جہالت کے جنگل کی آگ
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 22 / مارچ / 2021
- 14380
پوری پاکستانی قوم ایک روحانی عذاب کی آگ میں جل رہی ہے۔ ہمارا معاشرہ اب ایسا نہیں اور نہ کبھی تھا جس میں باہمی محبت، رواداری، احترام اور قانون کی بالا دستی اور پابندی کا بول بالا رہا ہو ۔ ہم دہقانی معاشرت کے جذباتی لوگ ہیں جس میں خاندان، برادری اور رشتہ داری کے دوطرفہ تعلقات ہی قانون کا متبادل ہوتے ہیں۔
قانون ااور آئین کی حیثیت ان معاشرتی روایات کے سامنے پرِ کاہ کی بھی نہیں۔ ہم ملکی عدالتوں کے ہوتے ہوئے اپنے فیصلے پنچایتوں اور جرگوں میں کرتے ہیں جہاں عدلیہ کی رِٹ نہیں ہوتی۔ ہم جو اپنے کو مسلمان کہتے ہیں، قانون کا نہ تو وحترام روا رکھتے ہیں اور نہ ہی قرآن کی تعلیمات کے پابند ہیں۔ مسلمان کے لیے قانون کے تین مدارج ہیں۔ سب سے پہلے اللہ کے قانون کی اطاعت ہے، اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے قوانین کی اطاعت ہے اور اُس کے بعد حاکمِ وقت کی اطاعت ہے جس کا مطلب ملکی قوانین اور آئین کی عملی اطاعت ہے۔ مگر ہم لوگ قرآن، احادیث اور ملکی آئیں پر اپنی قدیم سماجی رویات کے غلام ہیں یعنی اپنے اپنے نفس کے غُلام۔ ہم اللہ کے رسول ﷺ کے اُس دین پر نہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو میں اُس کے ہاتھ بھی کٹوا دوں۔ ہمارے یہاں اللہ اور رسول ﷺ کے قوانین کی تعلیم اور ترویج کی ذمہ داری جن اداروں پر ہے وہ مذہبی ادارے ہیں۔ مسجد، مکتب، دینی مدارس، اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت، مذہبی سیاسی جماعتیں اور مذہبی سکالر اور دانشور وہ لوگ ہیں جن کا کام اس ملک کے لوگوں کی دینی، ذہنی، روحانی اور اخلاقی تربیت کرنی ہوتی ہے کہ وہ تمام لوگ جو مذہب سے وابستہ ہیں وہ اخلاقی قانون کی پابندی کریں۔ نبی ﷺ کے پیروکاروں کا بنیادی فرض ہے کہ وہ اپنے طلبا اور مسجد کے نمازیوں کو تہذیبِ نفس سے آراستہ کریں۔ اقبال نے اس ضمن میں کہا ہے:
شیخِ مکتب ہے اک عمارت گر
جس کی صنعت ہے روحِ انسانی
انسانی شخصیت کی تعمیر تاج محل جیسی خوبصورت تعمیر ہوتی ہے جسے بنانے اور نوک پلک سنوارنے پر سالوں لگ جاتے ہیں اور جس کے نقش و نگار اور آرائش پر بڑی محنت اور عرق ریزی کرنا پڑتی ہے۔ جو مسلمان تعمیر ہوتا ہے وہ خُدا کی حسین ترین تخلیق ہوتا ہے۔ وہی فرشتوں کے مسجود کا تصور ذہن میں آتا ہے جس کے بارے میں اللہ نے فرشتوں سے کہا تھا کہ انسان کے بارے میں جو میں جانتا ہوں، وہ تم نہیں جانتے۔ قالَ انی اعلم ما لا تعبدون۔ انسان خدا کا علم ہے مگر حالی اس موقع پر ایک نکتے کہ وضاحت کرتے ہیں کہ:
فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا
مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ
مگر وہ لوگ جن کا کام مسلمان کی تربیت کرنا ہے وہ اپنی ذمہ داری کو بھلا کر سارا ملبہ حکومت پر ڈال دیتے اور انہیں اس وقت یہ تک یہ یاد نہیں رہتا کہ پاکستانی مسلمان اُنہی کی تریبت کا شہکار ہے۔ لیکن پاکستانی معاشرے کی حالت یہ ہے کہ مسلمان کو یہ یاد نہیں رہتا کہ قرآن نے اتمام اہلِ ایمان کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا ہے مگر ہمارے علما، سیاستدان، دانشور، جج اور جرنیل خُدا کی کمان میں نہیں رہتے بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے ہر نیچ اور گھٹیا حربہ استعمال کرتے ہیں جس نے اس معاشرے کو طوفانِ بد تمیزی کا گہوارہ اور اکھاڑہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ ہم مسلمان جنہیں ایک دوسرے سے حُسنِ اخلاق سے بات کرنے کا حُکم ہے، ایک دوسرے کی بے عزتی کو اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہیں۔ ہماری پچھلی حکومتوں کے لیڈروں نے گالی گلوچ اور ایک دوسرے کی بے عزتی اور توہین کا جو راستہ قوم کو دکھایا تھا وہ سکہ رائج الوقت بن چکا ہے۔ ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹنے، پیٹ پھاڑ کر ڈالر نکالنے اور بے نظیر کی قابلِ اعتراض تصویریں پھیلانے والوں کا معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار رہا ہے اور ملک کے مذہبی دانشور، میڈیا اور عدلیہ نے کبھی انہیں یہ کہہ کر روکنے کی کوشش نہیں کہ کہ یہ خُدا کے واضح قانون کی حکم عدولی ہے۔
چونکہ عام لوگ حکمرانوں کے دین پر ہوتے ہیں، اس لیے وہ بھی وہی زبان بولتے ہیں جو لیڈر اور میڈیا کے دانشور بولتے ہیں اور مذہنی اداروں کے ذمہ دار وں کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ ملک شدید اخلاقی بحران سے دوچار ہے۔ کم سنوں کا ریپ، سرِ راہ ڈکیتیاں اور قتل و غارت گری روز کا معمول ہے اور ہمارا معاشرہ کسی طرح سے بھی ایک مہذب معاشرہ نظر نہیں آتا سوائے اس کے کہ مراعات یافتہ طبقوں کے لوگ سوٹڈ بوٹڈ نظر آتے ہیں، جدید ٹیکالوجی استعمال کرتے ہیں ، شاندار گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں، عورتیں مہنگا اور ولایت سے درامد شدہ میک اپ کرتی ہیں، بہت قیمتی کپڑے پہنتی ہیں اور لیے دیے رہتی ہیں۔
سیاست کا سارا محور ووٹ کو عزت دو ہے لیکن ووٹر کی عزت کی بات کوئی نہیں کرتا۔ سیاسی لوگ ایک دوسرے کی جان کو آئے رہتے ہیں، ایک دوسرے کے لتّے لیتے ہیں، پاکستان کی من حیث الریاست بے عزتی کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں، پاکستان کو گٹر سے تشبیہہ دیتے ہیں اور کسی کو یہ بات یاد نہیں رہتی کہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر شخص جواب دہ۔ لیکن یہ وہ نمائشی عشاق ہیں جو نبی ﷺ کی محبت کا دم تو بھرتے ہیں لیکن محمدیت کو اپنا اوڑھنا بچھونا نہیں بنا سکتے۔ اپنے مونہہ میاں مٹھو بننے کو ہی اسلام سمجھتے ہیں اور نہیں جانتے کہ مسلمان ہونا کیا ہے:
یہ شہادت گہِ اُلفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
مگر ہماری وہاں اسمبلیوں میں ایسے مسلمان لیڈر بھی دیکھنے میں آئے ہیں جنہیں یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ سورہ اخلاص کسے کہتے ہیں اور قل ھواللہ تک پوری صحت سے نہیں سنا سکتے۔ ہم نظریاتی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ہمیں معلوم نہیں کہ ہمارا نظریہ کیا ہے۔ یہاں یہ لطیفہ بھی سننے میں آتا ہے کہ ایک تین بار کا وزیر اعظم یہ اعلان کرتا ہے کہ اب وہ نظریاتی ہوچکا ہے مگر یہ نہیں بتاتا کہ نظریاتی ہونے سے پہلے وہ کیا تھے۔ یہ صورتِ حال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہم جہالت کی آگ میں جل رہے ہیں۔ جاہل وہ ہوتا ہے جسے یہ پتہ نہ ہو کہ وہ کون ہے اور ہمارے علم کا سرچشمہ عرفانِ نفس ہے کیونکہ ہمارا سبق یہ ہے کہ:
من عرَ نسہ فقد عرفَ ربہ
جس نے اپنے نفس یعنی اپنی ذات اور اوقات کو پہچان لیا ہو ۔ ہم بُلھیا کیہ جاناں میں کون کی کافی تو گاتے ہیں مگر اپنی ذات کے اندر اُتر کر اپنی اوقات جاننا نہیں چاہتے۔ یہ ایک بہت سنجیدہ سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنا ہمارے بس کا روگ نہیں۔ ہم لاقانونیت کے جنگل میں زندگی کا راستہ بھول گئے ہیں اور ہماری ناعاقبت اندیشی سے لاقانونیت کا جنگل جہالت کی آگ میں جل رہا ہے۔