لاہور ہائی کورٹ نےنیب کو 12 اپریل تک مریم کی گرفتاری سے روک دیا

  • بدھ 24 / مارچ / 2021
  • 4090

لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی گرفتاری روک کر 12 اپریل تک ان کی عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔

بدھ کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے مریم نواز کی درخواست ضمانت پر سماعت کی اور رائیونڈ اراضی کیس میں انہیں دس، دس لاکھ کے دو مچلکے داخل کرنے کا حکم دیا۔ بنچ کے دوسرے رکن جسٹس اسجد جاوید گھرال ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب مریم نواز لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوئیں اور ان کے ہمراہ اُن کے شوہر کیپٹن صفدر اور مسلم لیگ ن رہنما پرویز رشید، مریم اورنگزیب اور رانا ثنا اللہ بپی موجود تھے۔

مریم نواز کے وکلا امجد پرویز اور اعظم نذیر تارڑ نے نشاندہی کی کہ نیب نے مریم نواز کو جاتی امرا لاہور میں 1500 کنال اراضی کے معاملے پر 26 مارچ کو تفتیش کیلئے بلایا ہے۔ وکلا کے مطابق مریم نواز اپنے خلاف تحقیقات کا حصہ بننے کے لیے نیب کے سامنے پیش ہونا چاہتی ہیں تاہم انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ نیب انہیں گرفتار کر لے گی۔ درخواست میں  الزام لگایا گیا کہ مسلم لیگ کو اپوزیشن کی جماعت ہونے کی وجہ سے سیاسی طور پر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور اس لیے مریم نواز کو گرفتاری کا خطرہ ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ نیب کو مریم نواز کی گرفتاری سے روکا جائے۔

مریم نواز چودھری شوگر ملز کیس میں پہلے پی ضمانت پر ہیں اور نیب نے اسی معاملے میں مریم نواز کی ضمانت منسوخی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہوا ہے۔ بنچ نے اس درخواست پر مریم اور وزارت داخلہ کو آئندہ ماہ 7 اپریل کے لیے نوٹس جاری کیے ہوئے ہیں۔

سماعت کے دوران وکلا نے دو رکنی بنچ کو بتایا کہ اس معاملے کی چھان بین سپریم کورٹ کے حکم پر کی گئی اور ایک جے آئی ٹی بھی تشکیل دی گئی۔ وکیل نے بتایا کہ کہ چودھری شوگر ملز کے معاملے پر مریم نواز 48 دنوں تک تفتیش کے لیے نیب کی تحویل میں بھی رہی ہیں۔

سماعت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ نیب کو سیاسی انجینئرنگ کر کے ’عمران خان کی ڈوبتی کشتی‘ کو بچانے کا موقع نہیں دیں گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نیب کو نیب کے علاوہ سب چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر عمران خان گھر نہ جا رہا ہوتا تو نیب کو مریم نواز کو بلانے کی ضرورت نہ پڑتی۔‘