بھارت خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے: نریندر مودی
- منگل 23 / مارچ / 2021
- 4580
بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستانی عوام کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نے نریندر مودی نے یہ بات یوم پاکستان کے موقعہ پر وزیراعظم عمران خان کے نام لکھے ایک خط میں کہی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’ میں یوم پاکستان کے موقعہ پر میں پاکستان کے عوام کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔‘ انہوں نے پاکستانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’پڑوسی ہونے کی حیثیت سے بھارت پاکستانی عوام کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے۔‘ نریندر مودی کے علاوہ بھارتی صدر رام ناتھ کووند نے علیحدہ خط پاکستانی ہم منصب ڈاکٹر عارف علویٰ کو بھیجا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ بھارتی وزیراعظم اور صدر نے یوم پاکستان کے موقعہ پر تہنیتی پیغام بھجوایا ہے۔ نریندر مودی نے اپنے خط میں وزیراعظم پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ انسانیت کے لیے اس مشکل وقت میں کووڈ 19 سے لڑنے والے پاکستانی عوام اور آپ کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔
بھارتی صدر و وزیراعظم کا یہ تہنیتی پیغام نئی دہلی نے اسلام آباد میں موجود بھارتی ہائی کمیشن کو بھجوایا، جس کے حکام نے کوورنگ لیٹر کے ساتھ سربمہر لفافے میں اسے پاکستانی وزارت خارجہ کے حوالے کیا۔
خیال رہے کہ 30 جولائی 2018 کو عمران خان کے انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد بھارتی وزیراعظم مودی نے انہیں مبارک باد کا ٹیلی فون کیا تھا۔ اس ٹیلی فونک گفتگو میں نریندر مودی نے کہا تھا کہ باہمی معاملات آگے بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کو مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بحالی کی جانب یہ تازہ ترین قدم ہے۔ گزشتہ ماہ دونوں ملکوں کے فوجی سربراہان کے درمیان 2003 کے سیز فائر معاہدے کی پابندی کرنے اعادہ کیا گیا تھا۔ اسی طرح گزشتہ ہفتے وزیراعظم عمران کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی خبر پر نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر انہیں نیک تمناؤں پر مبنی پیغام بھیجا تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان مارچ 23، 24 کو آبی مذاکرات ہو رہے ہیں۔
سفارتی سطح پر ان تمام معاملات کو دونوں ممالک کے درمیان ٹریک ٹو مذاکرات کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ سفارتی ماہرین کے مطابق ان مثبت اقدام میں متحدہ عرب امارات کا کردار ہے تاکہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان چپقلش کم ہو سکے۔ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے 26 فروری کو بھارت کا دورہ کیا تھا اور اپنے ہم منصب جے شنکر سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے ساتھ خطے کی صورت حال پر بھی بات چیت کی گئی۔
اعلیٰ سفارتی حکام کا کہنا ہے دوشنبے میں 30 مارچ کو ہارٹ آف ایشیا وزرائے خارجہ سطح کی کانفرنس ہے۔ پاک بھارت وزرائے خارجہ کی ممکنہ ملاقات سمت کا تعین کر دے گی کہ پاکستان بھارت تعلقات کس طرف جائیں گے۔ ایک اعلیٰ سفارتی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یہاں صرف متحدہ عرب امارات کا کردار نہیں بلکہ امریکہ کا کردار بھی کسی حد تک ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف بھی بیک ڈور رابطوں میں فعال رہے ہیں۔