سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کیلئے جماعت اسلامی پیپلز پارٹی کی حمایت کرے گی

  • منگل 23 / مارچ / 2021
  • 3740

جماعت اسلامی نے سینٹ میں اپوزیشن لیڈر کے لیے سید یوسف رضا گیلانی کی نامزدگی کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی اس رائے سے اتفاق کیا کہ یہ اکثریتی پارٹی کا حق ہے۔

استعفوں اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے بارے میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں اختلافات کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے  سینیٹ کے عہدے کے لیے جماعت اسلامی کی حمایت حاصل کی اور پارٹی کے ساتھ کام کرنے کے لیے مشترکہ بنیادوں پر بھی بات کی۔ ان میں انتخابی اصلاحات، احتساب، الیکشن کمیشن آف پاکستان کی خودمختاری اور امور کشمیر شامل ہیں۔

جماعت اسلامی کے ہیڈکوارٹر میں اپنے پہلے دورے کے بعد امیر سراج الحق کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے اُمید ظاہر کی کہ اگرچہ یہ ان کا پہلا دورہ تھا لیکن یہ یقینی طور پر آخری نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعتوں کے درمیان بات چیت ضروری ہے۔  پیپلز پارٹی کو تاریخ کے کئی دہائیوں پر پھیلے جماعت اسلامی کے سیاسی تجربے سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مسلم لیگ (ن) کا نام لئے بغیر کہا کہ  دونوں پارٹیوں اور شخصیات کے درمیان فرق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ہماری رگوں میں چلنے والا خون کبھی بھی سلیکٹڈ نہیں ہوسکتا ہے جبکہ لاہور کا ایک خاندان تھا جو سلیکٹڈ رہ چکا ہے'۔

بلاول بھٹو زرداری کا اصرار تھا  کیا کہ سینیٹ میں اکثریتی پارٹی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کا حق حاصل ہے۔ پارلیمانی روایت یہی ہے اور ان کا احترام ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ کہا کہ 'جرنیلوں کا احتساب نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے لیے ایک نیا نعرہ ہوگا مگر پیپلز پارٹی کی قیادت کا یہ تین نسلوں پرانا مطالبہ ہے'۔

بلاول بھٹو زرداری نے افسوس کا اظہار کیا کہ لانگ مارچ میں تاخیر ہوئی ہے اور کہا کہ آخر لانگ مارچ کو استعفوں سے جوڑنے کا خیال کس کا تھا؟ اگر ایسا ہی ہے تو جب مارچ کا منصوبہ بنایا گیا تھا تو یہ بات کیوں نہیں اٹھائی گئی؟ پیپلز پارٹی نے لانگ مارچ کے لیے تمام تیاریاں کرلی تھیں اور اس کے لیے تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی تقسیم سے عمران خان کو فائدہ ہوگا۔ غلط فیصلے کرنے والوں کو اپنی رائے اور فیصلے پر غور کرنا چاہئے۔

اس موقع پر سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے سے بات چیت جاری رکھنی چاہئے۔ تب ہی عام آدمی کے مسائل کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔