پاکستان اور انڈیا کے مستحکم تعلقات
- تحریر مظہر چوہدری
- سوموار 22 / مارچ / 2021
- 12670
انڈیا اور پاکستان کے مستحکم تعلقات کی ضرورت و اہمیت کے بارے میں جنرل باجوہ کے حالیہ بیان کودفاعی ماہرین اور تجزیہ نگاروں کی اکثریت مثبت رویے کا اظہار قرار دیتے ہوئے تحسین وستائش کی نظروں سے دیکھ رہی ہے۔ اگرچہ سوشل میڈیا پر آرمی چیف کے اپنے گھر کو ٹھیک کرنے والے حالیہ بیان کا نواز شریف کے سابقہ بیان سے موزانہ والی بحثیں بھی خوب ہوئی ہیں۔
ہم ان بحثوں کو کسی دوسری نشست پر ادھار رکھتے ہوئے فی الحال جنرل باجوہ کے بیان تک محدود رہتے ہیں۔ اور پاکستان اور انڈیا کے مستحکم تعلقات کی ضرورت و اہمیت پر فوکس کرتے ہیں۔واضح رہے کہ چندروز قبل اسلام آباد سیکورٹی ڈائیلاگ کی تقریب میں جنرل باجوہ نے کہا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کے مستحکم تعلقات وہ چابی ہے جس سے مشرقی اور مغربی ایشیاکے مابین رابطے کو یقینی بناتے ہوئے جنوبی اور وسطی ایشیا کی صلاحیتوں کو ان لاک(کھولا) جا سکتا ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے انڈیا کو مذاکرات کی یہ پیشکش اس لحاظ سے اہم ہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں پاکستان اور انڈیا نے لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کامعاہدہ بھی کیا تھاجسے پاکستان اور انڈیا کے دفاعی ماہرین و تجزیہ نگاروں کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اقوام متحدہ نے سراہتے ہوئے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لئے ایک مثبت قدم قرار دیا تھا۔
اس میں دو رائے نہیں کہ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کسی بھی دور میں بہت زیادہ خوش گوار نہیں رہے تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں ملکوں کے دو طرفہ تعلقات میں کسی حد تک خوشگوار ادوار بھی آتے رہے ہیں۔پاکستان اور انڈیا کے خوش گوار تعلقات کے حوالے سے پرویز مشرف کا دورخاص طور پر قابل ذکر ہے جس میں کارگل محاذ کی وجہ سے دونوں مما لک میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو معمول پر لانے کے لئے نہ صرف جنگ بندی معاہدہ کیا گیا بل کہ سرحد پار بس سروس کا آغاز کر کے امن اورمحبت کو فروغ دینے والے خو ش گوار تعلقات کی بنیاد رکھی گئی۔ پرویز مشرف کے ہی دور میں دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی کشیدگی کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر کے حل کا اب تک کا سب سے قابل قبول(مشرف من موہن فارمولا) حل بھی سامنے آیا لیکن بدقسمتی سے تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے کی جانے والی یہ تمام کوششیں پے در پے رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی نظر ہوگئیں۔
کہتے ہیں کہ عالمی تعلقات میں نہ تو کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ مستقل دشمن، بل کہ استقلال صرف قومی مفادات کو ہی حاصل ہوتا ہے لیکن تلخ حقائق یہ ہیں کہ ہم نے کم از کم دو ملکوں (انڈیا اور اسرائیل) کے معاملے میں خارجہ اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے مذہبی اور نظریاتی بنیادوں پراپنا مستقل دشمن بنائے رکھنے پر ہی سارا زور صرف کیا۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ماضی میں مسئلہ فلسطین کی وجہ سے اسرائیل سے جنگ لڑنے والے عرب ممالک یکے بعد دیگرے اسرائیل سے معاشی وتجارتی تعلقات مضبوط بنا رہے ہیں لیکن ہماری اسرائیل دشمنی میں آج بھی کوئی فرق نہیں آیا۔ایسا ہی حال ہماری انڈیا دشمنی کا بھی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں انڈیا سے خوش گوار مستحکم تعلقات بنانے کا عزم رکھنے والے سیاسی رہنماؤں کو غدارقراردینے میں ذرا بھی تامل نہیں کیا جاتا۔ دنیا بھر میں ریاستیں خاص طور پر ہمسایہ ریاستیں بنیادی اہمیت کے دو طرفہ اور علاقائی ایشوز کے حل کیلئے مختلف فورم پر سنجیدہ کوششوں میں مصروف عمل رہتی ہیں کہ بنیادی اہمیت کے کسی بھی مسئلے کو حل کیے بغیرہمسایہ ریاستیں اپنے اپنے ملکی و عوامی مسائل پر صیح معنوں میں توجہ مرکوز کرنے اور ان کے حل کیلئے ٹھوس عملی اقدامات اٹھانے میں مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔
پاکستان اور انڈیا کے مابین کشمیر کا مسئلہ بھی ایسا ہی ایک بنیادی مسئلہ ہے کہ اس بنیادی مسئلے کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات باربار کشیدگی کی اس انتہا تک جا پہنچتے ہیں کہ وہ دیگردو طرفہ تصفیہ طلب مسائل پر بات کرنے کو بھی تیار نہیں ہوتے۔ تلخ حقائق یہ ہیں کہ اس مسئلے کی وجہ سے دونوں ممالک اب تک نہ صرف تین بڑی جنگیں لڑ چکے ہیں بلکہ وہ ایک دوسرے کے خلاف پراکسی وارز میں بھی مصروف رہے ہیں۔ اس بنیادی مسئلے کی ہی وجہ سے دونوں ممالک نہ صرف تباہ کن ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہوئے بلکہ عوام کی خون پسینے سے کمائی ہوئی دولت سے وصول کئے جانے والے ٹیکسز کا ایک بھاری حصہ خطرناک آتشیں اسلحے کے انبار لگانے کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ اس حقیقت سے بھی نظریں نہیں چرائی جا سکتیں کہ اس بنیادی مسئلے کی وجہ سے ہونے والی جنگوں اور جاری پراکسی وارز پر اٹھنے والے اخراجات کی وجہ سے دونوں ممالک کی حکومتیں دونوں طرف کے کروڑوں عوام کو غربت کی انتہائی سطح سے نکال کر زندگی کی وہ بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کر پائیں جو مہذب دنیا کی عوام کو حاصل ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک دو طرفہ تعلقات کی راہ میں حائل سب سے اہم مسئلے(مسئلہ کشمیر) کا کوئی درمیانی حل نکالنے کا عزم کرتے ہوئے باہمی تجارت اوردیگر تصفیہ طلب مسائل کے فوری حل کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں۔پاکستان ابھی نندن کی جذبہ خیر سگالی کے تحت رہائی اورکرتار پور کوریڈور کھولنے کو انڈیا سے تعلقات بہتر بنانے کے اقدامات کے طور پر دیکھتا ہے لیکن تعلقات میں بہتری کے لئے انڈیا کا سب سے بڑا مطالبہ کشمیر میں دراندازی بند کرنے کا ہے۔ہم اگر واقعتا ماضی کو دفن کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتے ہیں توہمیں کشمیر کے عسکری حل کی پالیسی کو خیر باد کہتے ہوئے باہمی مذاکرات سے کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ کوششیں کرناہوں گی۔پاکستان اور انڈیا کے کشیدہ تعلقات کی قیمت یوں تو دونوں ملکوں کو چکانی پڑی ہے لیکن انڈیا کے مقابلے میں ہم پر پڑنے والے اثرات بہت تباہ کن ہیں۔30سالوں میں کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں فوج رکھنے کے اخراجات برداشت کرنے کے باوجود انڈیااس وقت دنیا کی چھٹی بڑی معاشی طاقت بن چکا ہے لیکن ہم آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے قرضوں پر معیشت کو بڑی مشکل سے سنبھالا دئیے ہوئے ہیں۔23سالوں تک ہمارے رحم وکرم پر رہنے والا مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بننے کے بعد معاشی نمو اور فی کس آمدنی کے لحاظ سے ہم سے بہت آگے نکل چکا ہے۔اور تو اور اوسط شرح زندگی، پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات میں کمی اور پرائمری ایجوکیشن کے معاملات میں بھی بنگالی ہم سے آگے نکل چکے ہیں۔
بنگلہ دیش کی ترقی کی دیگر اہم وجوہات (سیکولر آئن اورسیاست میں اسٹبلشمنٹ کی مداخلت کی روک تھام) کے علاوہ سب سے اہم وجہ جنگوں سے بچے رہنا ہے۔پاکستان اور انڈیا کے ارباب اقتدار ملکی سطح پر جنگ کا چورن بیچنے والوں کے مشوروں پرکان دھرنے کی بجائے غربت وبدحالی کے خاتمے اورر امن وخوشحالی کو تقویت دینی والی جنگوں کا اہتمام کریں تو دونوں ممالک کے کروڑوں غریب افراد کا معیار زندگی بہتر ہو سکتا ہے۔