سپریم کورٹ کا ڈسکہ الیکشن ملتوی کرنے کا حکم

  • جمعرات 25 / مارچ / 2021
  • 5900

سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ کے 10 اپریل کو ہونے والا انتخاب ملتوی کرنے کا حکم  دیا  ہے۔

جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس منیب اختر اور جسٹس سجاد علی شاہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے قومی اسمبلی این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ کیس کی سماعت کے آغاز میں مسلم لیگ (ن) کی امیدوار نوشین افتخار کے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل دیتے ہوئے عدالت میں ضلع ڈسکہ کا مکمل نقشہ پیش کیا۔

سلمان اکرم راجا نے عدالت کو بتایا کہ ڈسکہ شہر میں 76 پولنگ اسٹیشنز ہیں اور ان  میں سے 34 پولنگ اسٹیشنز سے شکایات آئیں اور اس کے علاوہ 20 پریزائڈنگ افسر بھی غائب ہوئے۔  جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ بھی بتایا گیا کہ 10 پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ کافی دیر معطل رہی، سوال یہ ہے کہ پولنگ کے دن کون اور کیوں یہ مسائل پیدا کرتا رہا؟

انہوں نے پوچھا کہ 'کیا ایک امیدوار طاقتور تھا اس لیے دوسرے نے ایسا کیا؟' سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ڈسکہ سے نوشین افتخار کے والد 5 بار منتخب ہو چکے ہیں۔ وہاں ان کے خاندان کا اثرورسوخ زیادہ ہے۔ نوشین افتخار کے ڈسکہ شہر سے 46 ہزار جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار کے 11 ہزار ووٹ تھے، وہاں پولنگ کا عمل متاثر کرنا ان کا مقصد تھا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے تشدد کا آغاز کیا۔ جب ان کا اثرورسوخ زیادہ تھا تو تشدد اور بد امنی پھیلانے کی ضرورت کیوں پڑی؟ آپ کو ثابت کرنا ہے کہ 23 پولنگ اسٹیشن کی شکایت پر پورے حلقے میں دوبارہ انتخابات کیوں ضروری ہیں۔

جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ جب پریزائڈنگ افسر پولنگ اسٹیشنز سے نکلے تو ان کی رخصتی معمول کے مطابق تھی؟ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پریزائڈنگ افسران پولیس کے ساتھ معمول کے مطابق نکلے تاہم ان کی واپسی غیر معمولی تھی۔ وہ اکھٹے آئے اور ڈرے ہوئے تھے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے این اے 75 ڈسکہ میں 10 اپریل کو طے شدہ پولنگ کو روکتے ہوئے کہا کہ موجودہ کیس کے فیصلے میں وقت درکار ہے کیونکہ سلمان اکرم راجا کے دلائل ابھی جاری ہیں۔ نوشین افتخار کے علاوہ باقی فریقین کو بھی سننا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ نئے انتخاب کے لئے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار ہے۔ فی الحال 10 اپریل کو انتخاب کروانے  کا فیصلہ ملتوی کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔