امریکی ریاست کولوراڈو میں فائرنگ، پولیس افسر سمیت 10 افراد ہلاک

  • منگل 23 / مارچ / 2021
  • 3090

امریکا کی مغربی ریاست کولوراڈو کے علاقے بولڈر میں ایک مسلح شخص نے سپر مارکیٹ میں فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں جائے وقوع پر پہنچنے والے پہلے پولیس افسر سمیت 10 افراد ہلاک ہوگئے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ ایک ہفتے کے دوران امریکا میں فائرنگ کا دوسرا مہلک واقعہ ہے۔ بولڈر کے کنگ سوپر گروسری اسٹور میں دوپہر 3 بجے فائرنگ شروع کی گئی جس کا مقصد تاحال غیر واضح ہے۔ پولیس نے بھی اس واقعے کی  بہت کم تفصیلات فراہم کی گئیں۔

واقعے کے فوراً بعد قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی جبکہ خریداری کے لیے آئے ہوئے افراد اور ملازمین محفوظ مقام کی جانب بھاگتے نظر آئے۔ بولڈر پولیس کی سربراہ میرس ہیرولڈ نے بتایا کہ حملے کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک ہوئے۔ حملے میں 51 سالہ پولیس افسر بھی ہلاک ہوگئے جو جائے وقوع پر پہنچنے والے پہلے پولیس افسر تھے اور 7 بچوں کے والد تھے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ مسلح شخص کی عوامی طور پر شناخت نہیں کی جاسکی اور وہ بھی اس پر تشدد کارروائی میں زخمی ہوا۔ تاہم پولیس نے اس کے علاوہ مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی۔ جائے وقوع کی ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ باکسر شارٹس پہنے ایک نیم برہنہ شخص کو ہتھکڑی لگا کر اسٹور سے باہر لایا گیا اور اسٹریچر پر لٹا کر ایمبولینس میں داخل کردیا گیا۔ اس کی ٹانگ سے خون بہہ رہا تھا اور وہ لنگڑا کر چل رہا تھا۔

خیال رہے کہ امریکا میں حالیہ عرصے میں فائرنگ کے سب سے بڑے اور خطرناک واقعات کولوراڈو میں رونما ہوئے ہیں۔ پولیس نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ فائرنگ کے واقعے میں کس قسم کا ہتھیار استعمال کیا گیا تاہم 911 ہنگامی سروس پر موصول ہونے والی کالز میں کہا گیا کہ ملزم کے پاس آتشیں اسلحہ ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ہی امریکا کی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا اور ایک نواحی علاقے میں 3 مساج پارلرز میں فائرنگ سے خواتین سمیت 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں سے اکثر ایشیائی نژاد تھے۔ امریکا میں اسلحہ بآسانی دستیاب ہونے کے باعث بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں جس کے باعث انسانی حقوق کی تنظیمیں ہتھیاروں کے قوانین کو مؤثر بنانے کا مطالبہ کرتی ہیں۔

گزشتہ برس نومبر میں امریکی ریاست نیویارک میں رات گئے منعقد پارٹی میں فائرنگ سے 2 افراد ہلاک اور 14 افراد زخمی ہوگئے تھے۔