سیاسی قیادت گھر درست کرنے کی بات کرے تو غدار قرار پاتی ہے: مولانا فضل الرحمان
- اتوار 21 / مارچ / 2021
- 4630
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کی نو جماعتیں ایک سوچ رکھتی ہیں اور ہم پیپلز پارٹی سے یہی کہیں گے کہ وہ 9 جماعتوں کی رائے کا احترام کرے۔
لاہور میں جاتی امرا میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ میں ملک کو درپیش صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ حال ہی میں بجلی کو تقریباً 6 روپے مہنگا کیا گیا ہے۔غریب آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، آخر یہ قوم اور اس ملک کو کہاں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کو خودمختار بنانے کا قانون بھی اسی میں شامل ہے جس کے تحت وہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو جوابدہ ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کے کسی ادارے حتیٰ کہ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو جوابدہ نہیں ہوگا۔ اس طرح اسے آئی ایم ایف کا ذیلی ادارہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ ملک کی خودمختاری کے منافی ہے اور پاکستان کو معاشی لحاظ سے غلام بنانے کی ایک بھونڈی حرکت ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ وزیر خارجہ کا یہ کہنا ہے کہ سقوط کشمیر کے باوجود وہ ہندوستان سے بات کرنے پر تیار ہیں حالانکہ اس غیرجمہوری اقدام کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر بھارت دباؤ کا شکار ہے۔ لیکن اگر ہم نے ان سے مذاکرات کی حامی بھرلی تو ہم ہندوستان کو دباؤ سے نکالنے کا باعث بنیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ 26 مارچ کو مریم نواز کو نیب میں طلب کیا گیا ہے۔ ان کی پیشی کی جو وجوہات بتائی گئی ہیں اس نے نیب کو بے نقاب کردیا ہے۔ ہم ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ نیب ایک کٹھ پتلی ادارہ ہے۔ نیب نے آج بھی ضمانت کی منسوخی کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے، وہ بھی اس بنیاد پر رجوع کیا ہے کہ آپ اداروں کے خلاف بولتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ ادارہ کرپشن کو ختم کرنے کے لیے نہیں بنا بلکہ اداروں کی خدمت اور ان کی ترجمانی کے لیے بنا ہے۔
پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ 26 مارچ کو جب مریم نواز نیب میں پیش ہوں گی تو پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں کے کارکن موجود ہوں گے۔ ہماری پارٹی کے کارکن موجود ہوں گے، ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کارکن آئیں گے۔
پیپلز پارٹی کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم متحد ہے اور ہم باہمی رابطوں کے ذریعے کچھ معاملات پر مکمل قابو پا لیں گے۔ ہم نے مل کر سفر کرنا ہے۔ پی ڈی ایم کی نو جماعتیں ایک سوچ رکھتی ہیں اور ہم پیپلز پارٹی سے یہی کہیں گے کہ وہ 9 جماعتوں کی رائے کا احترام کرے تاہم پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلوں کا انتظار کیا جائے گا۔ ہم ان کے دلائل پر مزید غور کرنے کے لیے بھی تیار ہیں اور ان کے ساتھ خوشگوار ماحول میں اپنے معاملات ٹھیک کریں گے تاکہ پی ڈی ایم صرف متحد ہی نہیں مؤثر بھی رہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں نے شاہد خاقان عباسی کے گھر پر متفقہ فیصلہ کیا تھا کہ جس پر پی ڈی ایم کی مہر لگی ہوئی ہے اور اس میں مکمل اتفاق تھا کہ سینیٹ چیئرمین کے لیے پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں یوسف رضا گیلانی کو سپورٹ کریں گی اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے کے یو آئی (ف) کے عبدالغفور حیدری کو سپورٹ کریں گی اور قائد حزب اختلاف مسلم لیگ (ن) کا ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب چونکہ یہ اصولی فیصلہ ہو چکا ہے اور کسی کی ہار جیت کے بعد اس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، یہ بات نہیں ہوئی تھی کہ کوئی ہار جائے گا تو یہ فیصلہ تبدیل ہو جائے گا، یہ ایک اصولی فیصلہ ہو چکا ہے اور میں امید کرتی ہوں کہ اصول کے تحت اسی فیصلے پر سب جماعتیں کھڑی رہیں گی۔
پیپلز پارٹی کے پی ڈی ایم کے ساتھ مستقبل کے حوالے سے سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ یہ پیپلز پارٹی کا فیصلہ ہے کہ وہ پی ڈی ایم کے ساتھ رہے گی یا نہیں۔ میں اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتی لیکن جمعیت علمائے اسلام اور مسلم لیگ (ن) اپنے بل پر احتجاج اور بڑے جلسے کر سکتی ہیں۔ بہتر ہو گا کہ عوامی مطالبات پر ساری اپوزیشن متحد ہو۔ عوام میں اس حکومت کو مزید برداشت کرنے کی سکت نہیں ہے۔
اس دوران بی بی سی اردو کو این انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کے اس خیال پر بھی تبصرہ کیا ہے کہ ہمیں اہنا گھر درست کرنا چاہئے۔ انہوں نےکہا کہ ’اصل مشکل یہی ہے کہ جب اس طرح کی کوئی بات حکومت یا نواز شریف کہہ دے تو ڈان لیکس بن جاتی ہیں، انہیں غدار قرار دیا جاتا ہے یا ہمارے جیسے لوگ کہہ دیں تو کہا جاتا ہے کہ یہ سویلین لوگ ہیں، یہ ایسی نازک باتیں کہاں سمجھتے۔‘
ایک اور سوال پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ قومی سلامتی اور استحکام کے ضمن میں جس راستے کی نشاندہی کی گئی تھی، ڈھائی برس کے بعد وہ فلسفہ ان کی سمجھ میں آ گیا ہے۔ اب وہ اس راستے پر آئے ہیں تو ہم انہیں مشورہ دیں گے کہ پاکستان کے قومی مقاصد کے حصول کی کنجی قومی ترقی میں پوشیدہ ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنی ترقی پر پوری توجہ مرکوز کر دینی چاہیے۔ ضروری ہے کہ قومی خارجہ پالیسی پاکستان کے مفادات کے تابع ہو اور اسے دنیا کے مفادات سے وابستہ نہ کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ایک جامع اور باریک بینی کے ساتھ تیار کی گئی حکمت عملی اور خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے۔
ایسی صورتحال سے نمٹنے کا راستہ بھرپور قومی اتفاق رائے، اقتصادی طور پر مضبوط پاکستان اور ایک مضبوط حکومت ہی ہموار کر سکتی ہے۔ پاکستان پر آئی ایم ایف، ایف ٹی اے ایف اور انسانی حقوق کمیشن وغیرہ کے بڑھتے ہوئے دباؤ سے نمٹنے کا راستہ بھی یہیں سے نکلتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی طرف سے ’ہاؤس کو ان آرڈر‘ لانے کی بات سامنے آنے پر ہم سمجھتے ہیں کہ اب وہ ہمارے نظریات کے قریب آ چکے ہیں۔ لیکن ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسے بڑے اہداف نظریاتی اور سیاسی طور پر ایک مضبوط حکومت کے ذریعے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں، موجودہ کمزور غیر نظریاتی حکومت میں یہ صلاحیت نہیں کہ وہ ایسا بڑا کام کر سکے۔