پاکستان نے مجبوری میں جنگ بندی معاہدہ کیا: بھارتی آرمی چیف
- تحریر بی بی سی اردو
- جمعہ 26 / مارچ / 2021
- 9920
بھارتی فوج کے سربراہ جنرل منوج مکند نراو نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ جنگ بندی معادہ سے واضح ہؤا ہے کہ انہین ایک ہی حکمت عملی جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہؤا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ جنگ بندی معادہ کے بعد سے ایک او سی پر ایک گولی بھی فائر نہیں ہوئی۔
جنرل منوج مکند نراونے گزشتہ ماہ دونوں ملکوں میں سیزفائر معاہدے پر ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی حکمت عملی بار بار دہرا کر مختلف نتائج کی توقع درست نہیں ہے اور مختلف حکمت عملی اپنا کر کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ وہ انڈیا کے مشہور میڈیا ہاؤس ٹائمز ناؤ کے زیر اہتمام ایک سیمنار میں گفتگو کررہے تھے۔
دونوں ممالک کی فوج کے ڈی جی ایم اوز نے فروری میں 2003 کے سیز فائر کے معاہدے کی تحت جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ انڈین آرمی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ معاہدے کے بعد گزشتہ پانچ چھ برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ لائن آف کنٹرول پر خاموشی ہے۔ 'مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اس معاہدے کے بعد سے اب تک لائن آف کنٹرول پر ایک گولی بھی نہیں چلی ہے۔'
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ دونوں ملکوں کو ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنا ہو گا۔ اس پر جنرل منوج نے کہا کہ کافی عرصے سے سرحد پار سے کوئی فائرنگ نہیں ہوئی نہ ہی سرحد پر دخل اندازی کی کوئی کوشش کی گئی ہے۔ 'اس کا مطلب سرحد پار سے دخل اندازی کی کوئی کوشش نہیں ہے۔ مستقبل میں اس معاہدے کی پاسداری پر پرامید رہنے کی یہ ایک بڑی وجہ ہے۔' گزشتہ کئی برسوں سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی خلاف ورزیوں کے واقعات وقتاً فوقتاً پیش آتے رہتے ہیں اور دونوں ممالک سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں۔
اس سوال پر کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہے کیا، جنرل منوج مکند نراونے کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ایک طویل عرصے سے اس سلسلے میں بات چیت کر رہے تھے لیکن بدقسمتی سے اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ فیصلہ پاکستان نے مجبوری کے تحت کیا ہے۔
'میرے خیال میں ان کے اپنے چند اندرونی مسائل تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ آپ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ آپ جو حکمت عملی استعمال کر رہے ہیں اس کا کوئی فائدہ بھی ہے یا نہیں۔ اتنے برسوں کے دوران پاکستان کو یہ محسوس ہوا ہے کہ اب اس حکمت عملی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور اسی وجہ نے انہیں سرحد پر سیز فائر کے لیے قدم بڑھانے پر مجبور کیا ہے۔'
جنرل منوج نے دعوی کیا کہ پاکستان میں اب بھی دہشت گردوں کے نیٹ ورک اور لانچ پیڈ موجود ہیں۔ 'دہشت گرد آج بھی وہاں موجود ہیں اور اس میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ اس وقت یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ معاہدہ قائم رہے گا۔' جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان نے یہ معاہدہ مجبوری کے تحت کیا ہے تو انہوں نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسا بالکل ممکن ہے لیکن اس کے لیے ہمیں تحمل سے جائزہ لینا ہو گا۔ 'جب برف پگھلے گی اور راستے کھلیں گے اور اگر پھر صورتحال ایسے ہی پر امن رہتی ہے تو یہ مستقبل کے لیے خوش آئند ہے لیکن اس کے لیے ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔'
انڈین فوج کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی صورتحال، 'ایف اے ٹی ایف کی پابندیوں کی لٹکتی تلوار' اور ملک کے اندرونی حالات کے باعث مجبور ہے۔ دونوں ممالک کے مابین پیش رفت اور دیگر شعبوں میں ہونے والے مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کی افواج کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہونے والا معاہدہ صرف عسکری سطح پر ہے اور ہم نے دیگر معاملات پر کوئی بات نہیں کی ہے۔
'ان کے بنیادی مسائل کیا ہیں، میں اس پر بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں لیکن جہاں تک ہمارے بنیادی نکات کی بات ہے تو وہ یہ ہیں کہ انہیں دہشتگردی اور دہشتگردوں کی حمایت چھوڑنا ہوگی اور جب تک وہ ایسا نہیں کرتے معاملات معمول پر نہیں آ سکتے۔' جنرل منوج مکند نراونے نے دعوی کیا کہ انڈیا نے پاکستان میں جن جن مراکز کی نشاندہی کی ہے، وہ اب بھی قائم ہیں اور انڈین فوج کے پاس ان کی تفصیلی معلومات ہیں۔
'ہمارے پاس ان مراکز کی تمام تفصیلی خفیہ معلومات ہیں۔ ان کیپموں کی لوکیشن، وہاں موجود افراد کی ممکنہ تعداد، وہاں دہشتگردی کی تربیت حاصل کرنے والے افراد کی تفصیلات۔ اسی لیے میں نے آپ سے کہا ہےکہ ہمیں ان پر نظر رکھنا اور انتظار کرنا ہو گا۔'
معاہدے کی پاسداری کرنے پر پاکستان کی سنجیدگی کے بارے میں سوال پر جنرل منوج مکند نراونے کا کہنا تھا کہ پاکستان کو سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرنا ہو گی، اپنے ملک میں موجود دہشتگردی کے کیپموں کو ختم کرنا ہوگا۔ یہی انڈیا کا بنیادی مطالبہ ہے۔ اور 'ڈرونز کے ذریعے لائن آف کنٹرول کے علاقے اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں گولہ بارود پھینکنے کو بھی روکنا ہو گا۔'
کشمیر کے بارے میں کیے گئے سوالات پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں نوجوانوں کے بندوق اٹھانے اور انتہاپسندی کے راستے پر جانے کے رحجان پر تشویش ہے۔ 'ہم وہاں کے مقامی لوگوں کے دل جیتنے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف پروگرام جاری ہیں جن کے ذریعے ہم ان کا اعتماد جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور یہ سب انہیں ریاست جموں کشمیر سے باہر روزگار اور تعلیم کے مواقع مہیا کر کے انہیں بندوق کلچر سے دور کرے گا۔'
اسی سیشن میں انڈیا اور چین کے سوالات پر ان کا کہنا تھا کہ شمالی بارڈر اور لداخ پر کشیدگی تھی تاہم دونوں ملک اس سلسلے میں مذاکرات کے متعدد دور کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 'میں یہ کہوں گا کہ اس عمل میں نہ صرف ہم نے عسکری سطح پر مذاکرات کیے بلکہ سیاسی و سفارتی سطح پر بھی بات چیت جاری رہی۔ میں کہوں گا کہ خطرہ ضرور ٹلا ہے مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔