شیخ خالد زاہد کے مضامین کا مجموعہ شائع ہوگیا
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعرات 25 / مارچ / 2021
- 7090
سب سے پہلے تو اس فرق کو واضح کرنا پڑے گا کہ ہمارا وجود کا کوئی مقصد ہے یا پھر ہم اسے زمین پر بوجھ تو نہیں بنارہے۔ عقل قدرت کی عطاکردہ نعمت ِعظیم ہے، اسی لئے انسان اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کیا گیا۔ اللہ رب العزت نے انسان کواپنا نائب بنا کر دنیا میں بھیجا۔
کیا یہ انسان کی عظمت کی پہچان کیلئے کافی نہیں۔ انسان کی عقل اپنے خالق کے تابع ہوجائے تو پھر کیا ہی کہنے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ دنیا میں آنے یا بھیجے جانے کا حق ادا ہوگیا۔انسان کی بنیادی معلومات اسے یہ پہچان کروانے کیلئے کافی نہیں ہوتیں کہ وہ دنیا پر بوجھ کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔ یا پھر یہ سمجھ لیجئے کہ کچھ ذی شعور زمین پر اجناس کی بہتات کو کم کرنا اپنی ذمہ داری سمجھ کر جئے جاتے ہیں۔ یہ سب اتنا آسان نہیں کہ آپ پیدا ہوں، دنیا میں گھومے پھریں یا پھر فقط قادر مطلق کی اطاعت کریں اور جس زمین پر بطور بوجھ رہے، اسی میں دفن ہوجائیں۔ کیا انسان ہونے کیلئے یہ سب سے ضروری نہیں کہ مقصد حیات تلاش کیا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خالق کائنات کے فراہم کردہ رہنما اصولوں کے مطابق تلاش کیا جائے۔
سماجی ابلاغ کے دور سے تھوڑا پیچھے چلے جائیں تو ایک افسوس ناک ماحول دیکھائی دیتا ہے۔ انجینئر، ڈاکٹر، قانون دان، معیشت دان وغیرہ بننے والے تادم مرگ اپنے پیشے کی غلامی میں قید لقمہ اجل بنتے رہے۔ یہاں تک کہ جو سپاہ گری سے منسوب ہؤا اور جو سیاسی بازیگر بنا پھر کسی اور طرف دیکھنے کا دل ہی نہیں چاہا۔ شاید چاہ محدود ہونا بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے۔ دنیا داری حقیقت میں معاشیات، سیاسیات، معاشرت، دینیات، اخلاقیات اور دیگر امور کا مرکب ہے۔ جن پر خالق کائنات نے ایک مکمل رہنما اصولوں پر مبنی کتاب اپنے پیارے محبوب ﷺ کے توسط سے رہتی دنیا تک انسانوں کی رہنمائی کیلئے بھیجی ہے۔ اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ماضی میں ہونے والے واقعات پر سے پردہ ہٹا تی ہے، حال کو کیسے گزارنا ہے یہ بتاتی ہے اور مستقبل کو سجانے کے طریقے سکھاتی ہے۔ دنیا کوماضی میں معاشروں کے عروج و زوال کہ اسباب سے آگاہ کرتی ہے اور ان تمام امور پر سے پردہ ہٹا تی چلی جاتی ہے۔
حتمی طور پر یہ کہہ دینا کہ ہم نے یہ جان لیا کہ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے، ٹھیک نہیں ہوگا۔البتہ یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اللہ کی عطاکی گئی صلاحیتیں جب اپنے اظہار کے راستے تلاش کرنے لگیں اور انہیں ان راستوں پر چلنے کا کسی حد تک سلیقہ بھی آجائے، پھر کچھ رازوں سے پردہ اٹھتاہے۔ اس پر قدرت کا شکر ادا کرنا فرض ہوتا ہے۔ شکر وہ سیڑھی ہے جو اوپر کی طرف لے جاتی ہے اور رازوں سے پردے اٹھتے دیکھے جاسکتے ہیں۔
’قلم سے قلب تک‘ میرے متفرق مضامین پر مبنی کتاب کا نام ہے۔ یہ مضامین آپ کے لئے سوچ کے دروازے کھولتے ہیں۔ یہ آپ سے اللہ کی دی ہوئی عقل کو استعمال کرنے کا تقاضہ بھی کریں گے۔ ہم نے لکھنے کو فقط قلم اور قرطاس کی ہم آہنگی نہیں سمجھا،نا ہی کبھی قلم کو پابند ِ عنوان رکھا۔سوچوں کے دھارے جدھر جدھر لے جاتے رہے اور جو کچھ دیکھتے رہے،قلم کسی پرنٹر کی طرح کاغذ پر نمایاں کرتا چلا گیا ہے۔ اب یہ کتاب آپ کے ہاتھ میں ہے، آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا یہ سب کچھ جو اس کتاب میں لکھا ہے، ضروری تھا۔
امید کرتا ہوں کہ آپ قیمتی رائے ہمیں لازمی موصول ہوگی۔ کتاب کے اشتہار پر کتاب کی دستیابی کا پتہ یا نمبر آویزاں ہے۔کتاب کے پبلشر ساجد فاضلی صاحب کا تعاون ہمارے لئے باعث راحت رہا۔ کیونکہ ہمارے سوالوں نے یقینا انہیں پریشان تو کیا ہوگا لیکن انہوں نے کبھی اس روئیے کو ہمارے ساتھ تعلق میں حائل نہیں ہونے دیا۔ اللہ تعالی ہم سب کیلئے آسانیاں فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔