جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے فواد چوہدری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی
- سوموار 22 / مارچ / 2021
- 6980
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے۔
سرینا عیسیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فواد چوہدری نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی سے متعلق توہین آمیز ٹوئٹ کی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ فواد چوہدری نے اس ٹوئٹ سے وزیر کے طور پر اپنے حلف اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کے ایک سابق چیف جسٹس اور حاضر جج کا مذاق اڑایا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی وفاقی وزیر پاکستان کی سب سے اعلیٰ عدالت کے کسی جج کی اس انداز میں تضحیک کرسکتا ہے تو ان کے احکامات پر ٹوئٹر بریگیڈ اور ففتھ جنریشن وار فیئر کے جنگجو تو اس سے بھی برا کرسکتے ہیں۔
سرینا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ میرے شوہر معزز عدالت کے ایک جج ہیں۔ وہ کوئی انڈر ٹرائل قیدی نہیں اور بحیثیت ایک وکیل فواد چوہدری کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے۔ وفاقی وزیر نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ایک 'انڈر ٹرائل جج' کہہ کر اس عدالت اور اس کے ایک حاضر جج کی توہین کی ہے۔ اسی طرح سابق چیف جسٹس کو 'گاڈ فادر' کہا گیا ہے۔ یہ اصطلاح جرائم پیشہ افراد کے سرغنہ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ اس عدالت کی عزت و وقار پر حملہ ہے اور معزز عدالت کی سنگین توہین ہے۔
سرینا عیسیٰ کاکہنا تھا کہ میرے شوہر کو جب اس ملک کی خدمت کے لیے مقرر کیا گیا وہ اس وقت سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو ذاتی طور پر نہیں جانتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فواد چوہدری کے بے اختیار سپریم کورٹ کی تصویر پیش کرتے ہیں، جس کے سنگین اثرات ہیں۔ یہ اس عدالت کی ساکھ اور آزادی کو مجروح کرتا ہے۔
اپنی درخواست میں انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ فواد چوہدری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کر کے انہیں مناسب سزا دی جائے۔ عہدے سے ہٹایا جائے اور انہیں ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کرنے کا حکم دیا جائے۔
خیال رہے کہ جمعہ کے روز وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے سپریم کورٹ کے جج کا نام لیے بغیر ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ اگر سیاست کا شوق ہے تو مستعفی ہوکر کونسلر کا الیکشن لڑیں۔ ٹوئٹ میں فواد چوہدری نے لکھا تھا کہ 'ایک ہفتے سے سپریم کورٹ کے ایک انڈر ٹرائل جج کی تقریریں سن رہے ہیں۔ اگر جواب دیا تو دکھ ہوا سے لے کر توہین ہوگئی کے بھاشن آجائیں گے'۔
وفاقی وزیر نے سپریم کورٹ کے مذکورہ جج کو کہا کہ اگر آپ کو بھی اپنے ’گاڈ فادر‘ افتخار چوہدری کی طرح سیاست کا شوق ہے تو مستعفی ہوکر کونسلر کا الیکشن لڑیں آپ کو مقبولیت اور قبولیت دونوں کا اندازہ ہوجائے گا۔ اگرچہ وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اپنی ٹوئٹ میں کسی سپریم کورٹ کے جج کا نام نہیں لکھا تھا تاہم اس وقت سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کیس عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے۔
یہ کیس نظرثانی کا ہے جو جسٹس عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس پر دیے گئے سپریم کورٹ کے فیصلے پر درخواستوں سے متعلق ہے۔ اس نظرثانی کیس میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس عیسیٰ نے ایک متفرق درخواست بھی دائر کی ہے جس میں کیس کی سماعت براہ راست نشر کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ اس پر عدالت فیصلہ محفوظ کرچکی ہے۔