سپریم کورٹ نے پنجاب کے بلدیاتی ادارے بحال کرنے کا حکم دے دیا

  • جمعرات 25 / مارچ / 2021
  • 4180

سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے بلدیاتی ایکٹ کے سیکشن 3 کو آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے پنجاب کے بلدیاتی ادارے بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بلدیاتی انتحابات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب حکومت بلدیاتی انتحابات کرانے کے لیے تیار ہے۔ پنجاب حکومت چاہتی ہے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے تاہم معاملہ ابھی مشترکہ مفادات کونسل میں زیر التوا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا باقی صوبوں میں بلدیاتی انتحاب کب ہورہے ہیں، جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ باقی صوبوں کو مردم شماری پر اعتراضات ہیں۔ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 24 مارچ کوشیڈول تھا مگر وزیراعظم کو کورونا  کی وجہ سے اجلاس 7 اپریل کو ہو گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے مئی میں بلدیاتی انتحاب کر وا دیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا یہ صرف وفاق نہیں صوبوں کا بھی معاملہ ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پنجاب کی بلدیاتی حکومتوں کو کیوں ختم کردیا گیا۔ اس موقع پردرخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پنجاب میں بلدیاتی حکومتوں کی میعاد دسمبر 2021 تک تھی۔

2018 کے عام انتحابات کے بعد پنجاب اور وفاق میں نئی حکومت آئی جس نے بلدیاتی حکومتیں تحلیل کرکے ایک سال میں الیکشن کرانے کا وقت دیا تاہم ایک سال کی مدت گزرنے کے بعد پنجاب حکومت نے نئی ترمیم کی اور پھر آرڈیننس جاری کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے پنجاب کا 2019 کا بلدیاتی قانون چیلنج کیا گیا ہے۔ کیا درخواست گزار چاہتا ہے قانون کے سیکشن تین کو کالعدم کردیا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ اس بات کی کیسے وضاحت دے سکتے ہیں کہ عوام کو منتحب نمائندوں سے دور رکھا جائے۔ آرٹیکل 140 کے تحت قانون بنا سکتے ہیں لیکن ادارے کو ختم نہیں کر سکتے۔ آپ کو کسی نے غلط مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ایک حثیت ہوتی ہے۔ چاہے وہ وفاقی، صوبائی یا بلدیاتی ہو، اختیار میں تبدیلی کر سکتے ہیں اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

چیف جسٹس نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ وجہ بتائیں کہ بلدیاتی حکومت کس قانون کے تحت کیوں ختم کی گئی۔ اور بلدیاتی ادارے اب تک بحال کیوں نہیں ہوئے۔ جس پر حکومت پنجاب کے وکیل قاسم چوہان نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن نہ ہونے کی وجہ کورونا بھی ہے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ وفاقی، صوبائی اور بلدیاتی حکومتوں کو محدود مدت کے لیے ختم کیا جاسکتا ہے لیکن آپ نے عوام کو ان کے نمائندوں سے محروم کر دیا ہے۔ کیا گلگت بلتستان میں انتخابات نہیں ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عوام نے بلدیاتی نمائندوں کو 5 سال کے لیے منتخب کیا اور آپ کو ایک نوٹیفیکشن کا سہارا لے کر انہیں گھر بھیجنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما دانیال عزیز کی درخواست منظور کرتے ہوئے پنجاب کے بلدیاتی اداروں کو بحال کرنے کا حکم دیا۔ قبل ازیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 15 مارچ کو بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت میں صوبائی حکومت کے آرڈیننس کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب حکومت کا بلدیاتی آرڈیننس سپریم کورٹ پر حملہ ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیس کی مزید سماعت کے لیے تین رکنی بینچ تشکیل دینے کا معاملہ چیف جسٹس کو بھجوا دیا تھا۔ اور ہدایت کی تھی کہ رجسٹرار سپریم کورٹ بینچ تشکیل دینے کے لیے فائل جلد از جلد چیف جسٹس کو بھجوائیں۔