کورونا پابندیوں کے خلاف مختلف یورپی ملکوں میں مظاہرے

  • اتوار 21 / مارچ / 2021
  • 3860

کورونا وبا کے پیشِ نظر پابندیوں کے خلاف ہفتے کو برطانیہ اور کئی یورپی ممالک میں شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ برطانیہ اور جرمنی میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں لوگوں کے جمع ہونے پر پولیس نے درجنوں مظاہرین کو گرفتار کر لیا۔ کورونا وبا کی تیسری لہر کے دوران لاک ڈاؤن کے خلاف یورپ کے دیگر ممالک آسٹریا، بیلجیم، کروشیا، فن لینڈ، پولینڈ، رومانیہ، سویڈن اور سوئٹزر لینڈ میں بھی مظاہرے کیے گئے۔

کیسل میں مظاہروں میں 20 ہزار سے زائد مظاہرین نے شرکت کی اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ کیسل کے مرکزی حصے میں مظاہرین نے عدالتی پابندی کے باوجود مظاہرہ کیا اور مظاہرین کی اکثریت نے کورونا وبا سے محفوظ رہنے کے لیے لازمی ماسک بھی نہیں پہنے تھے۔

جرمن ذرائع ابلاغ کے مطاابق کچھ مظاہرین نے پولیس افسران اور صحافیوں پر حملے بھی کیے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔ یورپ کے کئی شہروں میں ہفتے کو کورونا پابندیوں کے خلاف احتجاج کی کال دی گئی تھی۔

خیال رہے کہ جرمنی میں حالیہ ہفتوں کے دوران کورونا کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور حکومت کی طرف سے اس سے نمٹنے کے لیے اگلے ہفتے نئی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔ جرمن چانسلر اینگلا مارکل نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کے پیش نظر نافذ کردہ پابندیوں میں نرمی کو واپس لینا ہو گا۔  

جرمن حکام کا کہنا ہے کہ کورونا کے نئے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جن کی اکثریت برطانیہ سے سامنے آنے والی کرونا کی نئی قسم کی ہے۔ جرمنی میں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 26 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ اب تک 74 ہزار سے زائد افراد مہلک وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔

دوسری طرف برطانوی دارالحکومت لندن میں عائد کردہ لاک ڈاؤن کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ اس دوران مظاہرین نے پولیس کی طرف سے خبردار کیے جانے کے باوجود احتجاج کیا۔ لندن میں مظاہرے 60 سے زائد برطانوی قانون سازوں کی طرف سے وزیرِ داخلہ پریتی پٹیل کو جمعے کو لکھے گئے خط کے بعد شروع ہوئے۔ جن میں قانون سازوں نے مطالبہ کیا تھا کہ لاک ڈاؤن کے دوران مظاہروں کی اجازت دی جائے اور مظاہروں میں حصہ لینا جرم نہیں ہونا چاہیے۔