ڈاکٹر نزیر گیلانی چند دن میرے پاس رہے۔ چونکہ کار میری اپنی نہیں تھی اور راجہ جاوید صاحب بھی فارغ نہ تھے تو میں ڈاکٹر نزیر گیلانی صاحب کو سٹٹگارٹ سے فرینکفرٹ بزریعہ ٹرین لے کر گیا ۔ میں نے اپنا واپسی کا ٹرین ٹکٹ لے کر بٹوے میں ڈال لیا۔ گیلانی صاحب کو الوداع کر کے میں ٹرین پر بیٹھا۔ ٹرین کو چلے ابھی تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ ٹرین انسپکٹر آ گیا اور مسافروں کے ٹکٹ چیک کرنے لگا۔ میں نے پتلون کی پچھلی جیب میں بٹوے کو نکالنے کی کوشش کی تو بٹوا جیب سے غائب تھا۔ یقیناً وہ سفر میں کہیں گر گیا تھا ۔ چونکہ بٹوا گر گیا تو میں ٹکٹ چیکر سے نیا ٹکٹ بھی نہ خرید سکتا تھا۔ میں نے ٹرین انسپکٹر کو وجہ بتانے کی کوشش کی تو اس نے ترش لہجے میں کہا کہ وہ مجھے جرمانے کی رسید دے گا جو مجھے سٹٹگارٹ پہنچ کر جمع کرانا پڑے گا۔ میں نے کہا وہ مجھے جرمانہ نہ کرے بلکہ ٹکٹ دے دے مگر وہ جرمانے پر بضد تھا۔
میرے سامنے والی سیٹ پر ایک جرمن بیٹھا ہوا تھا اس نے انسپکٹر کی طرف ہاتھ کھڑا کر کے کہا رکو۔۔۔۔ ٹکٹ کاٹو۔ اس نامعلوم جرمن نے ٹکٹ کٹواکر مجھے دیا اور ساتھ اس وقت کی جرمن کرنسی کے دس مارک میری منزل سٹٹگارٹ ٹرین سٹیشن سے گھر پہنچنے کے لیے دیے ۔ وہ جرمن راستے میں کہیں اتر گیا لیکن میرے ذہن میں آج بھی موجود ہے۔ میں سوچتا ہوں اس جرمن نے یہ کیوں نہیں سوچا کہ میں کوئی چیٹ آدمی ہوں ۔ دھوکے باز ہوں یاکوئی مفت خورا لوفر ہوں؟ آخر بے شمار لوگ بغیر ٹکٹ بسوں اور ٹرینوں پر چڑھ جاتے ہیں۔ شاید وہ کوئی مردم شناس تھا مگر جو بھی تھا ایک مثبت سوچ و فکر رکھنے والا آدمی تھا جس نے مجھے جانے بغیر مجھے شرمندگی سے بچا لیا۔ واقعات تو زندگی میں اور بھی بہت پیش آئے مگر صرف گزشتہ سال ایران میں پیش آنے والے ایک دو اور واقعات کے تذکرہ پر ہی اکتفا کروں گا۔
جیسا کہ سب جانتے ہیں عمران حکومت بنتے ہی مہنگائی آسمانوں کو چھونے لگی تھی۔ مارچ 2019 میں میں لاہور سے کربلا اور کربلا سے مشہد ایران گیا۔ ہوائی جہاز کی یہ ٹکٹ مجھے کوئی چالیس ہزار کی پڑی۔ ایران کی ایک یونیورسٹی سے مجھے دو ماہ بعد دعوت ملی تو پتہ چلا چالیس ہزار والی ٹکٹ اب ستر ہزار کی یے۔ میں نے بائی روڈ جانے کا فیصلہ کیا ۔ بلوچستان میں ہمارے ایک ہموطن اسلم کشمیری صاحب کسٹم انسپکٹر نے وہاں میری دیکھ بھال کی ۔ وہاں سے مشہد پہنچا تو کسی وجہ سے یونیورسٹی چند دن کے لیے بند ہو گئی تھی، جہاں میری رہائش کا انتظام تھا۔
بازار میں چلتے چلتے زعفران کی ایک دوکان پر بیٹھ گیا۔ دوکاندار کے ساتھ گپ شپ شروع ہو گئی تو میں نے اسے کہا کوئی مناسب سے ہوٹل پر کمرہ بک کروا دے۔ تھوڑی دیر بعد اس نے اپنے گھر فون کیا ۔ میرا بیگ اٹھایا اور مجھے گھر لے گیا۔ کہا یونیورسٹی کھلنے تک میرے گھر قیام کرو۔ ایک ہفتے بعد یونیورسٹی کھلی تو وہ مجھے اپنی کار پر یونیورسٹی چھوڑ آیا۔ ایران پر اقتصادی پابندیوں کے باعث غیر ملکی اکاؤنٹ کھلوانا مشکل ہے۔ میں نے اپنے پیسے یونیورسٹی کے ڈپٹی کے پاس جمع کروا دیے۔ مجھے اچانک یونیورسٹی کی ایک محقق نے ایک دوسرے شہر میں اپنے بھائی کی شادی میں شرکت کی دعوت دے دی۔ میں سفری اخراجات اور دولہا و دولہن کے لئے کچھ تحفے لینے کی خاطر یونیورسٹی سے پیسے لینے گیا تو پتہ چلا کہ ڈپٹی صاحب تو دو دن کی چھٹی پر ییں۔ محمد کریمی نامی ایک ایڈمن جس کے پاس میں کبھی کبھی جا کر بیٹھا کرتا تھا، سے ذکر کیا کہ اب پیسے نہ ہونے کی وجہ سے شادی میں شرکت مشکل ہے۔ تو وہ مجھے ایک دوکان پر لے گیا جہاں سے تحفے بھی لے دیے اور سفری اخراجات کے لیے کچھ نقد بھی دے دی۔ بعد میں یہ پیسے میں نے اسے واپس کر دیے۔
جی تو چاہتا ہے کہ اخلاق پسندی پر بہت کچھ لکھا جائے مگر یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کے لئے الفاظ ساتھ نہیں دے رہے۔ بس اتنا کہوں گا کہ ایسے منفی فتوے جو ہم صبح سویر اٹھ کر سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہیں، ان کی نسبت اگر ہم سب اخلاق پسند شہری کا کردار اداکرتے ہوئے مثبت رویوں کا مظاہرہ کریں تو ہماری دنیا بڑی حسین ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو مثبت سوچنے اور اچھے اعمال کی توفیق دے۔