عوامی اور ذاتی مفادات
- تحریر سلمان عابد
- اتوار 21 / مارچ / 2021
- 5230
پاکستان میں طاقت کہ کھیل میں عام آدمی اپنے مفادات کے حصول میں بہت پیچھے کھڑا ہے۔ عام آدمی کا مقدمہ قومی سیاست میں بنیادی حقوق کی بنیاد پر بہت کمزور ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مجموعی طورپر عام آدمی ریاستی سطح پر طاقت ور بننے کی بجائے اپنے مسائل میں الجھا ہوا نظر آتا ہے۔
اسی لئے ریاست، حکومت اور معاشرے میں عام آدمی کے معاملات متاثر ہورہے ہیں۔اگرچہ سیاسی جماعتیں عام آدمی کی بات تو بڑی شدت سے کرتی ہیں لیکن ان کی عملی ترجیحات کا محور ایک مخصوص طاقت ور طبقہ ہوتا ہے۔سیاسی جماعتوں کے منشور اور مختلف نوعیت کی پالیسیوں کو دیکھیں تو اس میں عام آدمی کے مفادات کی عکاسی نہیں ہوتی۔ عام آدمی کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ اس وقت ملک میں حکومت یا حزب اختلاف یا طاقت کے مراکزمیں جو بھی رشہ کشی ہورہی ہے اس کا عام آدمی کے مفادات سے کیا تعلق ہے؟کیونکہ اگر اقتدار یا طاقت کے مرکز میں عام آدمی محض ایک نمائشی حیثیت اختیار کرلے تو عوام کا اس میں کیا فائیدہ ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ طاقت و ر لوگ پہلے سے زیادہ طاقت ور ہورہے ہیں جبکہ عام آدمی پہلے کے مقابلے میں اور زیادہ کمزور ہورہا ہے۔ اس کی بنیاد ی وجہ معاشرے یا ریاست کا وہ نظام ہے جو عملی طور پر استحصال یا طبقاتی تقسیم کی بنیاد پر قائم ہے۔
عام آدمی کے لیے بنیادی مسائل تعلیم، صحت، روزگار، تحفظ، انصاف، پانی، علاج، شیلٹر، ٹرانسپورٹ، مہنگائی جیسے امور ہیں۔اگر اس کی زندگی میں روزمرہ کے بنیادی معاملات میں بہتری ہوگی تو اس کا ریاست، حکومت او رمعاشرے پراعتماد پیدا ہوتا ہے۔ویسے بھی عام آدمی کی توقع ریاست کے نظام سے ہوتی ہے۔اس لیے ذمہ دار ریاست او رحکومت درکار ہے جو عام آدمی کے مفادات کو سامنے رکھ پالیسی بنائے اور اس پر ٹھوس بنیادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ1973 کے آئین کے تھٹ بنیادی حقوق کو یقینی بنایا جائے۔ 1973کا آئین عام آدمی کے حقوق کا محافظ ہے۔
عام آدمی کا مقدمہ کرنے کا سوال بنیادی ہے اس پر سماج و حکومت کی ہر سطح پر بحث ہونی چاہئے۔ اول تو یہ کہ ریاست یا حکومتی نظام میں ذمہ دار لوگ اور ادارے اپنی ذمہ داری کو قبول کریں۔ دوئم ہمیں معاشرے کے اندر ایسے پریشر گروپس ہوں جو عام آدمی طاقت بن کر حکومت پر دباؤ ڈالیں۔ بدقسمتی سے سیاسی نظام طاقت کے کھیل میں الجھ کر رہ گیا ہے۔ یہ نہیں کہ ہماری سیاسی جماعتوں یا پارلیمنٹ میں اچھے لوگ نہیں بلکہ بحران یہ بڑھ گیا ہے کہ ان اچھے لوگوں کے لیے بھی موجودہ سیاسی نظام میں وہ جگہ نہیں جو وہ عام آدمی کے لئے کام کرسکیں۔ یہاں ایسے لوگوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کی قیادت کی ذاتی جنگ کا حصہ بن جائیں۔ اچھی شہرت کے لوگوں کی اس سیاسی نظام میں جگہ سکڑ رہی ہے۔
یہ بات بھی شدت سے محسوس کی جاتی ہے کہ ہمارے پاس عام آدمی کے لیے نعرے تو بہت ہیں لیکن عملی بنیادوں پر دیکھا جائے تو ہمیں عام آدمی کی زندگی میں کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملتی۔ اچھی حکمرانی کی عدم موجودگی بھی بحران کا سبب ہے۔ ہمارا سیاسی نظام، ریاست او رحکومت سے جڑے افراد اچھی حکمرانی کے اصولوں پر ہی اتفاق نہیں کرتے۔عام آدمی کے مقدمہ میں بہتری پیدا کرنے کے لیے ہمیں میڈیا میں بھی تبدیلی لانا ہوگی۔ میڈیا کو افراد کی پسند و ناپسندیا حمایت یا مخالفت میں الجھنے کی بجائے بنیادی اہم معاملات پر توجہ دینا ہوگی۔میڈیا کا محض شخصیات میں الجھنا بھی عام آدمی کے مفادات کو کمزور کرتا ہے۔ یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیا سمیت پریشر گروپس سیاسی جماعتوں اوران کی قیادت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی سیاست کا رخ ذاتی مفادات،محاز آرائی،ٹکراؤ یا الزامات کی بجائے عام آدمی کے تحفظ کی جنگ لڑیں۔ کیونکہ محرومی او ربنیادی حقوق کی عدم فراہمی نے پورے نظام میں بداعتمادی کی فضا کو پیدا کی ہے۔