جمہوری قدریں کیا ہوتی ہیں
- تحریر طارق محمود مرزا
- بدھ 24 / مارچ / 2021
- 5250
تیرہ مارچ 2019 کے دن آسٹریلیاکی مغربی ریاست ویسٹرن آسٹریلیا میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوئے جس میں توقع کے مطابق حکومتی پارٹی دوبارہ جیت گئی۔ لیبر پارٹی نے جو وفاق میں حزبِ اختلاف میں ہے اس ریاست میں مسلسل تیسری مرتبہ جیت کر نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔
اس مرتبہ لیبر پارٹی زیادہ اکثریت سے جیتی بلکہ اس نے کلین سویپ کیا کیونکہ اس کی 53 سیٹوں کے مقابلے میں ان کی روایتی حریف اور مرکز میں برسرِ اقتدار لبرل پارٹی کو صرف دو اور نیشنل پارٹی کو چار سیٹیں ملی ہیں۔میرے جو قارئین پاکستان اور دیگر ممالک میں ہیں انہیں آسٹریلیا کی ریاستی انتخابات میں اتنی دلچسپی نہیں ہو گی۔لیکن ان انتخابات کا ذکر کرنے کے چند مقاصد ہیں جن سے بحیثیت مجموعی آسٹریلیا اور دیگر حقیقی جمہوری ملکوں میں جمہوری روایات اور عوام کی سوچ کا اندازہ ہوتا ہے۔
سب سے پہلے تو ویسٹرن آسٹریلیا کے نام کا ذکر ہو جائے۔ یہ آسٹریلیا کی تیسری ریاست ہے جس کا باقاعدہ نام نہیں ہے بلکہ اس کے جٖغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے اسے ویسٹرن (مغربی) آسٹریلیا کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ساؤتھ (جنوبی) آسٹریلیا اور ناردرن(شمالی) علاقے بھی اپنے محل وقوع کے اعتبار سے موسوم ہیں۔ آسٹریلیا کے موجودہ سیٹ اپ کو وجود میں آئے ایک صدی سے زائد گزر چکا ہے لیکن کسی ریاست نے آج تک یہ اعتراض نہیں کیا کہ ہماری ریاست کا کوئی باقاعدہ نام نہیں ہے جیسا کہ پاکستان میں سابق صوبہ سرحد میں کچھ لوگ ہمیشہ یہ اعتراض کرتے رہے اور بالآخر اپنے صوبے کا نام بدل کر رہے۔اب بھی بہت سے افراد اس نام سے مطمئن نہیں ہیں۔ خاص طور پر ہزارہ بیلٹ کے لوگ۔ نہ جانے مستقبل میں اس صوبے کا کیا نام ہو گا کیونکہ ہم غیر مطمئن قوم ہیں خصوصاًً غیر اہم معاملوں میں۔
دوسری بات جس کا میں ذکر کرنا چاہوں گا وہ متذکرہ بالا انتخابات میں ہارنے والی پارٹی کا ردّعمل ہے۔ تیرہ مارچ کی شام پانچ بجے پولنگ کا اختتام ہوا۔ابھی پورے رزلٹ نہیں آئے تھے نہ ہی جیتنے والی یعنی لیبر پارٹی نے اپنی جیت کا علان کیا تھا کہ لبرل پارٹی کے ریاستی رہنما مائک ناہن نے لیبر پارٹی کی جیت کا نہ صرف اعتراف کیا، انہیں مبارک باد دی بلکہ اسے زبردست کامیابی قرار دیا۔انہوں نے اپنی پالیسیوں کی ناکامی کا اعتراف کیا اور انہیں بہتر بنانے کا عزم ظاہر کیا۔ مرکز میں برسرِ اقتدار مخالف پارٹی یعنی لبرل کے وزیرِ اعظم اسکاٹ موریسن نے بھی لیبر پارٹی کو مبارک باد دی اور اسے شاندار کامیابی قرار دیا۔اس امر سے قارئین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جہاں حقیقی اور پائیدار جمہوریت ہوتی ہے وہاں اس کی قدریں ہمارے ہاں سے کیسے الگ ہیں۔
ادھر پاکستان میں ہم نے کسی الیکشن کے نتیجے کو ہم نے آج کر مان کر نہیں دیا اور نہ جیتنے والے کی جیت کو کبھی تسلیم کیا ہے۔ بلکہ اگلے انتخابات تک ان کا تختہ الٹنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ حالانکہ آسٹریلیا میں الیکشن میں ووٹ ڈالنا اگرچہ لازمی ہے لیکن وہاں کسی قسم کی جانچ پڑتال نہیں کی جاتی۔بس نام بتانے پر ووٹ کی تصدیق کی جاتی ہے اور آسانی سے ووٹ کاسٹ ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی دھاندلی کرنا چاہے تو آسانی سے کر سکتا ہے لیکن یہ لوگ اتنے’نالائق‘ ہیں کہ انہیں اس کا خیال تک نہیں آتا۔اسی طرح ووٹ لازمی ہونے کے باوجود اگر کوئی ووٹ نہ ڈال سکے اور اس کی معقول وجہ بتا دے تو اس پر جرمانہ نہیں ہوتا بلکہ اس کی بات پر اعتبار کیا جا تا ہے۔
تیسری بات جو اس الیکشن سے متعلق ہے کہ لیبر پارٹی کی اتنی بڑی جیت کی سب سے بڑی وجہ کرونا پر کنٹرول رکھنے میں اس کی کامیاب پالیسی اور اس پالیسی پر کامیابی سے عمل درآمد ہے۔یوں تو پورے آسٹریلیا میں کرونا پر بڑی خوبی سے قابو پایا گیا مگر ویسٹرن آسٹریلیا نے تو جیسے اس وبا کو قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا اور پوری ریاست میں معمولات زندگی حسبِ سابق طرح جاری و ساری ہیں۔ لوگ بے فکر ہو کر اپنی روزمرہ کی مصروفیات پر عمل پیرا ہیں کیونکہ حکومت نے بارڈر پر اتنی سختی کی ہوئی کہ کوئی مریض صحت مند ہونے سے قبل کسی کے قریب بھی پھٹک سکتا۔ اس کامیاب پالیسی کو عوام نے سراہا اور پہلے سے بھی سیٹوں کے ساتھ لیبر پارٹی کو کامیاب کیا۔ وبا کے اس دور میں کرونا پالیسی حکومتوں کی ترجیحِ اوّل ہے۔ جس نے اس میں غفلت بھرتی جمہوری معاشروں میں عوام اس کا دھڑن تختہ کرنے میں ذرا دیر نہیں کرتے امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ناکامی اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں حکومت اور اپوزیشن دونوں نے عوام کو اس خونی وبا سے محفوظ رکھنے کے لیے اب تک کیا کردار ادا کیا ہے۔ابھی چند لمحے پہلے میں خبروں میں دیکھ رہا تھا کہ سندھ پولیس کے چھ ہزار جوان اور افسر کرونا کا شکار ہو چکے ہیں۔ جہاں قانون پر عمل درآمد کرنے والی فورس کا یہ حال ہے وہاں عوام کی کیا حالت ہوگی۔ کیا ان محکموں میں کوئی حفاظتی قانون قاعدہ نہیں ہے۔ اگر نہیں ہے توحکومت کیا کررہی ہے۔پاکستان میں ان دنوں کرونا کی تیسری لہر خطرناک حد تک تیزی سے پھیل رہی ہے جس کا شکار خود وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ بھی ہو چکے ہیں۔ مگر بازار، دکانیں، شادی ہال، عوامی ٹرانسپورٹ، مساجد، جلسہ گاہ لوگوں سے اٹے ہوئے ہیں۔وبا کے اس موسم میں اپوزیشن جس کا کردار یہ ہونا چائیے کہ حکومت کو سختی کرنے کے لیے کہتی،خود جلسے جلسوں کے ذریعے لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے۔
سیاسی رہنماؤں کا کام یہ ہے حکومت کو درست پالیسی پر عمل پیرا رکھنے کے لیے دباؤ میں رکھیں اور عوام الناس کو آگاہی اور رہنمائی فراہم کریں۔ مگر وہ کرونا اور ویکیسن کا مضحکہ اُڑانے میں لگے ہیں جیسا کہ مولانا فضل الرحمن فرمارہے تھے کہ یہ کرونا شرونا سب مذاق ہے اور ویکسین وغیرہ سب بے کار ہے۔ موجودہ حالات میں کسی پارٹی کے سربراہ کا یہ بیان انتہائی گمراہ کن بلکہ تباہ کن ہے۔قانون پسند ملک میں ایسے بیان کا سختی سے نوٹس لیا جاتا اور انہیں عوام کو گمراہ کرنے کے الزام میں کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا۔اگر لیڈر ایسا کرے گا تو اس کے ماننے والے یقیناً اس کی پیروی کرتے ہوئے لاپرواہی برتیں گے اور اس خونی وبا کا شکار ہو سکتے ہیں۔ وبا پھیلنے سے بے شمار لوگ لقمہ اجل بن سکتے ہیں جیسا کہ آج کل ہو رہا ہے۔
جہاں اصل جمہوریت ہوتی ہے وہاں جمہور کا خیال رکھا جاتا ہے۔ کیا حکومت، ادارے، مذہبی، سماجی اور سیاسی رہنما اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اگر نہیں تو عوام کو خود اپنی حفاظت کا خیال رکھنا چائیے۔ ان بے درد اور ظالم لوگوں کے پیچھے لگ کر اپنے بچوں کو یتیم نہ کریں۔ جلسے جلوسوں میں جاکر اپنی اور اہل خانہ کی جانوں کو داؤ پر نہ لگائیں۔ علما نے بتا دیا ہے وبا میں گھر میں نماز ادا کرنا بالکل جائز بلکہ زیادہ بہتر ہے۔ جب او رجو بھی آپ کو وبا میں کھینچنے کی کوشش کرے اسے اپنا دشمن سمجھیں اور اس کی بات سننے سے انکار کردیں۔ ایک ’نہ‘ میں ہی آپ اور آپ کے خاندان اور پورے معاشرے کی بقا ہے