اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین سینیٹ انتخاب کے خلاف یوسف گیلانی کی درخواست مسترد کردی

  • بدھ 24 / مارچ / 2021
  • 4750

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے خلاف اپوزیشن اور پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے یوسف رضا گیلانی کی درخواست پر سماعت کی اور ان کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد درخواست خارج کر دی۔  قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پی پی پی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ یوسف رضا گیلانی کی طرف سے فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیے تھے۔

عدالت میں سینیٹر یوسف رضا گیلانی کے وکیل فاروق ایچ نائیک اور جاوید اقبال پیش ہوئے تھے۔ درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی کے 7 ووٹس مسترد کیے گئے حالانکہ بیلٹ پیپر پر لگائی گئی مہر یوسف رضا گیلانی کے نام پر لگی لیکن اسی خانے کے اندر تھی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پریزائیڈنگ افسر نے کہا کہ ووٹس مسترد کرنے کے میرے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ یہ بتائیں کہ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کس قانون کے تحت ہوئے جس پر فارق ایچ نائیک نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 60 کے تحت چیئرمین سینیٹ کا الیکشن ہوا۔ فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ صدر پاکستان نے سینیٹر مظفر شاہ کو سینیٹ الیکشن میں پریزائیڈنگ افسر مقرر کیا تھا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں الیکشن کمیشن کی کوئی شمولیت نہیں؟ جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ اس میں الیکشن کمیشن کا کوئی کردار نہیں۔ چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ پھر پارلیمان کی اندرونی کارروائی کے استحقاق سے متعلق آئین کے آرٹیکل 69 سے کیسے نکلیں گے۔ کیا پارلیمان کی اندرونی کارروائی عدالت میں چیلنج کی جا سکتی ہے؟

فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ اگر پروسیجر میں کوئی بے ضابطگی ہو تو وہ عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکتی۔ قواعد میں بیلٹ پیپر یا ووٹ سے متعلق کچھ نہیں، رولز اس حوالے سے خاموش ہیں۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم اور چیئرمین سینیٹ کے لیے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی نے فاروق ایچ نائیک کے توسط سے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یوسف رضا گیلانی کے حق میں پڑنے والے ووٹ مسترد کرنے کا فیصلہ غیر آئینی ہے۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں پی ڈی ایم سے تعلق رکھنے والے اراکین کی اکثریت تھی، ناجائز طریقے سے چیئرمین سینیٹ کی سیٹ ہم سے چھینی گئی۔

درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ صادق سنجرانی کو چیئرمین سینٹ بنانے کے لیے 12 مارچ کو جاری کردہ نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ چئیرمین سینیٹ کے انتخابات کو کالعدم قرار دیا جائے اور صادق سنجرانی کو بھی چیئرمین سینیٹ بنانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔