آسٹریلیا میں بدترین سیلاب ، ہزاروں افراد بے گھر

  • سوموار 22 / مارچ / 2021
  • 5540

آسٹریلیا کے جنوب مشرقی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ سیلاب نے نظامِ زندگی مفلوج کر دیا ہے۔ ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

سیلاب کی وجہ سے سیکڑوں اسکول بھی بند کر دیے گئے ہیں۔ کئی دنوں سے جاری موسلا دھار بارشوں سے ملک کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست نیو ساؤتھ ویلز کے ساحلی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں جب کہ سڈنی کے بھی کچھ علاقوں کو سیلابی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ حکام کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں میں آنے والا یہ سب سے بڑا سیلاب ہے۔

پیر کو 80 لاکھ شہریوں کو بتایا گیا کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اگر ممکن ہے تو گھر سے کام کریں۔ یہ ہدایات ایسے وقت میں آئی ہیں جب بارش سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں 24 گھنٹوں کے دوران 10 انچ تک بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ صرف ایک سال قبل یہ علاقہ پانی کی قلت اور طویل خشک سالی کا سامنا کر رہا تھا۔ یہاں پانی محدود تھا اور جنگلوں میں ایسی آگ لگی تھی جس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔

سائنس دان خبردار کر چکے ہیں کہ آسٹریلیا کو موسمیاتی تغیر کے سبب شدید موسموں کا تواتر سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز کی پریمیئر گلیڈیس بیریجکلیئن کا کہنا ہے کہ تقریباً 18 ہزار افراد کو گھروں سے نکلنے کی ہدایات کی گئی ہیں اور 38 علاقوں کو آفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔

ریاست کی منتظم نے مزید کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ ریاست کو تاریخ میں اس طرح کے تیزی سے بدلتے شدید موسموں کا سامنا رہا ہو۔  ریاست کا وسطی شمال کا ساحلی علاقہ خاص طور پر اس سیلاب سے متاثر ہوا ہے۔ سڈنی کی ہاک بیری نیپیئن ویلی میں دریا میں پانی کی سطح بہت بلند ہے۔ بعض متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو پیر کو پانی کی سطح کم ہونے پر گھروں میں واپس جانے کی اجازت دے دی گئی لیکن دیگر شہریوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے کیوں کہ ان کے علاقوں کو پہلی مرتبہ بڑھتے ہوئے پانی کا سامنا تھا۔

ابھی تک کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی لیکن حکام نے صورتِ حال سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے اور اس کو زندگیوں کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بارشوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا جس سے سیلابی صورت حال میں شدت آ سکتی ہے۔

صحت کے حکام نے کہا ہے کہ بارشوں اور سیلاب کے سبب سڈنی اور ارد گرد کے علاقوں میں کورونا وائرس کی ویکسین لگانے کے عمل کو بھی رکاوٹ کا سامنا  ہے۔  آسٹریلیا میں عوام میں بڑے پیمانے پر ویکسین لگانے کی مہم پیر سے شروع ہونا تھی لیکن سپلائی کے نظام میں خلل کے باعث حکومت کا اعلان کردہ شیڈول متاثر ہوا ہے۔