سیاسی انتشار کی فضا میں یوم پاکستان
- تحریر افتخار بھٹہ
- سوموار 22 / مارچ / 2021
- 7510
23مارچ یوم پاکستان کا تاریخی دن آگیاہے۔ اس دن لاہور کے منٹو پارک حالیہ گریڑ اقبال پارک میں میں منعقدہ آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسہ میں ایک قرداد منظورکی گئی تھی جو شیر بنگال مولوی فضل حق نے پیش کی تھی۔
یہ یاد رکھیں تحریک پاکستان سب سے زیادہ مشرقی بنگال یا مسلم بنگال میں چلی تھی۔ پاکستان بنانے میں سب زیادہ حصہ اس علاقے کے مسلمانوں اود سندھ اسمبلی کا ہے ۔مشرقی پاکستان ہماری غلط پالیسیوں، نا انصافیوں اور ترجیحات کی وجہ سے علحدہ ہوگیا تھا ۔23 مارچ کو ہم ۔۔۔ جبکہ بنگلہ دیش والے 26 مارچ کو اپنی آزادی کا دن مناتے ہیں۔ اسی روز پی ڈی ایم نے لاگ مارچ کرنا تھا جوپیلز پاٹی کے استعفوں کے بارے میں تحفظات کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ پی پی نے اس ضمن میں کوئی فیصلہ کرنے کا معاملہ سنڑل کمیٹی کی منظوری سے مشروط کر دیا ہے۔
1971میں 23مارچ کو ہونے والا اجلاس بھی پی پی پی کے تحفظات کے باعث ملتوی کردیا گیا تھا۔ جس کے نتیجہ میں متحدہ پاکستان کا خواب دھندلا پڑگیا اور سب کچھ ملتوی ہوگیا۔ 23مارچ 1971کو پورے ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کےپرچم لہرا دیے گئے ۔25 مارچ کو صدر یحی خان کے حکم پر فوچی کارروئی کا آغاز ہوا ۔ ہماری نئی نسل کوتاریخی حقائق کا علم ہونا چاہئے مگر ان مایوسیوں اور محرومیوں کے باوجود سویلین اور حساس ادارے یہ دن جوش وخروش سے مناتے ہیں۔۔ مسلح افواج کی پریڈ ہوتی ہے۔
اگلے سال قیام پاکستان کو 75 سال ہو جائیں گے ۔1927 میں جنم لینے والا پاکستان کھلنا ، سلہٹ ، ڈھاکہ سے لے کر مغربی پاکستان میں بلوچستان اود چترال تک پھیلا ہواتھا۔ ہم نے سیکورٹی کے نام پر نسلی اور لسانی اقدامات اٹھائے۔جس سے قومی یک جہتی کا مقصد پائمال ہوا ۔ ریاست محضں فوجی نقطہ نظر سےمحفوظ بنانے کی بجائے عوام کے بنیادی حقوق صحت تعلیم اور روزگار کا خیال رکھنا چاہئے تھا جس کیلئے معیشت کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنے کیلئے صنعتکاری کو فروغ دینا شامل تھا۔ مگر ہم بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور قرضوں کے گورکھ دھندے میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ اپوزیشن اور حکومت کے پاس مالیاتی بحران سے نکلنے کا کوئی حل نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے عوام کسی سیاسی تحریک کا ایند ھن بننے کیلئے تیار نہیں ہیں۔
سال مکمل ہوجائیں گے۔ پاکستان گروتھ میں سب سے پیچھےاور مہنگائی میں سب سے آ گے ہے ۔ ملک کی زرعی پیداوار تنزلی سے دوچار ہے ۔کپاس گندم اور چینی درآمد کی جارہی ہیں۔ بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمیتں بڑھائی جارہی ہیں ۔ملک کی 60% فیصد آبادی خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
23مارچ 1940کو منظور کی جانی والی قرارداد دراصل ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کے درمیان مفاہمتی یاداشت ہے۔ ہم پاکستان میں بسنے والی مختلف قومیتوں کو مطئمن نہیں کر سکے ہیں۔ مقتدرہ طبقات نے اپنے اقتدار کے استحکام کیلئے مختلف سیاسی، لسانی اور نسلی اقدامات اٹھا ئے ہیں جن کا مقصد عوام دوست قیادتوں کو سیاسی عمل سے بے دخل کرنا تھا۔ ایسے اقداامات احتساب کے نام پر اب بھی کئے جارہے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے ایسی مملکت اور ریاست کا تصورپیش کیا جائے جہاں ہر فرد کویکساں مواقع حاصل ہوں ۔پاکستان میں شامل تمام قومیتوں کومحض ترانوں اور نغموں کے ذریعہ ملی وحدت میں پرویا نہیں جاسکتا۔ سیاسی، سماجی اور معاشی حقوق دینے سے قومی وحدت کومضبوط بنایا جاسکتاہے۔
تمام آئینی اور قومی اداروں کو اپنی حدودکے اندر رہ کر کام کرنا چاہیئے۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کو استعفوں کی رٹ ختم کرکے انتخابی، معاشی اور بلدیاتی اداروں میں مفاد عامہ کی اصلاحات میں حصہ لینا چاہئیے۔جس کیلئے دس سالہ منصوبہ بندی کی ضروت ہے۔ عوام حقیقی سیاسی و سماجی و معاشی تبدیلی اور انسانی حقوق کی حفاظت چاہتے ہیں۔